حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر انجمن شرعی شیعیان، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے خاتون جنت، سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ الزہراؑ کی سیرت طیبہ کو صالح معاشرے کی تشکیل، اخلاقی اقدار کے فروغ اور سماجی بدعات کے سدباب کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین جس قدر بااخلاق، دوراندیش اور فرض شناس ہوں گی، معاشرے کی اصلاح اور ایک بہتر سماجی نظام کی تشکیل اسی قدر مؤثر انداز میں ممکن ہوگی۔

یام فاطمیہؑ کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر سے مرکزی امام باڑہ بڈگام تک جلوس عزا برآمد کیا گیا۔ جلوس کی قیادت انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی، جبکہ دیگر علمائے کرام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کرکے دختر رسول حضرت فاطمہ الزہراؑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
جلوس مرکزی امام باڑہ بڈگام پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، جہاں مجلس عزا منعقد ہوئی۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حضرت فاطمہ الزہراؑ کی سیرت، تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان تعلیمات کی عصر حاضر میں معنویت پر روشنی ڈالی۔

آغا حسن نے کہا کہ موجودہ مہذب اور ترقی یافتہ دنیا خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے، جبکہ اسلام نے عورت کے احترام، حقوق اور تحفظ کے لیے جامع اصول متعین کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خواتین کے مقام، حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب سنجیدگی سے پیش قدمی کرے تو صنف نازک کو درپیش متعدد مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت فاطمہ الزہراؑ کی سیرت صرف مسلمان خواتین کے لیے ہی مشعل راہ نہیں بلکہ دنیا بھر کی خواتین آپؑ کے اسوۂ حیات سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے مقام و مرتبے، عظمت اور وقار کو مزید مستحکم کرسکتی ہیں۔ آپؑ کی حیات مبارکہ عفت و پاکیزگی، صبر و استقامت، عبادت، ایثار اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا ایسا جامع نمونہ ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ آغوش زہراؑ اسلام کی سربلندی اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے ایک عظیم تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ایسی نسلوں کی تربیت کا تصور ملتا ہے جو حق و صداقت، دین داری اور اخلاقی عظمت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیرت حضرت فاطمہ الزہراؑ کو عملی زندگی میں اپنانا ہی ایک پاکیزہ، باوقار اور صالح معاشرے کی تشکیل کی مؤثر بنیاد ہے۔










آپ کا تبصرہ