بدھ 4 نومبر 2026 - 15:31
ایران پر امریکی جوہری حملے کا خدشہ؛ کیا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے ایٹمی بحران کی دہلیز پر ہے؟پاکستان، خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا کے لیے ممکنہ خطرات اور قومی حکمتِ عملی

حوزہ/امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کی حالیہ ٹویٹ اور اس میں کیے گئے دعووں نے عالمی سطح پر ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف روایتی فوجی کارروائی سے آگے بڑھ کر جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں؟

تحریر: انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کی حالیہ ٹویٹ اور اس میں کیے گئے دعووں نے عالمی سطح پر ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف روایتی فوجی کارروائی سے آگے بڑھ کر جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں؟

کارلسن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر پر ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی بعض زیرِ زمین جوہری تنصیبات، بالخصوص نطنز کے قریب واقع پکیکس ماؤنٹین کی گہری اور مضبوط تنصیب کو روایتی امریکی ہتھیاروں سے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے، چنانچہ امریکی قیادت جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر غور کر سکتی ہے۔

یہ دعویٰ اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہے، تاہم اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ٹکر کارلسن کا بیان امریکی حکومت کے کسی مصدقہ جنگی فیصلے یا سرکاری منصوبے کا ثبوت نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہونے کا سابقہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس لیے جوہری حملے کے خدشے اور اس کے عملی فیصلے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

تاہم، اس امکان کو محض سیاسی سنسنی یا غیر اہم قیاس آرائی قرار دے کر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع اب صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں علاقائی بالادستی، اسرائیل کی سلامتی، امریکی مفادات، خلیجی ممالک کا مستقبل اور عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات بھی شامل ہو چکے ہیں۔

جوہری حملہ: کتنا ممکن اور کتنا خطرناک؟

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے مختلف امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے تین صورتوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔

پہلی صورت: ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر روایتی فضائی حملوں کا دوبارہ آغاز ہے۔ موجودہ کشیدگی اور خطے میں فوجی تیاریوں کے تناظر میں یہ امکان نسبتاً زیادہ قابلِ توجہ ہے۔

دوسری صورت :محدود فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کی میزائل صلاحیت، فضائی دفاع اور اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں، اسرائیل یا خطے میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تیسری اور سب سے تباہ کن صورت: جوہری ہتھیار کا حقیقی استعمال ہے۔ اس کا امکان فی الحال نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے نتائج اتنے ہولناک ہوں گے کہ عالمی برادری اسے کسی بھی صورت معمول کی فوجی کارروائی تصور نہیں کر سکتی۔

امریکہ کے لیے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنا محض ایک فوجی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے عالمی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی اثرات بھی انتہائی دور رس ہوں گے۔ اس سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو شدید دھچکا پہنچے گا اور مستقبل میں دوسرے ممالک بھی اپنی سلامتی کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کسی زیرِ زمین تنصیب کو تباہ کرنا مشکل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے تباہ کرنے کے لیے لازماً جوہری ہتھیار ہی استعمال کرنا پڑیں گے۔ امریکہ کے پاس روایتی فوجی کارروائی، انٹیلی جنس، تکنیکی اقدامات، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ سمیت متعدد متبادل راستے موجود ہیں۔

اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکی قیادت ایران کے خلاف اپنے سیاسی اور تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے جوہری استعمال کی حد عبور کرنے کا خطرہ مول لے سکتی ہے؟ اس کا جواب فی الحال یقینی طور پر نہیں دیا جا سکتا، مگر عالمی امن کے لیے اس امکان پر سنجیدہ غور اور پیشگی تیاری ضروری ہے۔

اسرائیل کا کردار اور امریکی فیصلہ سازی

اس بحران میں اسرائیل کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی قیادت طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ قرار دیتی آئی ہے۔ اسرائیل کی خواہش رہی ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو اس حد تک کمزور کر دیا جائے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ رہے۔

اسرائیل کے لیے ایران کا مسئلہ صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں اس کا سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ بھی ہے۔ حزب اللہ، عراق کی بعض مسلح تنظیموں، یمن کی انصاراللہ اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ایران کے تعلقات اسرائیلی تزویراتی سوچ کا اہم حصہ ہیں۔

دوسری جانب امریکی مفادات بھی کئی سطحوں پر ایران سے متصادم ہیں۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں، اسرائیل کی سلامتی، خلیجی اتحادیوں اور عالمی توانائی کے راستوں پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

تاہم اسرائیلی ترجیحات اور امریکی قومی مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ نیتن یاہو کی حکومت کسی انتہائی فوجی اقدام کو اپنے لیے ضروری سمجھ سکتی ہے، لیکن امریکی قیادت کو اس کے عالمی نتائج، اپنے فوجیوں کی سلامتی، عالمی معیشت اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

