حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ملک بھر کے حوزات علمیہ خواہران اور جامعۃ الزہرا (س) کے نئے تعلیمی سال کے مشترکہ آغاز کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس علمی، دینی اور تربیتی ادارے کی ترقی اور سربلندی کے لیے سرگرم تمام افراد کی کاوشوں کو سراہا اور حوزہ علمیہ خواہران کے مقام، شناخت، ذمہ داری اور مستقبل کے افق کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا: ایران اور دنیا بھر میں حوزات علمیہ خواہران کی ترقی اور سربلندی کے لیے کوشش کرنے والے تمام افراد کی قدر دانی اور ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ بالخصوص حالیہ واقعات اور تیسری جنگ کے دوران ہماری محترم خواہران نے جس ممتاز، نمایاں اور بے مثال کردار کا مظاہرہ کیا، اس پر خصوصی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔ الحمدللہ، آپ نے حوزاتِ علمیہ خواہران کی اجتماعی سرگرمیوں اور ایران و ملک بھر میں اپنی سماجی اور انقلابی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایک سنہری باب رقم کیا ہے۔ یہ سنہری باب حوزاتِ علمیہ خواہران کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا: حوزہ علمیہ خواہران کی بنیاد اسی بلند مقام پر قائم ہے اور وہ اسی بلند مقام سے اپنی شناخت حاصل کرتے ہیں اور اپنی عظیم ذمہ داریوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ حوزات علمیہ خواہران کی گہرائی اور حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہی ایک جملہ کافی ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے عصرِ حاضر میں حوزاتِ علمیہ خواہران کی عظمت و مقام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: تمام تاریخی پس منظر کے باوجود، جو کچھ جدید دور میں انقلاب اسلامی اور امام خمینی (رہ) کی تحریک کے زیرِ اثر تشکیل پایا اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایک باقاعدہ ادارے کی صورت اختیار کر گیا، وہ آج کے مفہوم میں حوزاتِ علمیہ خواہران ہیں۔
حوزاتِ علمیہ خواہران کی پالیسی سازی کونسل کے سربراہ نے مزید کہا: ان عظیم علمی و دینی ذخائر کے باوجود حوزاتِ علمیہ خواہران کی معاشرہ سازی اور خاندانی میدان میں ایک خصوصی ذمہ داری بھی ہے اور اس شعبے میں انہیں خصوصی طور پر علمبردار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔











آپ کا تبصرہ