حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ خراسان جنوبی میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین سید علی رضا عبادی نے حوزہ علمیہ خراسان جنوبی کے مرکزِ انتظام کے سربراہ اور مسئولین سے ملاقات کے دوران اسلام کو کمزور کرنے، ثقافتی مفاسد کو فروغ دینے اور علمی و دینی مراکز کو ختم کرنے کے لیے دشمنانِ اسلام کی صدیوں پر محیط کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "حوزاتِ علمیہ تشیع" انسانیت کی نجات کے اہم ترین ذرائع میں سے ہیں اور دشمنوں نے ہمیشہ معاشروں میں اسلام کے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے اسلام کے خلاف استعماری قوتوں کی تاریخی جدوجہد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: صلیبی جنگوں اور اندلس کے سقوط سے لے کر اسلامی ممالک میں استعماری پالیسیوں تک، اسلام کو معاشروں سے بے دخل کرنے، اخلاقی و سماجی مفاسد کو فروغ دینے، بدامنی پھیلانے، اختلافات پیدا کرنے اور دینی ثقافت کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان اقدامات کا ایک اہم محور حوزاتِ علمیہ کو کمزور کرنا اور انہیں ختم کرنا رہا ہے۔
خراسان جنوبی میں نمائندۂ ولی فقیہ نے کہا: استعماری قوتیں ملتوں میں بیداری پیدا کرنے میں قرآن کریم اور دینی مراکز کے کردار سے بخوبی آگاہ تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اسلامی معاشروں پر تسلط قائم کرنے کے لیے ثقافتی اور اعتقادی رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے حوزاتِ علمیہ کو کمزور کرنے اور علمائے دین کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔
انہوں نے رضا خان پہلوی کے دور میں دینی سرگرمیوں اور علمائے دین کو محدود کرنے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس زمانے میں حوزاتِ علمیہ کو بند کرنے، ان کے مالی وسائل منقطع کرنے، دینی خطابت اور تقاریر پر پابندیاں عائد کرنے اور علمائے دین کی سماجی سرگرمیوں کو روکنے کے منصوبوں پر عمل کیا گیا، جن کا مقصد دین اور اسلامی ثقافت کو کمزور کرنا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین عبادی نے حوزاتِ علمیہ کے معاشرتی کردار میں ممتاز دینی شخصیات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: بعض اوقات ایک جامع الصفات اور اہل عالم سینکڑوں افراد کے برابر اثر و رسوخ رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے طلبہ کی تعداد میں اضافے اور مطلوبہ افرادی قوت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ حوزاتِ علمیہ کے علمی، فکری، اخلاقی اور تخصصی معیار کو بلند کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے حوزاتِ علمیہ میں تعداد اور معیار دونوں پر بیک وقت توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: باصلاحیت افراد کو راغب کرنا اور شوق رکھنے والوں کے لیے حوزہ علمیہ میں داخلے کی راہ ہموار کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے لوگوں سے براہِ راست اور بالمشافہ رابطے جیسے طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، تاہم تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کی مؤثر تربیت کی خصوصی اہمیت ہے۔










آپ کا تبصرہ