حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد علم الهدی نے آج 21 مارچ 2026 کو نماز عید سعید فطر کے دوسرے خطبے میں کہا کہ ہم نے نماز کے قنوت میں عرض کیا کہ اے اللہ! تو نے اس دن کو اپنے پیغمبرؐ کے لیے ذخیرہ، شرافت اور کرامت کا ذریعہ قرار دیا ہے اور ان کی عظمت میں اضافہ مقدر فرمایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عید فطر جیسے عظیم شعائر، رسول اکرم (ص) کی شان و عظمت کی نشانی ہیں اور اسلام کی ترقی کا سبب بنتے ہیں۔ اس سال ہمارے دینی معاشرے میں پیغمبر اسلام (ص) کی عظمت کے مزید مظاہر سامنے آئے، جن میں ایک طرف آپؐ کی شان و جلالت کا اظہار ہوا اور دوسری طرف دشمنوں کی ذلت و رسوائی نمایاں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم نے عالمی سطح پر پیغمبر اکرم (ص) کی کرامت کا ایک اور مظہر بھی دیکھ لیا ہے۔ اسلامی انقلاب کی بنیاد دو اصولوں پر قائم تھی: امام خمینیؒ کا استکبار کے خلاف جدوجہد اور امریکہ کی ولایت دشمنی۔ ابتدا ہی سے امریکہ نے امامؒ کے خلاف ہر مشکل میں کردار ادا کیا۔
آیت اللہ علم الهدی نے کہا کہ اس دشمنی کا پہلا مظہر "کاپیٹولیشن" کا قانون تھا، جس کے تحت امریکی مشیروں کو عدالتی استثنا دیا گیا، مگر امام خمینیؒ نے اس کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی استکبار کے خلاف جدوجہد کے اثرات نمایاں رہے، جیسے امریکیوں کا ایران سے انخلا اور جاسوسی کے اڈے (سفارتخانے) پر قبضہ، جسے امام خمینیؒ نے امریکہ کے منہ پر طمانچہ قرار دیا اور دنیا بھر میں یہ حقیقت اجاگر کی کہ امریکہ " بڑا شیطانِ " ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ اپنی زندگی بھر استکبار کے خلاف مزاحمت پر زور دیتے رہے، اور بعد ازاں قیادت کی دانشمندانہ رہنمائی میں یہ فکر عالمی سطح پر پھیل گئی۔ حزب اللہ، انصار اللہ اور دیگر مزاحمتی تحریکوں نے بھی اسی راستے کو اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۳۶ برسوں میں امریکہ نے ایران کے خلاف متعدد سازشیں کیں، مگر اعلیٰ قیادت کی حکمت عملی سے وہ سب ناکام ہو گئیں۔ آج بھی ایران کی دفاعی قوت نے امریکہ کو خطے میں کمزور اور رسوا کر دیا ہے۔
آیت اللہ علم الهدی نے کہا کہ اگر حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ولایت دشمنی میں ناکام رہا جبکہ ہم استکبار کے خلاف کامیاب ہوئے ہیں، اور آج یہ فکر عالمی سطح پر پھیل چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہر مسلمان ہمارے شہید رہبر کے غم میں شریک ہے۔ ماضی میں امریکہ ایک بڑی طاقت تھا، مگر آج اس کی حیثیت کمزور ہو چکی ہے اور اس کی فوجی طاقت کا رعب بھی ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس جدوجہد کا ایک ہی نتیجہ نکلے کہ دنیا امریکہ کی طاقت کو تسلیم کرنا چھوڑ دے، تو یہی بڑی کامیابی ہے۔ آج امریکہ اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عالمی حیثیت اب کئی قوموں کے نزدیک ایک افسانہ بن چکی ہے، اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود یہ جدوجہد جاری رہے گی اور ان شاء اللہ امریکہ کی مکمل شکست تک پہنچے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے نوجوان میدان میں جانے کے لیے تیار ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو شہداء کے راستے کو جاری رکھیں گے۔ اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو کامیابی یقینی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اللہ، اس کے انبیاء اور قرآن نے وعدہ کیا ہے کہ جو اللہ کی مدد کرے گا، اللہ اس کی مدد کرے گا۔ حزب اللہ اور جند اللہ کے عنوان سے میدان میں موجود افراد اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اور ہم دشمن کو مزید ذلیل کریں گے اور اس کے خاتمے تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔









آپ کا تبصرہ