بدھ 7 اکتوبر 2026 - 12:22
اپنے علم کو عملی میدان میں بروئے کار لائیں / دینی و معاشرتی مسائل کی جوابدہی پر تاکید

حوزہ / جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر نے عملی میدان میں طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور نظام و معاشرے کے مسائل کا جواب دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اس ادارے میں علومِ انسانی کمپلیکس نے تعلیم و تربیت، حکمت و فلسفہ اور اسلامی کلام کے علمی گروہوں کے محور کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے جامعۃ الزہرا (س) کے مسئولین کی 249ویں نشست میں اس حوزوی علمی ادارے کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے علم کو عملی میدان میں بھی بروئے کار لائیں اور نظام اسلامی و معاشرے کے مسائل کا جواب دینے کے قابل ہوں۔

انہوں نے جامعۃ الزہرا (س) کی طالبات کی علمی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: الحمدللہ، ہماری طالبات علمی بنیادوں کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتی ہیں اور علمی و معاشرتی مسائل کا جواب دینے کے حوالے سے قابل قدر صلاحیتوں کی حامل ہیں تاہم ان میں سے بعض صلاحیتیں اب تک انفرادی طور پر یا اساتذہ اور فعال علمی مراکز کے ذریعہ بروئے کار لائی گئی ہیں۔

اس نشست کے دوران جامعۃ الزہرا (س) کے علومِ انسانی کمپلیکس کے نئے مدیر حجت الاسلام والمسلمین اسدپور نے جامعۃ الزہرا (س) کی مدیر کے اعتماد اور یہ ذمہ داری سونپنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علومِ انسانی کے میدان میں اسلامی انقلاب کے ایک اہم نصب العین کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اسلامی انقلاب کے بلند اہداف میں سے ایک یہ تھا کہ ہم جدید علومِ انسانی میں اپنا اثر و تصرف پیدا کرنے کے قابل ہوں؛ تاہم ہمیں صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ علمی، معرفتی، اقداری اور دینی مبانی کی بنیاد پر انسانی اور سماجی مظاہر کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہیے۔

اپنے علم کو عملی میدان میں بھی بروئے کار لائیں / دینی و معاشرتی مسائل کی جوابدہی پر تاکید

انہوں نے اسلامی علومِ انسانی کے تصور کے بارے میں رہبر معظم شہید کے مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: رہبر معظم شہید نے حوزہ اور یونیورسٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک نشست میں ’’علومِ انسانی کی اسلامی سازی‘‘ کی اصطلاح کے حوالے سے بعض نکات بیان کیے تھے اور اس اصطلاح کو اس لیے درست تعبیر نہیں سمجھا تھا کہ اس سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ جدید علومِ انسانی کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور صرف اس کے بعض حصوں کو اسلامی مفاہیم کے ذریعے مکمل کیا جانا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین اسدپور نے مزید کہا: اس نقطۂ نظر کی بنیاد پر ہمیں موجودہ علومِ انسانی کو صرف اسلامی بنانے کے بجائے اپنے معرفتی اور فکری مکتب کی بنیاد سے معاصر انسان کے مظاہر کا سامنا کرنا اور ان کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: ہمیں اس قابل ہونا چاہیے کہ علومِ انسانی کے نظریات کے ذریعہ انسان کے مظاہر کا تجزیہ اور ان کی تشریح کریں، ان کے وجود میں آنے کے اسباب و عوامل کو پہچانیں اور بالآخر پالیسی سازی، انتظام و انصرام اور ان مظاہر کی سمت متعین کرنے کے مرحلے تک پہنچیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ زیادہ مطلوبہ صورتِ حال کس طرح پیدا کی جا سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha