حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کے بعد حسب سابق امام حسن عسکری علیہ السّلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے تمہارے ساتھ برائی کرنے والے کے حق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: وَ أَمّا حَقّ مَنْ سَاءَكَ الْقَضَاءُ عَلَى يَدَيْهِ بِقَوْلٍ أَوْ فِعْلٍ فَإِنْ كَانَ تَعَمّدَهَا كَانَ الْعَفْوُ أَوْلَى بِكَ لِمَا فِيهِ لَهُ مِنَ الْقَمْعِ وَ حُسْنِ الْأَدَبِ مَعَ كَثِيرِ أَمْثَالِهِ مِنَ الْخَلْقِ فَإِنّ اللّهَ يَقُولُ وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولئِكَ ما عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ إِلَى قَوْلِهِ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ وَ قَالَ عَزّ وَ جَلّ وَ إِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصّابِرِينَ هَذَا فِي الْعَمْدِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَمْداً لَمْ تَظْلِمْهُ بِتَعَمّدِ الِانْتِصَارِ مِنْهُ فَتَكُونَ قَدْ كَافَأْتَهُ فِي تَعَمّدٍ عَلَى خَطَإٍ وَ رَفَقْتَ بِهِ وَ رَدَدْتَهُ بِأَلْطَفِ مَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ وَ لا قُوّةَ إِلّا بِاللّهِ،جس نے اپنے قول و فعل سے تمہارے ساتھ برائی کی ہے اس کا حق یہ ہےکہ اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو بہتر یہی ہے کہ اس سے درگزر کرو تاکہ کدورت ختم ہوجائے اور اس طرح کے لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤاس لئے کہ خداوند عالم فرماتا ہے: جس نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا انتقام لیا تو اس پر کوئی الزام نہیں۔(یہاں تک کہ فرمایا:) یہ صحیح کام ہے۔ پھر ارشاد ہوا: اگر سزا دو تو اتنی ہو جتنا تم کو نقصان پہنچا ہے او راگر صبر کرلو اور درگزر کرو تو صبر کرنے والوں کے لئے یہی بہتر ہے۔ یہ عمدا اور جان بوجھ کر بدی کرنے والے کے لئے تھا۔
لیکن اگر کسی نے تمہارے ساتھ جان بوجھ کر برائی نہ کی ہو تو تم بھی جانتے بوجھتے ہوئے بدلہ لینے میں اس پر ظلم نہ کروورنہ جان بوجھ کر برائی کے ذریعہ بدلہ لینے میں تم خطا کار قرار پاؤ گے بلکہ جہاں تک ہوسکے اس کے ساتھ نرمی و پیار و محبت سے پیش آؤ۔
انہوں نے مزید کہا کہ: اس حق کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تمہارے ساتھ کسی نے بدتمیزی کی ہے تو اس کی دو ہی صورتیں ہیں، یا جان بوجھ کر کی ہے تو بہتر ہے کہ اسے معاف کر دو بشرطیکہ وہ معافی سے غلط فائدہ نہ اٹھائے۔۔ لیکن اگر غلطی سے بدتمیزی کی ہے اور تم اسے سزا دینا چاہتے ہو تو یہ غیر عمدی فعل کے مقابلہ میں عمدی ہوگی، بہتر ہے کہ لطف و مہربانی کے ساتھ اس کی غلطی کو معاف کر دو، اگر ہر آدمی یہ طے کرلے کہ اسے جب بھی موقع ملے گا اس وقت اس کا انتقام لے گا تو یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جائے گا اور روزانہ اس میں شدت پیدا ہوتی چلی جائے گی کیونکہ انتقامی حملوں پر کمیت و کیفیت کے لحاظ سے قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ جو حملہ ردعمل کے طور پر ہوتا ہے اس میں زیادہ شدت ہوتی ہے، اگر ہم صحیح طریقہ سے تحقیق و تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انتقام لینے میں انتقام لینے والے کیلئے کوئی چیز ایسی نہیں ہوتی جس کو عقل صحیح قرار دیتی ہو، صرف وقتی طور پر اسے ایک تسکین ہو جاتی ہے اور کبھی ایک خیالی برتری مل جاتی ہے جبکہ عفو و درگزر کرنے میں حقیقی سکون و آرام حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی منابع خصوصاً قرآن آن میں اس موضوع کی طرف لطیف اشارہ ہوا ہے اور اس کو اسلامی فریضہ قرار دیا ہے۔
خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے سورہ نحل کی آیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے کہ:
وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين، ور اگر تم ان کو سزا ہی دینا چاہتے ہو تو اتنی ہی سزا دو جتنی انہوں نے تم پر زیادتی کی ہے اور اگر صبر کرو تو یہ کام صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے، بعض روایات میں بیان آیا ہے کہ یہ آیت جنگ احد میں نازل ہوئی تھی، جب رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا حضرت حمزہ کے بدن کو مثلہ دیکھا تو بہت رنجیدہ اور غم زدہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے اور تجھ ہی سے شکایت ہے اور جو میں دیکھ رہا ہوں اس پر تجھ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ پھر فرمایا: اگر میں ان پر غالب آ گیا تو انھیں مثلہ کروں گا، ستر مرتبہ یہی لفظ دہرایا یہاں تک کہ رسولؐ پر یہ آیت نازل ہوئی تو رسول نے فرمایا: میں صبر کروں گا میں صبر کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ: قرآن مجید میں عفو و بخشش سے اہم و بلند مرحلہ بھی بیان ہوا ہے اور وہ ہے برائی کا بدلہ نیکی و اچھائی کے ساتھ دینا، اور یہ بہترین سبق ہے جو مجرم کو دیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعہ عداوتوں اور دشمنیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے سورہ حٰم سجدہ میں اس کی بہترین توجیہ بیان ہوئی ہے:
ولا تستوى الحسنة ولا السيئة
خوبی و بدی مساوی نہیں ہیں، بہترین اور شائستہ طریقہ سے دفاع کیجیے کہ اس سے دشمن بھی تمہارا دوست بن جائےگا اور یہ کام وہی انجام دے سکتا ہے جو صبر و مقاومت کی طاقت و قوت رکھتا ہو اور اس مرتبہ پر وہی پہنچ سکتا ہے جس میں انسانیت کا جوہر ہو، اس آیت میں پہلا معجزہ نما اثر، بہترین طریقہ سے دفاع بیان ہوا ہے، اس کے ذریعہ بڑے سے بڑے دشمنوں کو دوست بنایا جا سکتا ہے لیکن اس مرتبہ پر وہی فائز ہو سکتا ہے جو ایمان و تقویٰ اور علمی و اخلاقی فضائل سے آراستہ ہو اور خواہشات نفس پر صبر کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور یہ دونوں ناقابل انکار حقیقت ہیں، شائستہ طریقہ سے دفاع، دشمنی کو ختم کرتا ہے۔
امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: قرآن مجید حضرت یوسف اور ان کے خطا کار بھائیوں کا قصہ بیان کرتا ہے۔ جب وہ تیسری دفعہ مصر گئے اور یوسف کے بھائی ہونے کے لحاظ سے ان کے تعارف کے لئے زمین ہموار ہوگئی تو انہوں نے کہا:
قالوا إنك لأنت يوسف، قال انا يوسف و هذا اخى قد من الله علينا أنه من يتق ويصبر فإن الله لا يضيع اجر المحسنين، کیا آپ ہی یوسف ہیں؟ فرمایا: میں ہی یوسف ہوں! اور یہ میرا بھائی ہے خدا نے مجھ پر احسان کیا ہے بیشک جو شخص پرہیزگاری اور صبر سے کام لیتا ہے تو خدا بھی نیکی اور احسان کرنے والے کے اجر کو ضائع نہیں کرتا، اس وقت یوسف نے انہیں ان کی گزشتہ خطا ئیں یاد دلائیں اور ان سے پوچھا: اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا: یوسف! ہم خطا کار ہیں آپ کو حق ہے کہ ہم کو جو سزا چاہیں دیں لیکن کرم فرمائیں اور ہماری خطاؤں کو معاف کر دیجئے۔ یوسف نے فرمایا:
لا تثريب عليكم اليوم يَغْفِرُ اللَّهُ لَكم وهو ارحم الراحمين
آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے، خدا تمہیں معاف کرے اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
اس قصہ میں حضرت یوسف انتقام لینے پر قدرت رکھتے ہیں لیکن انہیں معاف کر دیتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں معاف کرنا۔
انہوں نے مزید فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ہجرت کے آٹھویں سال رسول نے مکہ کا محاصرہ کیا اور شہر میں داخل ہوئے۔ جب مسجد الحرام میں داخل ہوئے حجر اسود کو چوما اور فرمایا: جاء الحق و زهق الباطل إن الباطل کان زهوقا حق آ گیا، باطل چلا گیا بیشک باطل برباد ہونے والا ہی تھا۔ اس کے بعد آپ نے بتوں کو توڑنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس کے بعد لا الہ الا اللہ وحدہ وحدہ پڑھا اور مکہ والوں سے فرمایا: ماذا تقولون وماذا تظنون تم کیا کہتے ہو اور تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نیک بات کہتے ہیں اور نیک امید و توقع رکھتے ہیں! آپ ہمارے کریم و بخشنے والے بھائی اور کریم کے فرزند ہیں۔ آج آپ فتح یاب ہیں۔
رسول نے فرمایا: آج میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا:
لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين آج تمہارے لئے کوئی خوف و خطر نہیں ہے۔ اور سب کو معاف کر دیا اور فرمایا: جاؤ میں نے تم سب کو آزاد کیا۔ رسول اس وقت اقتدار و قدرت کی بلندی پر ہیں اگر چاہیں تو ان سب کو قتل کر سکتے ہیں لیکن صرف انہیں لوگوں سے انتقام لیا کہ جنہوں نے انسانیت سوز مظالم کئے تھے اور باقی لوگوں کو معاف کر دیا۔
آخر میں خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے اس سلسلے میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کی احادیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
أَحْسَنُ الْعَفْوِ مَا كَانَ عَنْ قُدْرَةِ،
بہترین عفو وہ ہے جو طاقت و قدرت کے ہوتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
نھج البلاغہ کے کلمات میں فرماتے ہیں:
اِذَا قَدَرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ فَاجْعَلِ الْعَفْوُ عَنْهُ شُكْرًا لِلْقُدْرَةِ عَلَيْهِ.
جب اپنے دشمن پر غالب آجاؤ تو اس غالب آنے کا شکریہ ہے کہ اس کو معاف کردو۔









آپ کا تبصرہ