جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 17:39
سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کو سمجھنے کے لیے آپؑ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے؛ آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

حوزہ/ انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے امام باڑہ یاگی پورہ، ماگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران تقویٰ، اخلاقی ذمہ داریوں اور سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کے گہرے مطالعے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی حیاتِ مبارکہ ایمان، ایثار، عفت اور رضائے الٰہی سے وابستگی کا بے مثال نمونہ ہے، جس سے رہنمائی حاصل کرکے ان تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مگام-سرینگر/ انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ تقویٰ، اخلاقی اقدار اور دینی شعور کو اپنی زندگی کا بنیادی حصہ بنائیں اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰؐ، حضرت فاطمہ زہراؑ اور اہل بیتؑ کی سیرت و تعلیمات سے عملی رہنمائی حاصل کریں۔

سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کو سمجھنے کے لیے آپؑ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے؛ آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

امام باڑہ یاگی پورہ ماگام میں نماز جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے کہا کہ تقویٰ مؤمن کی زندگی کی اساس ہے، جو انسان کو مشکلات کا مقابلہ کرنے، آزمائشوں میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور زندگی کے مختلف مراحل میں درست طرز عمل اختیار کرنے کی قوت عطا کرتا ہے۔

سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپؑ کی حیات مبارکہ ایمان، ایثار، عفت و عظمت، اخلاقی استقامت اور رضائے الٰہی سے وابستگی کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ آپؑ کی سیرت کے ان اصولوں کو سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں اپنانا بھی ضروری ہے، جو حق و صداقت، عدل، پاکیزگی اور تعلیمات نبویؐ سے غیر متزلزل وابستگی کا درس دیتے ہیں۔

سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کو سمجھنے کے لیے آپؑ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے؛ آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی حقیقی معرفت کے لیے اللہ تعالیٰ، رسول اکرمؐ اور اہل بیتؑ کے ساتھ آپؑ کے روحانی و ایمانی تعلق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپؑ کی سیرت آج بھی افراد، خاندانوں اور پورے معاشرے کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب اخلاقی اقدار اور روحانی ترجیحات کو ازسرنو مستحکم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

قرآنی تعلیمات اور اہل بیتؑ سے منقول روایات کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل سکریٹری نے مستند دینی علم، ذمہ دارانہ علمی تحقیق اور اسلامی تعلیمات کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی شخصیات اور اسلامی تاریخ کو محض سطحی معلومات کی بنیاد پر سمجھنے کے بجائے مستند مآخذ، علمی بصیرت اور ان کی تعلیمات کے روحانی و اخلاقی مفاہیم کی روشنی میں مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

سیرت حضرت فاطمہ زہراؑ کو سمجھنے کے لیے آپؑ کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانا ضروری ہے؛ آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

انہوں نے مزید کہا کہ دینی اجتماعات، خطبات جمعہ اور مذہبی مناسبتوں پر منعقد ہونے والی مجالس کو دینی تعلیم، کردار سازی، سماجی شعور اور اسلامی اقدار کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منبر سے پیش کیے جانے والے پیغام کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کے ذاتی کردار، معاشرتی رویّوں اور اجتماعی زندگی میں مثبت تبدیلی کا سبب بنے۔

خطاب کے اختتام پر آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے امت مسلمہ کے اتحاد و فلاح، مؤمنین کی سلامتی اور امام مہدیؑ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں، دینی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کریں اور رسول اکرمؐ اور ان کے پاکیزہ اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں مشعل راہ بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha