حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ حائری شیرازی نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے حدیث «الوَلَدُ سَیّدٌ سَبعَ سِنینَ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: بچے کو سات سال تک سردار سمجھنے کی روایت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کسی قسم کی پابندی یا ہدایت نہ دی جائے۔ بلکہ اس دوران بھی بچے کو ضروری ہدایات دی جا سکتی ہیں اور اس کی بھلائی کے لیے نصیحت کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: سات سال کی عمر تک اگر آپ بچے کو کوئی ہدایت یا حکم دینا چاہتے ہیں تو ضرور دیں، لیکن آپ کا انداز ایسا ہونا چاہیے جیسے آپ اپنے سے کسی بڑے کو ہدایت دے رہے ہوں۔ اس سے اس طرح بات کریں جیسے کسی بادشاہ یا صاحبِ اقتدار سے گفتگو کی جاتی ہے۔
آیت اللہ حائری شیرازی نے مزید کہا کہ حدیث «الوَلَدُ سَیّدٌ سَبعَ سِنینَ» کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بچے کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے اور اسے کچھ نہ کہا جائے۔ آپ اپنی خیرخواہی کا اظہار کریں، اسے نصیحت کریں اور ضروری تنبیہ بھی کریں، لیکن گفتگو کا انداز ایسا ہو جیسے آپ کسی بڑے سے بات کر رہے ہوں۔ بچے کو محض ایک بچہ نہ سمجھیں بلکہ اسے بادشاہ تصور کریں اور اس کے احترام کو ملحوظ رکھیں۔
ماخذ: کتاب «راہِ رشد»، جلد 2، صفحہ 26










آپ کا تبصرہ