حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے اپنے ایک پیغام میں حجت الاسلام والمسلمین محمدحسن جمشیدی اور موکبوں کے تمام ذمہ داران و منتظمین کی جانب سے موکب کے قیام، خدمات، اس میں مختلف اختراعات، پروگراموں اور سرگرمیوں کے انعقاد پر قدردانی کی ہے۔ ان کے اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسمہ تعالیٰ
جناب حجت الاسلام والمسلمین محمدحسن جمشیدی دامت توفیقاته اور تمام موکبوں کے عزیز ذمہ داران و منتظمین!
سلام و احترام اور آپ سب کے لیے مزید توفیقات کی دعا کے ساتھ!
میں ضروری سمجھتا ہوں کہ حوزہ علمیہ کی جانب سے آپ اور خدمت رسانی میں مشغول موکبوں کے تمام فعال افراد، بالخصوص قم میں قائم ’’استغاثہ‘‘ موکب اور موکب مدرسہ حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کا دلی طور پر شکریہ ادا اور قدردانی کروں۔
اسی طرح میں اس موکب کی اختراعات، پروگراموں اور سرگرمیوں نیز اس سے وابستہ عزیز کارکنان اور نوجوانوں کی کاوشوں کو سراہتا ہوں اور ان کی قدر کرتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ ماہ رمضان کی مسلط کردہ جنگ کے ساتھ اسلام، ایران اور انقلاب اسلامی کی تاریخ میں ایک نیا باب کھلا اور انقلاب اسلامی کے تکاملی سفر اور امام خمینی اعلیٰ اللہ مقامہ کے دور میں انقلاب اسلامی کے عالمی اور تہذیبی اہداف کی جانب ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔
اسلام و ایران، مقاومتی محاذ اور بالخصوص رہبر و قائد اور امام شہید حضرت سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے پاکیزہ خون سے اٹھنے والی لہروں کی برکت سے ملت میں ایک بے مثال بیداری پیدا ہوئی۔ اسلام و ایران کے شہداء، مقاومتی محاذ کے شہداء اور بالخصوص شہید رہبر و قائد امام خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے مقدس خون کی برکت سے ملت اور نوجوانوں میں ایک بے مثال بیداری پیدا ہوئی اور مسلح افواج و مقاومتی محاذ کی شجاعت، بہادری اور درخشاں کارکردگی نیز جہادی جذبے سے کام کرنے والے ذمہ داران کی کوششوں کے ساتھ ایک نیا دور سامنے آیا۔
اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے بہت سے معادلات اور حساب و کتاب تبدیل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل، ملت ایران، مقاومتی محاذ اور امتِ اسلام کی بلند ہمتی، رہبر معظم دام ظلہ کی قیادت و رہنمائی، مراجع عظام کی رہنمائی اور مسلح افواج کی جدوجہد سے یہ تیز رفتار تحریک آگے بڑھتی رہے گی اور کینہ پرور اور بے رحم دشمنوں، امریکی و صہیونی دشمن اور ان کے حواریوں کا نام و نشان مٹا دے گی، ان شاءاللہ۔
اس دوران "پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ علمیہ" اور نوجوان طلبہ و اساتذہ کا عوام اور نوجوانوں کے شانہ بشانہ کردار نہایت اہم اور اسٹریٹجک ہے۔ ان کی ذمہ داری موجودہ حالات اور تبدیلیوں کے مطابق اس نئے دور کی فکری، معرفتی، جذباتی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنا، موجودہ غیر مساوی اور مرکب جنگ میں رہنمائی اور مؤثر کردار ادا کرنا، صحیح تبیین اور درست روایات پیش کرنا، جوش و جذبہ پیدا کرنا، آگاہی فراہم کرنا، اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا، معرفت و بصیرت میں اضافہ کرنا اور علمی، عملی و تبلیغی جہاد انجام دینا ہے۔ ہمیں ملت، نوجوانوں اور حوزاتِ علمیہ کے ان موجودہ اثاثوں سے امید وابستہ کرنی چاہیے۔
تمام دوستوں تک میرا سلام اور شکریہ پہنچا دیجیے۔
تہہ دل سے شکریہ!
علی رضا اعرافی، مدیر حوزہ علمیہ










آپ کا تبصرہ