حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے استاد اور مرحوم علامہ حسن زادہ آملی کے شاگرد حجت الاسلام والمسلمین حسن رمضانی خراسانی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ حسن زادہ آملی کی کتاب ’’فصِ حکمتِ عصمتیہ در کلمۂ فاطمیہ‘‘ کی تصنیف کا پس منظر بیان کیا۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے کے بارے میں علامہ کی فکری تشویش، ابن عربی کی عرفانی روایت میں آپ کے مقام اور آپ کی عصمت، رضا اور غضب کی حقیقت پر روشنی ڈالی اور اس کتاب کی تالیف کی وجوہات بیان کیں۔
حجت الاسلام والمسلمین خراسانی نے ایامِ فاطمیہ اول کی آمد پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا: حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر اور روزِ محشر شفاعت فرمانے والی ہستی ہیں۔ آپ وہ عظیم خاتون ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اَللَّهَ تَعَالَی یَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ وَ یَرْضَی لِرِضَاهَا» ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ فاطمہ کے غضب سے غضب ناک ہوتا ہے اور ان کی رضا سے راضی ہوتا ہے۔
علامہ حسن زادہ آملی کی جانب سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت پر کتاب لکھنے کا راز
"کیا خدا حضرت فاطمہ کی پیروی کرتا ہے یا حضرت فاطمہ رضائے الٰہی کا مظہر ہیں؟"
مذکورہ بالا اس فرمان کی دو طرح سے تشریح کی جا سکتی ہے اور اس سے دو مفہوم اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
ایک مفہوم یہ ہے کہ خداوند متعال حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پیروی کرتا ہے یعنی پہلے حضرت فاطمہ راضی ہوتی ہیں اور پھر خدا راضی ہوتا ہے، پہلے حضرت فاطمہ غضب ناک ہوتی ہیں اور پھر خدا غضب ناک ہوتا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق، گویا خداوند متعال حضرت فاطمہ کی پیروی کرتا ہے۔

لیکن اس فرمان کی زیادہ دقیق اور گہری تشریح یہ ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یعنی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رضا بے حساب و بے ضابطہ نہیں اور نہ ہی آپ کا غضب بے حساب ہے۔ آپ کی رضا اور ناراضی کا تعلق ذاتی خواہشات یا نفسانی میلانات سے نہیں بلکہ آپ سلام اللہ علیہا کی رضا رضائے الٰہی کی عکاسی کرتی ہے اور آپ کا غضب غضبِ الٰہی کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس صورت میں اصل و بنیاد خداوند متعال کی ذات ہے اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رضائے الٰہی اور غضبِ الٰہی کا مظہر قرار پاتی ہیں۔
علامہ حسن زادہ آملی کی نگاہ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا؛ کلمۂ فاطمیہ میں حکمتِ عصمت
انہوں نے مزید کہا: اب میں استادِ محترم علامہ حسن زادہ آملی قدس سرہ کے اس علمی اثر کے بارے میں چند گزارشات پیش کرتا ہوں، جس کا عنوان ’’فصُّ حکمةٍ عصمتیّةٍ فی کلمةٍ فاطمیّةٍ‘‘ ہے۔
استادِ محترم فرمایا کرتے تھے کہ محیی الدین ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم ستائیس فصول پر مشتمل ہے اور ہر فصل انبیاء میں سے کسی ایک نبی یا انسانِ کامل کے ساتھ مختص ہے۔ البتہ اس کتاب میں لقمان اور خالد کا ذکر بھی آیا ہے، حالانکہ یہ دونوں انبیاء میں سے نہیں تھے لیکن انہیں انبیاء کے ساتھ اس کتاب میں موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔

بہرحال، یہ کتاب ستائیس فصول پر مشتمل ہے اور ہر فصل عموماً کسی ایک انسانِ کامل کے لیے مخصوص ہے۔ ان کامل انسانوں میں وہ ہستیاں شامل ہیں جو نبی تھیں یا مرتبۂ نبوت سے قرب رکھتی تھیں۔
استادِ محترم فرمایا کرتے تھے کہ میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ابن عربی نے کتاب کے تمام فصول مردوں کے لیے کیوں مخصوص کیے ہیں؟ انہوں نے کسی خاتون مثلاً حضرت مریم سلام اللہ علیہا یا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے کوئی فصل کیوں نہیں لکھی؟
یہ دونوں عظیم خواتین عالم کی برگزیدہ ترین ہستیوں میں شمار ہوتی ہیں، البتہ ان کے مقام میں فرق ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تمام عالم کی خواتین کی سردار ہیں جبکہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں۔ تو پھر ابن عربی نے ان دونوں میں سے کسی ایک عظیم خاتون یعنی حضرت مریم سلام اللہ علیہا یا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو کتاب کے کسی فصل کا موضوع کیوں نہیں بنایا؟
البتہ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ابن عربی نے فصوص الحکم کو اپنی ذاتی خواہش اور اختیار کے مطابق مرتب نہیں کیا تھا بلکہ یہ کتاب انہیں ایک مکاشفہ کے ذریعے عطا ہوئی تھی اور اس کے مضامین اسی انداز میں ان پر القا کیے گئے تھے۔ لہٰذا اس حوالے سے ان پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ معاملہ ان کے ذاتی اختیار میں نہیں تھا۔
ابن عربی فصوص الحکم کے آغاز میں بیان کرتے ہیں کہ انہیں خواب میں یہ مکاشفہ حاصل ہوا۔ اس خواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: «هَذَا كِتَابُ فُصُوصِ الْحِکَمِ، خُذْهُ وَاخْرُجْ بِهِ إِلَی النَّاسِ یَنْتَفِعُوا بِهِ» ترجمہ: یہ فصوص الحکم کی کتاب ہے، اسے لے لو اور لوگوں کے پاس لے جاؤ تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔
چنانچہ یہ کتاب انہیں عطا کی گئی اور انہوں نے اسی کے مطابق اسے تحریر کیا جو انہیں موصول ہوا تھا۔ کتاب کی ترتیب بھی اسی عطا شدہ مضمون کے مطابق تھی، نہ کہ ان کے ذاتی اختیار اور پسند کے مطابق۔ اسی لیے یہ اعتراض اپنی بنیاد ہی میں درست نہیں کہ ابن عربی نے ایسا کیوں کیا۔
اس کے باوجود، استادِ محترم فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش اس کتاب میں انسانِ کامل کی کسی خاتون ہستی مثلاً حضرت مریم سلام اللہ علیہا یا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے بھی ایک فصل مختص ہوتی۔

فخر رازی اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ تفسیرِ کبیر فخر رازی کا ایک قول نقل کیا جائے۔ انہیں ’’امام المشککین‘‘ یعنی مسائل میں کثرت سے سوالات اور شکوک و شبہات اٹھانے والے امام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مبدأ و معاد سے متعلق شاید ہی کوئی ایسا مسئلہ ہو جس پر انہوں نے بحث نہ کی ہو یا اس میں تشکیک نہ کی ہو۔ تاہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عصمت کے مسئلہ میں انہوں نے تشکیک نہیں کی بلکہ اسے تسلیم کیا۔
اس طرح کتاب ’’فصِ حکمتِ عصمتیہ در کلمۂ فاطمیہ‘‘ کا عنوان اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا معصوم اور ہر آلودگی سے پاک تھیں۔
آپ سلام اللہ علیہا کے بارے میں محض یہ کہنا کافی نہیں کہ آپ ایک فرشتہ تھیں جو انسانی صورت میں ظاہر ہوا تھا کیونکہ فرشتے کا بھی اپنا ایک مرتبہ ہے اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبے کو اس طرح کی تعبیر سے کہیں بلند تر سمجھنا چاہیے۔
حق تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ کے ذریعہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے وجود میں تجلی فرمائی ہے۔ آپ کی رضا رضائے الٰہی ہے، آپ کے صفاتِ کمالیہ صفاتِ خداوندی کے مظہر ہیں اور آپ کے کمالات، ذاتِ حق تعالیٰ کے کمالات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس تعبیر کے ذریعہ ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبہ کو سمجھ سکتے ہیں اور کتاب کے عنوان کا مفہوم بھی زیادہ بہتر انداز میں ہمارے سامنے آتا ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ خداوند متعال ہمیں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حقیقی شیعوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے، روزِ محشر شفاعت فرمانے والی اس عظیم ہستی کی شفاعت ہمارے نصیب میں کرے اور ہمیں دنیا میں آپ کے وجودِ مبارک کی تجلیات و برکات سے مستفید ہونے اور قیامت میں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔










آپ کا تبصرہ