جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 13:21
حضرت زینبؑ کی سیرت سے معاشرے میں زینبی روح پیدا کریں: مولانا سید نقی مہدی زیدی

حوزہ/ تاراگڑھ اجمیر میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تقوائے الٰہی اور بچوں کی دینی و عبادی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کی ذمہ داری صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ انہیں اپنے اہل و عیال کی ہدایت اور دینی تربیت کے لیے بھی مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے حوالے سے آپ کی سیرت، کردار اور پیغامِ کربلا کو بھی اجاگر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھوٹوں کے حقوق بیان کیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے روایت کے اس حصے کی وضاحت کی جس میں چھوٹوں پر رحم، ان کی تربیت و تعلیم، ان کی لغزشوں سے درگزر، ان کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنے اور ان کی رہنمائی کرنے پر تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے بچوں کی عبادی تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب بچوں کو عبادات کا طریقہ سکھانا اور ان کے اندر بندگیِ خدا کا ذوق و شوق پیدا کرنا ہے، تاکہ وہ نماز اور دیگر عبادات کے پابند بن سکیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو نماز کی تعلیم دینے اور انہیں عبادت سے مانوس کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔

مولانا سید نقی مہدی زیدی نے سورۂ تحریم کی آیت نمبر 6 کی تلاوت کرتے ہوئے ارشادِ خداوندی «قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا» کا حوالہ دیا، جس میں اہلِ ایمان کو اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس حفاظت کا مطلب صرف خطرات سے براہِ راست بچانا نہیں، بلکہ ان اسباب و عوامل سے محفوظ رکھنا بھی ہے جو انسان کو عذابِ الٰہی تک پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح محرمات کا ارتکاب انسان کو عذاب کا مستحق بنا سکتا ہے، اسی طرح واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی بھی اس کی نجات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ لہٰذا بچوں کو نماز اور دیگر واجبات کی تعلیم دینا، انہیں دعا و مناجات سے آشنا کرنا اور ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی بندگی کا شوق پیدا کرنا، انہیں جہنم سے بچانے کے اہم مصادیق میں شامل ہے۔

خطیبِ جمعہ نے مزید کہا کہ بعض اوقات گھر کا سربراہ خود نماز کا پابند اور دیندار ہوتا ہے، لیکن اپنے بچوں یا شریکِ حیات کی دینی غفلت پر خاموش رہتا ہے۔ اسی طرح بعض والدین اپنی دینی ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہیں، مگر اولاد کی دینی تربیت اور حجاب جیسے امور پر مناسب توجہ نہیں دیتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام انسان کو اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے خاندان کی ہدایت و تربیت کی کوشش کرنے کا بھی پابند بناتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت بیان کی کہ جب ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ انہیں ان امور کا حکم دو جنہیں اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ان کاموں سے روکو جن سے منع کیا ہے۔ اگر وہ اطاعت کریں تو تم نے انہیں بچا لیا، اور اگر نافرمانی کریں تو تم اپنی ذمہ داری ادا کر چکے ہوگے۔

مولانا سید نقی مہدی زیدی نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایک دوسری روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان پر لازم ہے کہ جس طرح اپنے نفس کو نیکی کی تلقین کرتا ہے، اسی طرح اپنے اہل و عیال کو بھی نیکی کی دعوت دے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اہلِ ایمان اپنی دینی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہوں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے اپنے خاندان کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیں۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت اور پیغامِ کربلا

خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں مولانا سید نقی مہدی زیدی نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 5 جمادی الاولیٰ آپ کی ولادت کی مناسبت سے منائی جاتی ہے۔ آپ نے واقعۂ عاشورا کے بعد علمِ ولایت کو بلند رکھا اور امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو زندہ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف پیغامِ کربلا کی حفاظت کی، بلکہ اپنے خطبات، استقامت اور بے مثال کردار کے ذریعے حق و باطل اور ظلم و مظلومیت کے درمیان فرق کو بھی نمایاں کیا۔ آج بھی واقعۂ عاشورا کا پیغام دنیا بھر میں مظلوموں کے دفاع اور ظلم کے خلاف استقامت کی علامت ہے۔

مولانا سید نقی مہدی زیدی نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مقدس نام سے توسل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مرحوم میرزا ابوالقاسم قمی کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اس عظیم ہستی کے اسمِ مبارک سے توسل کیا کرتے تھے اور اسے قبولیتِ دعا کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت کا جشن منانے کے دو اہم پہلو ہیں: پہلا یہ کہ اس عظیم خاتون کے بلند مقام اور بے مثال کردار کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے اور آپ کو معاشرے کے لیے ایک روحانی و اخلاقی نمونے کے طور پر متعارف کرایا جائے؛ دوسرا یہ کہ معاشرے میں زینبی روح، جرأت، وفاداری، صبر اور حق گوئی کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت محض عقیدت و محبت کا موضوع نہیں، بلکہ زندگی کے مختلف میدانوں میں حق کی حمایت، ذمہ داری کی ادائیگی اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا عملی درس بھی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha