حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے تعلیم و تربیت کے نظام سے متعلق اہم حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس بڑے دور اور آنے والے حالات میں دانشوروں، ماہرین، اہل علم، ذمہ دار اداروں اور خاص طور پر تعلیم و تربیت کے بڑے ادارے اور قابل احترام اساتذہ کا کردار بہت اہم اور ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ اسلامی تربیت کے میدان میں کام کرنے والوں پر موجودہ نسل، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے سلسلے میں بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے تعلیم و تربیت کے نظام کو درپیش نئے مسائل اور مواقع پر بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق، خاندان اور حکومت کی طرف سے تعلیم و تربیت کی نگرانی اور رہنمائی آج ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، سماجی حالات اور مادی و مغربی ثقافت کے اثرات کی زد میں ہے۔ اسلامی نظام اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق اس نگرانی اور رہنمائی کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اور زمانے کے حالات اور تبدیلیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسے دوبارہ مضبوط اور بہتر بنانا چاہیے۔
انہوں نے اس اہم بات پر بھی زور دیا کہ اسکول تعلیم و تربیت کا بنیادی مرکز اور اصل محور ہے اور اساتذہ، مدیران اور تربیتی کارکن نئی نسل کی تربیت کے رہنما اور معمار ہیں۔ ایک بہتر اور مثالی اسکول کے قیام اور اساتذہ و مدیران کے علم و شعور کو بلند کرنے کے لیے کوشش کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
آیت اللہ اعرافی کی نظر میں تعلیم و تربیت کے نظام کو درپیش مسائل، مواقع اور اہم حکمتِ عملی درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی تربیت کے مرکز کے اجلاس کا انعقاد، جس میں تعلیم و تربیت کے میدان سے وابستہ معزز افراد اور فعال شخصیات شریک ہیں، انقلاب اسلامی کے اس حساس اور نئے دور میں اور ایران و اسلام کی تاریخ کے تلخ و شیریں حالات کے درمیان تعلیم و تربیت کے نظام کو درپیش نئے مسائل اور مواقع کا دوبارہ جائزہ لینے اور ان کے لیے نئے اور مؤثر حل تلاش کرنے کا اچھا موقع ہے۔
اسلامی انقلاب کا نیا دور ہمارے قائد و رہبرِ شہید، شہدائے عزیز، میناب کے طیبہ اسکول کے کم عمر شہداء، ایران اور محورِ مزاحمت کے شہداء کی قربانیوں کے ساتھ شروع ہوا ہے۔ یہ دور تیسری جنگ اور انقلاب و محورِ مزاحمت کے نظریے اور امریکی صہیونی بالادستی کے نظام کے درمیان بنیادی اور وسیع مقابلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
امام خمینیؒ کی فکر، رہبرِ شہیدؒ کی رہنمائی اور ان کے صالح جانشین رہبرِ معظم انقلاب اسلامی (مدظلہ العالی) کی رہنمائی میں ایران کی بیدار قوم اور بیدار امت، مسلح افواج اور محورِ مزاحمت کے جانباز کارکنوں کی قربانیوں کے ساتھ اس نئے دور اور اسلامی انقلاب کی نئی پیش رفت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس بڑے دور اور آنے والے حالات میں دانشوروں، ماہرین، اہل علم، ذمہ دار اداروں اور خاص طور پر تعلیم و تربیت کے بڑے ادارے اور قابل احترام اساتذہ کا کردار بہت اہم اور ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ اسلامی تربیت کے میدان میں کام کرنے والوں پر موجودہ نسل، نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے سلسلے میں بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تعلیم و تربیت کے ادارے، اساتذہ، مربی اور ذمہ دار مدیران مل کر آنے والی تبدیلیوں کی قیادت کر سکتے ہیں، نئے بڑے مواقع پیدا کر سکتے ہیں اور موجودہ مسائل پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میں تعلیم و تربیت کے نظام سے وابستہ تمام محترم افراد، آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے والوں، اس روشن میدان میں کام کرنے والے تمام افراد اور اس اجلاس میں شریک تمام معزز شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں:
۱۔ تعلیم و تربیت کو درپیش اہم مسائل
آج انسان کی ترقی اور تربیت کا سفر اور تعلیم و تربیت کے نظام کو بہت سی مشکلات اور سخت حالات کا سامنا ہے۔ بڑے مواقع کے باوجود اس میدان میں کئی بڑے مسائل موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
الف) آج انسان کی سوچ پر مادی نظریات اور غیر دینی افکار کا اثر بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں علم، ٹیکنالوجی، زندگی اور تعلیم و تربیت کے بہت سے شعبوں میں مادی سوچ غالب آ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے، جہاں روحانی اور اخلاقی اقدار کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی ظاہری ترقی اور چمک دمک کے باوجود انسان اپنی پاک فطرت اور دینی و روحانی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
ب) مادی سوچ کے ساتھ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار ترقی نے انسان اور نوجوانوں کے لیے ایک نئی دنیا پیدا کر دی ہے۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن اس نے انسان کی سوچ، روح اور ذہن اور تعلیم و تربیت کے نظام کے لیے کئی نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ذہن و انسانی رویوں کے علوم اور مصنوعی ذہانت میں ہونے والی ترقی نے مستقبل کے لیے بہت سے نئے اور پیچیدہ سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
ان تبدیلیوں سے ایک طرف تحقیق، علم حاصل کرنے اور مہارت سیکھنے کی رفتار اور درستگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن دوسری طرف آن لائن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیم کی طرف بڑھنے سے انسانی تعلقات، استاد اور شاگرد کا قریبی رشتہ اور اخلاقی و روحانی اقدار کمزور ہو رہی ہیں۔ اس سے مستقبل کے بارے میں مزید تشویش بھی پیدا ہوتی ہے۔
ج) اس کے علاوہ دنیا پر ظلم، طاقت، دولت اور سیاسی فریب پر مبنی بالادستی کا نظام قائم ہے، جو دنیا کے ثقافتی اور تعلیمی نظاموں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس طاقت نے دنیا کی ثقافت اور تربیت کو مادی سوچ اور اپنی بالادستی کی بنیاد پر چلانے کی کوشش کی ہے اور انسانی، دینی، عدل اور روحانی اقدار کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
د) اس کے ساتھ مختلف سائنسی، ٹیکنالوجی اور علمی تبدیلیوں نے آج کے انسان اور نوجوانوں کے سامنے نئی سوچ، نئے سوالات اور نئی خواہشات پیدا کر دی ہیں۔ دینی، روحانی اور الٰہی افکار کو بھی نئے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال ایک طرف تشویش کا باعث ہے، لیکن اگر صحیح انداز سے اس کا مقابلہ کیا جائے تو یہی حالات نئے مواقع اور امید کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
ہ) یہ تعلیم و تربیت کو درپیش بڑے مسائل کی صرف چند مثالیں ہیں۔ ان تمام مسائل نے اور ان جیسے دوسرے مسائل نے دنیا اور ہمارے ملک میں تعلیم و تربیت کے نظام کو کمزور کیا ہے اور آئندہ بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے بہت نقصان دہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور اس کے مختلف اور پیچیدہ پہلو ہیں۔ اس لیے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ مطالعہ اور بنیادی اقدامات ضروری ہیں
۲۔ ان حالات کا صحیح مقابلہ کیسے کیا جائے؟
یہ مسائل موجودہ تعلیم و تربیت کے بڑے چیلنجز کا صرف ایک حصہ ہیں۔ ان حالات نے حوزہ، یونیورسٹی اور اسکولوں کے علمی، ثقافتی اور تعلیمی نظام کو بھی مشکل حالات سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ سیاسی، ثقافتی، علمی اور تعلیمی میدان میں کام کرنے والے افراد ان تبدیلیوں کے مقابلے میں مختلف رویے رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ مادی سوچ اور مغربی طرزِ زندگی کی اس تبدیلی کو درست سمجھتے ہیں اور بغیر گہرائی سے سمجھے اس کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔
کچھ لوگ ان حالات کو صحیح طرح سمجھنے سے قاصر ہیں، لیکن پھر بھی ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ان کا مقابلہ سطحی اور ظاہری انداز میں ہوتا ہے۔
صحیح راستہ یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کا سمجھ داری اور فعال انداز میں مقابلہ کیا جائے اور اسلامی اور مقامی شناخت اور تعلیم و تربیت کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے بنیادی اقدامات کیے جائیں۔ البتہ اس راستے کے لیے بہت محنت، تیاری اور سنجیدہ کوشش کی ضرورت ہے۔
۳۔ اسلامی انقلاب اور تعلیم و تربیت
اسلامی انقلاب نے موجودہ دنیا کی تاریکی میں ایک نئی روشنی پیدا کی اور علم، روحانیت، انصاف اور ترقی کے ایک نئے نظریے کی بنیاد رکھی۔
اسلامی انقلاب ایک بڑی اور مختلف پہلوؤں پر مشتمل تبدیلی نام ہے۔ اس کا سب سے اہم اور گہرا پہلو علم اور فکر سے متعلق ہے۔ اس لیے اسکول، اس کے بعد یونیورسٹی اور حوزات علمیہ کو اسلام اور اسلامی انقلاب کی اس علمی اور فکری سوچ کا مرکز ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں خاندان اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ اسکولوں، تعلیم و تربیت کے اداروں اور قابل احترام اساتذہ کا کردار بہت اہم اور دیرپا ہے۔
۴۔ موجودہ حالات میں تربیت کی ضرورت
مادی سوچ، بے قابو خواہشات اور موجودہ نسل کو درپیش مختلف خطرات کے درمیان تربیت کے مسئلے کا سمجھ داری، ذمہ داری، جذبے اور فعال و انقلابی انداز میں مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں چند باتیں خاص طور پر اہم ہیں:
پہلی بات: خاندان اور حکومت کی طرف سے تعلیم و تربیت کی نگرانی اور رہنمائی آج ٹیکنالوجی کی ترقی، سماجی حالات اور مادی و مغربی ثقافت کے اثرات کی زد میں ہے۔ اسلامی نظام اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق اس نگرانی اور رہنمائی کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ زمانے کے حالات اور تبدیلیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسے دوبارہ مضبوط اور بہتر بنانا چاہیے۔
دوسری بات: موجودہ مشکل حالات میں نوجوان نسل کو مضبوط بنانا، ان کے علم و فکر کی بنیاد کو مضبوط کرنا اور ان کے ارادے کو پختہ کرنا تربیت کی بنیادی ضرورت ہے۔ مختلف حملوں اور منفی اثرات کا مقابلہ مضبوط ارادے اور دینی و اعلیٰ اقدار کو زندگی میں جگہ دینے سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے تمام تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی خصوصیات اور ضروریات کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے اور اسی کے مطابق نئے طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔
تیسری بات: تعلیم و تربیت میں تبدیلی کے منصوبے سے امید تھی کہ اس کے ذریعے تعلیم و تربیت کے نظام کو بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا، لیکن اس پر عمل کے لیے بعض اچھی کوششوں اور جذبے کے باوجود ہمیں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس کی کچھ وجوہات واضح ہیں اور کچھ اس مختصر گفتگو میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ اب اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے ساتھ ساتھ اس میں ضروری بہتری اور تکمیل بھی کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں ذمہ دار اساتذہ کی اجتماعی کوشش، ان کا مطالبہ اور تعاون بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
چوتھی بات: اسکول تعلیم و تربیت کا بنیادی مرکز اور اصل محور ہے۔ اساتذہ، مدیران اور تربیتی کارکن نئی نسل کی تربیت کے رہنما اور معمار ہیں۔ ایک اچھے اور مثالی اسکول کے قیام اور اساتذہ و مدیران کے علم و شعور کو بلند کرنے کے لیے کوشش کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے علم، شعور اور معاشی حالات کو بہتر بنانے کے علاوہ معاشرے میں ان کا مقام اور تعلیم و تربیت کے ادارے کی عزت و اہمیت بھی بہت ضروری ہے۔ اساتذہ اور تربیتی کارکنوں کو وہ مقام اور عزت ملنی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں، کیونکہ ان کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔
پانچویں بات: مختصر یہ کہ نوجوان نسل، خاندان اور تعلیم و تربیت کا ادارہ اسلامی نظام کے تمام اداروں، انتظامی و قانون ساز اداروں اور پورے معاشرے کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ تعلیم و تربیت کی ترقی اور بہتری کے لیے عوام، حکومت، ریاستی اداروں اور عوامی اداروں کی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔
آخر میں میں اس اجلاس کے منتظمین، شرکا اور تمام معزز حاضرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام عزیزوں اور اس علمی و تربیتی مرکز کو اسلام، اسلامی انقلاب اور وطن کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
میں اپنی گفتگو کو انبیائے الٰہی اور اولیائے خدا، بالخصوص خاتم الاوصیا حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ، اسلام اور اسلامی انقلاب کے عظیم شہداء، خصوصاً امام خمینیؒ اور رہبرِ شہیدؒ کا سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ختم کرتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا کرتا ہوں کہ وہ اسلام و مسلمانوں، ایران کی عظیم قوم، مسلح افواج اور محورِ مزاحمت کو کامیابی عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
علیرضا اعرافی
سربراہ حوزہ علمیہ ایران









آپ کا تبصرہ