اسی لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ اسرائیل کی خواہش لازماً امریکی پالیسی بن جائے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیلی دباؤ امریکی فیصلہ سازی کے ماحول پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

پاکستان: ممکنہ بحران کے سامنے سب سے حساس ممالک میں سے ایک

ایران کے خلاف کسی بڑی امریکی فوجی کارروائی کے اثرات محض مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان اس بحران سے جغرافیائی، معاشی، سیاسی اور سلامتی کے اعتبار سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقے، تفتان اور دیگر گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، آمدورفت اور عوامی رابطوں کے اہم راستے ہیں۔ ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی یا انسانی بحران پیدا ہونے کی صورت میں پاکستان کو سرحدی سلامتی، نقل مکانی، انسانی امداد اور داخلی استحکام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر ایران میں جوہری دھماکا ہوتا ہے یا کسی جوہری تنصیب پر حملے کے نتیجے میں تابکار مادے فضا میں خارج ہوتے ہیں تو پاکستان کے لیے بھی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ان خطرات کی شدت کا انحصار دھماکے کی نوعیت، مقام، تابکار مادوں کے اخراج اور ہوا کی سمت پر ہوگا۔ بلوچستان اور پاکستان کے مغربی علاقوں میں تابکاری کی نگرانی کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ خوراک، پانی، مٹی اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر جوہری حملے کے نتیجے میں تابکاری لازماً پاکستان تک نہیں پہنچے گی۔ لیکن سرحدی قربت کے باعث پاکستان کے لیے پیشگی تیاری اور سائنسی نگرانی ناگزیر ہوگی۔

خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کا سب سے حساس محاذ

ایران پر کسی بڑے فوجی حملے کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان بھی شدید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں امریکی فوجی اڈے، بحری تنصیبات، توانائی کے مراکز یا دیگر فوجی اہداف نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک کی سلامتی اور معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہوگا۔

اس حوالے سے آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر جنگ کے باعث اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ صورتِ حال انتہائی نقصان دہ ہوگی۔ پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کی لاگت بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ روپے کی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر اور ملکی معیشت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

خلیجی ممالک میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹس کی سلامتی بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ خطے کے کئی ممالک پینے کے پانی کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ جنگی کارروائیوں کے دوران ان تنصیبات کو نقصان پہنچنا انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

افغانستان، بھارت اور جنوبی ایشیا پر اثرات

ایران کے خلاف جنگ کا ایک اہم انسانی پہلو افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی جانب نقل مکانی ہو سکتا ہے۔ ایران میں مقیم افغان شہریوں کی بڑی تعداد کسی بحران کی صورت میں اپنے ملک واپس جانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ افغانستان پہلے ہی معاشی اور انسانی مشکلات کا شکار ہے، اس لیے یہ اضافی دباؤ پورے خطے کو متاثر کر سکتا ہے۔

بھارت بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اس کے ایران کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی مفادات، خصوصاً چاہ بہار بندرگاہ، علاقائی رابطوں اور وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی ایک نئی مثال قائم ہو جاتی ہے تو جنوبی ایشیا کی سلامتی پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں۔ ان کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات کے تناظر میں جوہری ہتھیار کے استعمال کی عالمی مثال مستقبل کی تزویراتی سوچ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے ایران کے خلاف جوہری حملے کی مخالفت صرف ایران کی حمایت کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی اور علاقائی سلامتی کے بنیادی اصولوں کا سوال ہے۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان کے لیے موجودہ صورتِ حال میں سب سے دانشمندانہ راستہ فعال سفارت کاری، قومی سلامتی کی تیاری اور علاقائی توازن برقرار رکھنے کا ہے۔

اول: پاکستان کو فوری اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسلام آباد کو تہران، واشنگٹن، ریاض، انقرہ اور بیجنگ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے چاہییں۔ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع بھی ہے کہ وہ خود کو کسی ایک فریق کے حامی کے بجائے علاقائی امن کے مؤثر ثالث کے طور پر پیش کرے۔

دوم: پاکستان کو کسی نئی جنگی صف بندی سے گریز کرنا چاہیے۔

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ اس کی مشترکہ سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ اس لیے کسی ایسے اقدام سے اجتناب ضروری ہے جو پاکستان کو امریکہ، ایران یا اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تنازع کا حصہ بنا دے۔

پاکستان کو اپنی سرزمین کسی بھی فریق کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔

سوم: جوہری اور تابکاری کے خطرات سے نمٹنے کی تیاری ضروری ہے۔

بلوچستان میں تابکاری کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کیا جائے۔

سرحدی ہسپتالوں، ہنگامی امدادی مراکز اور متعلقہ اداروں کو ضروری تربیت اور آلات فراہم کیے جائیں۔ اگر تابکاری کا خطرہ پیدا ہو تو عوام کو فوری اور قابلِ اعتماد ہدایات فراہم کرنے کا نظام موجود ہونا چاہیے۔

چہارم: معاشی ہنگامی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔

پاکستان کو تیل اور گیس کے ذخائر، متبادل توانائی کے ذرائع، درآمدی راستوں اور ضروری اشیا کی فراہمی کا پیشگی جائزہ لینا چاہیے۔ توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے نمٹنے کے لیے معاشی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ عام شہریوں پر کم سے کم بوجھ پڑے۔

خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کارکنوں کے تحفظ، سفری سہولتوں اور ہنگامی واپسی کے انتظامات بھی کیے جانے چاہییں۔

پنجم: قومی اتحاد اور داخلی استحکام کو ترجیح دی جائے۔

ایسے عالمی بحران میں فرقہ وارانہ تقسیم، جذباتی ردعمل اور غیر مصدقہ اطلاعات قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو امن، رواداری اور قومی یکجہتی کے مشترکہ مؤقف پر متحد ہونا چاہیے۔

کیا پاکستان ایران کے دفاع میں فوجی کردار ادا کر سکتا ہے؟

یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ایران پر امریکی یا اسرائیلی حملہ ہوتا ہے تو کیا پاکستان کو ایران کے ساتھ دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے؟

اس معاملے میں جذبات کے بجائے قومی مفادات، بین الاقوامی قانون اور موجودہ معاہدوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی روابط پر استوار ہیں، لیکن پاکستان کے دیگر علاقائی اور عالمی تعلقات بھی ہیں۔

پاکستان کو ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہری آبادی کے تحفظ کی حمایت کرنی چاہیے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال اور یکطرفہ جارحیت کی مخالفت کرنی چاہیے۔ تاہم کسی نئی فوجی محاذ آرائی میں شامل ہونے سے پہلے اس کے قومی اور علاقائی نتائج کا جامع جائزہ ضروری ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت اس وقت ایک ذمہ دار سفارتی کردار، دفاعی خودمختاری اور علاقائی امن کے مؤثر ضامن کی حیثیت میں ہوگی۔

آنے والے دن: کن امکانات پر نظر رکھنی چاہیے؟

ٹکر کارلسن کے دعوے کے مطابق نومبر کے ابتدائی دن اہم ہو سکتے ہیں، لیکن کسی مخصوص تاریخ کو امریکی حملے کی مصدقہ ڈیڈ لائن تصور کرنا درست نہیں۔

آنے والے دنوں میں امریکی حکومت اور پینٹاگون کے بیانات، خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت، ایران کے ردعمل، اسرائیلی قیادت کے اقدامات اور آئی اے ای اے کی رپورٹس پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی یا کسی تیسرے ملک کی ثالثی بھی صورتِ حال کو تبدیل کر سکتی ہے۔ اس لیے جنگ کو ناگزیر سمجھنے کے بجائے تمام سفارتی امکانات کو اہمیت دینی چاہیے۔

اختتامیہ: جنگ کا ایک فیصلہ، پوری دنیا کا مستقبل

ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے کا خدشہ محض دو ممالک کے درمیان فوجی تصادم کا مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی سیاست، بین الاقوامی قانون، جوہری عدم پھیلاؤ، توانائی کی سلامتی اور انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

اگر دنیا میں ایک مرتبہ پھر جوہری ہتھیار استعمال ہوتے ہیں تو اس کے نتائج صرف حملے کا نشانہ بننے والے ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ تابکاری، ماحولیاتی تباہی، معاشی بحران، انسانی نقل مکانی اور عالمی طاقتوں کے درمیان نئی محاذ آرائی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس صورتِ حال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف ایران کے ساتھ اپنی سرحدی، تاریخی اور برادرانہ وابستگیوں کو ملحوظ رکھے، دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط کو بھی نقصان نہ پہنچنے دے۔

پاکستان کو جنگ کا فریق بننے کے بجائے امن کا مؤثر داعی اور ضامن بننا چاہیے۔ اسے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے سفارت کاری، دفاعی تیاری، معاشی استحکام اور عوامی تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

آج دنیا کو ایک اور جنگ، ایک اور تباہی یا جوہری طاقت کے مظاہرے کی نہیں بلکہ ایسی دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے جو طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے تعاون اور تباہی کے بجائے امن کو ترجیح دے۔

کیونکہ ایران کے خلاف ایک جوہری حملہ صرف ایران کا المیہ نہیں ہوگا، یہ پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا سانحہ بن سکتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha