بدھ 26 اگست 2026 - 16:37
امام خمینیؒ کے نظریۂ وحدت نے عالمِ اسلام میں ایک اہم سیاسی شعور کو بیدار کیا

حوزہ/شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی نے عید میلاد النبی اور ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے امام خمینی کا نظریۂ ہفتۂ وحدت، سیرتِ طیبہ کی روشنی میں وحدت کی بنیادی اقدار، خواتین کا وحدتِ اسلامی کے فروغ میں کردار اور ہفتۂ وحدت کو مستقل علمی و تربیتی تحریک بنانے کے لیے مدارس، جامعات اور میڈیا کی مشترکہ حکمتِ عملی کے عنوان پر حوزہ نیوز سے گفتگو کی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی نے عید میلاد النبی اور ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے امام خمینی کا نظریۂ ہفتۂ وحدت، سیرتِ طیبہ کی روشنی میں وحدت کی بنیادی اقدار، خواتین کا وحدتِ اسلامی کے فروغ میں کردار اور ہفتۂ وحدت کو مستقل علمی و تربیتی تحریک بنانے کے لیے مدارس، جامعات اور میڈیا کی مشترکہ حکمتِ عملی کے عنوان پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کی ہے۔

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی کی ہفتۂ وحدت کے موقع پر حوزہ نیوز سے خصوصی گفتگو: امام خمینیؒ کے نظریۂ وحدت نے عالمِ اسلام میں ایک اہم سیاسی شعور کو بیدار کیا

گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں پیش خدمت ہے:

حوزہ:امام خمینیؒ کے نظریۂ وحدت سے عالم اسلام اور عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی: امام خمینیؒ کا نظریۂ وحدت، محض 12 سے 17 ربیع الاوّل کی تاریخوں کو یکجا کرنے یا ایک مذہبی تقریب منعقد کرنے کا تصور نہیں تھا، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کو تمام تر فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ شعور، مشترکہ مفاد اور مشترکہ مقصد کی طرف لانے کا ایک فکری و سیاسی منصوبہ تھا۔

امام خمینیؒ نے یہ پیغام دیا کہ مسلمانوں کے درمیان فقہی اور مسلکی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ان کے درمیان موجود مشترکات کہیں زیادہ وسیع، بنیادی اور مضبوط ہیں؛ یعنی قرآنِ حکیم، رسولِ اکرم، قبلہ، توحید، امت اور مشترکہ انسانی و اخلاقی اقدار۔

اس تصور نے عالمِ اسلام میں ایک اہم سیاسی شعور کو تقویت دی کہ اگر مسلمان اپنے باہمی نظریاتی اور مسلکی اختلافات کو باہمی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اپنے مشترکہ مسائل اور مشترکہ مفادات پر متحد ہو جائیں تو وہ عالمی سطح پر ایک زیادہ مؤثر اور باوقار آواز بن سکتے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ، مسلم دنیا کی خودمختاری، استعمار سے آزادی، علمی و معاشی پسماندگی کا خاتمہ اور سماجی انصاف جیسے مسائل اسی اجتماعی شعور سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

تاہم، میرے نزدیک آج کے دور میں اس نظریے کی سب سے اہم معنویت یہ ہے کہ وحدتِ اسلامی کو محض سیاسی اتحاد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے فکری، اخلاقی اور تہذیبی اتحاد کی بنیاد بنایا جائے! کیونکہ ایک مضبوط امت وہ نہیں جس میں اختلاف نہ ہو؛ بلکہ مضبوط امت وہ ہے جو اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو اپنی ہی امت کا حصہ سمجھنے کا حوصلہ اور شعور رکھتی ہو۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اسلام سیاست کو دین سے الگ اور غیر متعلق شعبہ نہیں سمجھتا۔ اسلام فرد کی اخلاقی و روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اجتماعی، سیاسی اور انسانی معاملات کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے دینی وحدت اور اجتماعی و سیاسی شعور ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

آج اگر ہم عالمی سیاست کا جائزہ لیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں اپنی جگہ، لیکن اسلامی اخوت کا رشتہ ان سرحدوں سے کہیں وسیع ہے۔ ہم پاکستان میں بیٹھ کر ایران، فلسطین، لبنان یا دنیا کے کسی بھی خطے میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں، ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور ان کے درد کے ساتھ قلبی و انسانی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔

ہم ہر مسئلے کا عملی حل اپنے ہاتھ سے فراہم نہیں کر سکتے، لیکن وحدتِ اسلامی کا شعور ہمیں کم از کم اتنا ضرور سکھاتا ہے کہ ہم بے حسی اختیار نہ کریں؛ ان کے دکھ کو محسوس کریں، ان کے مسائل کو سمجھیں، ان کے لیے اپنی آواز بلند کریں، علمی و انسانی سطح پر جہاں ممکن ہو کردار ادا کریں اور جہاں ہماری عملی رسائی محدود ہو، وہاں بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا دراز کریں۔

در اصل، یہی ہفتۂ وحدت کا حقیقی پیغام ہے کہ امت کا درد جغرافیائی سرحدیں نہیں دیکھتا، قوم و مسلک اور ثقافت کی تفریق کا پابند نہیں ہوتا۔ اگر ہم ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے لگیں تو یہی احساسِ اخوت آگے چل کر ایک مضبوط فکری، اخلاقی اور اجتماعی وحدت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

حوزہ: وحدتِ امت کا تصور سیاسی نہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ آپ کے نزدیک قرآنِ کریم اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں وحدت کی وہ بنیادی اقدار کون سی ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی کی ہفتۂ وحدت کے موقع پر حوزہ نیوز سے خصوصی گفتگو: امام خمینیؒ کے نظریۂ وحدت نے عالمِ اسلام میں ایک اہم سیاسی شعور کو بیدار کیا

سیدہ عنبر فاطمہ عابدی: وحدتِ امت کسی سیاسی مصلحت کا نام نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیم ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"

اسلامی وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلمان ہر معاملے میں ایک ہی رائے رکھیں؛ وحدت یکسانیت نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود اخوت، احترام اور مشترکہ مقصد پر قائم رہنے کا نام ہے۔

آج ہمیں بالخصوص چند اقدار کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے:

اخوت: دوسرے مسلمان کو حریف نہیں، اپنا بھائی سمجھنا

احترامِ اختلاف: اختلافِ رائے کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل نہ کرنا

عدل و انصاف: اپنے اور مخالف، دونوں کے لیے حق اور انصاف کو مقدم رکھنا

حسنِ اخلاق و گفتگو: خصوصاً سوشل میڈیا پر اشتعال، تحقیر اور نفرت کے بجائے تحمل اور شائستگی اختیار کرنا

مشترکہ ذمہ داری: تعلیم، غربت، جہالت، انسانی حقوق اور مظلوم مسلمانوں کے مسائل کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھنا

سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں میثاقِ مدینہ ہمیں یہ عملی سبق دیتا ہے کہ مختلف شناختوں کے باوجود مشترکہ اصولوں اور باہمی حقوق کی بنیاد پر ایک مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ گویا، وحدت کا اصل چیلنج اختلاف ختم کرنا نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے۔ ہمیں ایسے معاشرے کی تشکیل سازی کرنی ہے جہاں اختلاف ہو مگر نفرت نہ ہو، تنوع ہو مگر تقسیم نہ ہو، اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنا سمجھے۔

حوزہ: سماج میں فکری اور تہذیبی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ ایک خاتون استاد اور دانشور کی حیثیت سے بتائیں کہ خواتین اور خصوصاً طالبات وحدتِ اسلامی اور بین المسالک مکالمے کے فروغ میں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟

ڈاکٹر عنبر فاطمہ عابدی: میں سمجھتی ہوں کہ اس ذیل میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وحدتِ اسلامی کی اہمیت و افادیت سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے وہ نا صرف بطورِ شریکِ محفل رہیں، بلکہ خود کو انفرادی و اجتماعی سطح پر وحدت اسلامی اور بین المسالک مکالمے کے لیے بطورِ فعال سفیر اور فکری رہنما اپنی فکری کردار سازی پر توجہ دیں۔ خصوصاً طالبات، اپنی علمی، سماجی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے ذریعے اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ایک معلمہ کی حیثیت سے میرا یقین ہے کہ ایک باشعور طالبہ صرف اپنے گھر کو نہیں، بلکہ آئندہ نسلوں کی فکر و کردار کو بھی تشکیل دیتی ہے۔ وہ مختلف مکاتبِ فکر کے علمی مؤقف کا مطالعہ، مکالماتی نشستوں میں شرکت، مشترکہ سماجی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پر مثبت و مدلل گفتگو کے ذریعے بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا کی افادیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے، تحقیقی و علمی نشر و اشاعت پر بھی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم طالبات اور خواتین کو اختلاف رائے سے خوفزدہ اور پریشان ہونے کے بجائے اختلاف کو سمجھنے اور احترام کے ساتھ مکالمہ کرنے اور اپنا نکتہ نظر اثر انگیزی کے ساتھ مخاطبین تک پہنچانے کی تربیت دیں۔ اس حوالے سے ٹریننگ ورک شاپس اور مختلف تربیتی نشستوں کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے یہ اس لیے اہم ہے کہ ایک باشعور خاتون ایک نسل کی تربیت کرتی ہے اور ایک باشعور طالبہ ایک پُرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

حوزہ: ایک طرف فرقہ وارانہ اختلافات اور ایک طرف وحدت کی تقریبات؛ آپ کے نزدیک نظریۂ وحدت کو ایک مستقل علمی و تربیتی تحریک بنانے کے لیے مدارس، جامعات، علمی مراکز اور میڈیا کو کس نوعیت کی مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے؟

اسسٹنٹ پروفیسر آف لاء یونیورسٹی کراچی: ہفتۂ وحدت سے گویا یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم وحدت اسلامی کو محض کچھ مخصوص دنوں میں منعقد ہونے والی تقریب سمجھتے ہیں؛ ایک مسلسل عمل نہیں۔ ہفتۂ وحدت کو چند روزہ سرگرمیوں کے بجائے سال بھر جاری رہنے والی علمی و تربیتی تحریک بنانا ہوگا۔

اس ضمن میں، جامعات میں، سیرت چیئر کی طرح، وحدت اسلامی چیئر کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

جس کے بنیادی مقاصد یہ ہوسکتے ہیں:

قرآن و سیرت کی روشنی میں وحدتِ امت پر تحقیق و تعلیم

بین المسالک مکالمے، رواداری اور باہمی احترام کا فروغ

جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں کے درمیان علمی اشتراک

طلبہ، خواتین اور نوجوانوں میں اخوت، برداشت اور مثبت مکالمے کی تربیت

نفرت و انتہاپسندی کے مقابلے میں علمی اور مثبت بیانیے کی تشکیل

وحدتِ اسلامی کو مسلسل علمی و تربیتی تحریک بنانا

اسلامی اقدار، قانون، آئین، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے باہمی تعلق پر تحقیق

مرکزی مقصد: اختلاف کے باوجود احترام، مکالمے اور امت کی مشترکہ شناخت کو فروغ دینا

مزید یہ کہ جامعات اور مدارس میں مستقل بین المسالک مکالماتی فورمز قائم کیے جائیں، مشترکہ تحقیقی منصوبے اور مطالعاتی نشستیں منعقد ہوں، جبکہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مثبت، مدلل اور مؤثر مکالمے کو فروغ دیا جائے۔ اس پورے عمل میں خواتین اور نوجوانوں کو مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔

ہر سال صرف تقریبات کی تعداد نہیں

بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ کتنے مکالمے ہوئے؟

کتنے مشترکہ تحقیقی منصوبے بنے؟

اور نفرت کے بجائے رواداری کے کتنے نئے مواقع پیدا ہوئے؟

ہفتۂ وحدت کا مقصد ایک ہفتہ منانا نہیں، بلکہ پورا سال ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اختلاف ہو مگر نفرت نہ ہو، تنوع ہو مگر تقسیم نہ ہو اور مسلکی شناخت کے ساتھ امت کی مشترکہ شناخت بھی زندہ رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha