پیر 28 ستمبر 2026 - 11:12
حزب اللہ افراد پر نہیں بلکہ معرفت، ایمان، ارادے اور ولایت پر قائم ہے

آیت اللہ اعرافی کا حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کے نام پیغام:

حزب اللہ افراد پر نہیں بلکہ معرفت، ایمان، ارادے اور ولایت پر قائم ہے

سید حسن نصر اللہ اسلامی دنیا کی ایک لازوال حقیقت اور ایک حیات بخش مکتب ہیں / حوزات علمیہ پوری طاقت سے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں

حوزہ / مدیر حوزہ علمیہ آیت اللہ اعرافی نے حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم، سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان کے نام سید الشہداء امت حضرت سید حسن نصر اللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین (رضوان اللہ تعالیٰ علیہما) کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر پیغام ارسال کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر نے سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان شیخ نعیم قاسم کے نام جاری ایک پیغام میں کہا: دشمن نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مقاومتی محاذوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے تاکہ ہر ایک کو تنہائی میں گھٹنوں کے بل گرا سکے۔ لیکن ان دو سال کے واقعات نے ثابت کیا کہ تہران سے بیروت تک، غزہ سے صنعاء اور بغداد تک، آبنائے ہرمز سے باب المندب تک مقاومتی محاذ ایک ہی متحد محاذ کی مختلف شکلیں ہیں۔ یہ اتحاد کوئی نیابتی تعلق نہیں ہے۔ یہ مشترکہ ایمان، مشترکہ دشمن اور مشترکہ آرمان و نظریات سے پیدا ہونے والا رشتہ ہے، جس میں ہر محاذ اپنی مرضی اور فیصلے سے، ایک ہی راستے پر، قومی اسٹریٹجک مفادات، حقیقی اور عینی علاقائی مصالح اور امت اسلامیہ کے عظیم مفادات کے تحفظ کے لیے قدم اٹھاتا ہے۔

مدیر حوزہ علمیہ کے پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا۔ (احزاب، ۲۳)

میرے عزیز بھائی اور مجاہد علامہ، حضرت حجت الاسلام والمسلمین جناب شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ لبنان کے محترم سیکرٹری جنرل (حفظہ اللہ تعالیٰ و رعاہ)

سلامٌ علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار

27 ستمبر 2024ء کی وہ شام گزرے دو سال ہو گئے جب صیہونی دشمن نے امریکی حمایت سے بیروت کے علاقہ ضاحیہ پر درجنوں سنگر شکن بم گرائے اور یہ گمان کیا کہ سید مقاومت کی آواز بجھا کر شاید مقاومت کا چراغ بھی بجھا دے گا۔ ﴿یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ﴾۔ اب سید الشہداء امت ، حضرت حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصر اللہ اور ان کے سچے اور دیرینہ ساتھی حضرت حجت الاسلام والمسلمین شہید سید ہاشم صفی الدین (رضوان اللہ تعالیٰ علیہما) کی شہادت کی دوسری برسی پر حوزات علمیہ، اساتذہ، فضلاء اور طلبہ کی طرف سے، جناب عالی، ان دونوں شہیدوں کے محترم خاندان، سرفراز حزب اللہ اور شریف لبنانی قوم کو دوبارہ تعزیت پیش کرتے ہوئے، چند نکات پیش کرتا ہوں۔

اول؛ وہ خون جس نے دشمن کے حساب و کتاب کو الٹ دیا۔ دشمنوں کا گمان تھا کہ قیادت کو ختم کر کے مقاومت کا شیرازہ بکھر جائے گا؛ وہی حساب کی غلطی جو انہوں نے اس سے پہلے سید عباس موسوی اور حاج عماد مغنیہ کی شہادت میں کی تھی اور آج امام شہید کی شہادت میں بھی اسی میں مبتلا ہیں لیکن دو سال گزر گئے اور دنیا نے جس چیز کو دیکھا، وہ انہدام نہیں بلکہ قیادت کی تعمیر نو، میدان میں استقامت اور اقتدار، اور دلوں اور افکار میں مقاومتی محاذ کی توسیع تھی۔

یہ وہی ناقابل تبدیل الٰہی سنت ہے جو شہید کے خون کو امت کی زندگی کا بیج بنا دیتی ہے ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ﴾ اور یہی وہ حقیقت ہے جو سید شہید نے بارہا اپنی زبان پر لائی: "ہم شکست نہیں کھاتے؛ اگر ہم جیت جائیں تو جیتے ہیں اور اگر شہید ہو جائیں تو پھر بھی جیتے ہیں"۔

آج سید حسن نصر اللہ کوئی یاد نہیں بلکہ اسلامی دنیا کی ایک لازوال حقیقت اور ایک حیات بخش مکتب ہیں؛ ایسا مکتب جو تشیع اور لبنان کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر دنیا کے آزاد لوگوں کے وجدان میں جگہ بنا چکا ہے۔

دوم؛ سید مقاومت، ایک مجاہد عالم اور جامع شخصیت۔ وہ عظیم شہید حوزات علمیہ نجف اور قم کی پرورش یافتہ تھے اور انہوں نے ثابت کیا کہ اصیل شیعہ روحانیت علم و عمل، حکمت و شجاعت، اور معنویت و سیاست کو ایک شخصیت میں جمع کر سکتی ہے۔ وہ اخلاقی فضائل کا مظہر اور عربی و اسلامی عزت کی علامت تھے؛ انہیں اسٹریٹجک اور گہری سیاسی سمجھ، موثر انتظام اور میدانی شجاعت حاصل تھی اور ان کی بات، ان کی سچائی کی پشت پناہی سے حتیٰ کہ ان کے دشمنوں کے نزدیک بھی حجت تھی۔ ان کا بڑا درس ہمارے سب کے لیے یہ ہے کہ خالی ہاتھ لیکن مضبوط ارادے کے ساتھ چھوٹے مواقع سے بڑی صلاحیتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اس سب کا راز ان کی ولایت مداری اور امام خمینی (قدس سرہ) اور امام شہید حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کے راستے کی پاسداری تھی۔

حوزات علمیہ ایسے فرزند پر فخر کرتے ہیں اور اسے آج کے طلبہ کی نسل کے لیے "میدان میں عالم" کا روشن نمونہ سمجھتے ہیں۔ سوم؛ شہیدوں کا کارواں۔ شہید سید ہاشم صفی الدین، سید مقاومت کے وفادار ساتھی اور ہمیشہ کے رفیق، اور ان تمام کمانڈروں، مجاہدین اور بے گناہ لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اس راستے میں شہید ہوئے۔ یہ کارواں، شہید شیخ راغب حرب اور شہید سید عباس موسوی سے لے کر شہید حاج عماد مغنیہ اور شہید سید حسن نصر اللہ اور حاج قاسم تک، مقاومتی محاذ کے تمام شہداء کے ساتھ، جہاد، اخلاص، صدق اور وفا کی ایک مسلسل زنجیر ہے جس کی حالت کا وصف یہ الٰہی کلام ہے: ﴿وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا﴾۔

چہارم؛ آپ جناب عالی، اسی تسلسل کے پرچمدار ہیں۔ مقاومتی تاریخ کے سخت ترین دنوں میں، جب دشمن گمان کر رہا تھا کہ حزب اللہ بے سربراہ رہ گئی ہے، جناب عالی نے دوسرے مقتدر اور حکیم کمانڈروں کے ساتھ، جہاد اور انتظام میں دیرینہ سابقے اور شہید سیکرٹری جنرلز کے ساتھ تین دہائیوں سے زیادہ کی رفاقت کی بنیاد پر، ایک بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی اور اس پرچم کو بلند رکھا۔

حزب اللہ کی داخلی ہم آہنگی کی حفاظت اور اس کی دوبارہ تخلیق و تقویت میں، لبنان کے قومی اتحاد کی پاسداری میں، دشمن کے فتنہ انگیز منصوبوں کو ناکام بنانے میں، رہبری معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ مضبوط عہد کی تجدید میں، اور مقاومتی محاذ کو علاقائی اور عالمی محاذ تک پھیلانے میں آپ کی حکمت قابل تعریف اور لائق تکریم ہے۔

حوزات علمیہ جناب عالی کو ایک دانشور عالم، صاحب فکر مصنف اور حکیم رہنما کے طور پر پہچانتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اعلان کیا ہے، پوری طاقت کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بغیر کسی شک کے دشمنوں پر نصرت، فتح اور حتمی کامیابی، اسرائیل کی نابودی، امریکی سپر پاور اور زوال پذیر مغربی تہذیب کی نابودی، خداوند کی قطعی سنت اور مقاومتی محاذ، عظیم لبنانی قوم، عزیز و محبوب حزب اللہ اور تمام مجاہدوں کا حتمی مقدر ہے۔

پنجم؛ حزب اللہ میں مجاہدین بھائیوں سے خطاب: ہم حزب اللہ کے کمانڈروں، ذمہ داروں، نمائندوں، مجاہدین اور امدادی، میڈیا اور ثقافتی قوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ لوگ سید الشہداء کے خون کے امین ہیں اور اپنے ایمان، نظم و ضبط اور بصیرت سے ثابت کیا کہ حزب اللہ افراد پر قائم نہیں بلکہ معرفت، ایمان، ارادے اور ولایت پر قائم ہے۔ سرفراز جانبازوں، خاص طور پر پیجر دھماکوں اور حالیہ جنگ کی جنایت سے متاثر ہونے والوں، جنہوں نے آنکھ اور ہاتھ کے زخموں کے ساتھ نورانی بصیرت اور مضبوط ترین ارادہ پیش کیا، کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ﴿فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ﴾

ششم؛ شریف لبنانی قوم اور اس کے وفادار شیعوں سے خطاب: عظیم لبنانی قوم، خاص طور پر جنوب، ضاحیہ اور بقاع کے صابر لوگوں کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آپ نے بے گھر ہونے کو عزت اور بصیرت کے ساتھ برداشت کیا، گھروں کی ویرانی کو صبر اور ایمان کے ساتھ پیچھے چھوڑا اور اپنے دیار میں واپس آ کر عوام اور مقاومت کے ناقابلِ جدا رشتے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

لبنانی شہیدوں کی مائیں، باپ، بیویاں اور بچےحضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح کھڑے ہوئے اور اس مقاومت کی عظمت کو اس کے ہتھیار میں نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کے ارادے میں معنی خیز بنایا۔ لبنان کے شیعہ مکتب جبل عامل کے وارث ہیں؛ ایسا مکتب جس نے شہید اول اور شہید ثانی کو پروان چڑھایا اور لبنانی النسل علما جیسے محقق کرکی اور شیخ بہائی اس سے اٹھے اور لبنان اور ایران کے حوزات علمیہ کے درمیان علمی و معنوی رشتہ قائم کیا جو آج سنگر مقاومت میں جلوہ گر ہے۔ اسی طرح لبنان کے کسی بھی مذہب اور طبقے سے وہ تمام افراد، جنہوں نے مقاومت کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی اتحاد کی پاسداری کی، ہم ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جان لیں کہ آپ تاریخ میں اہل بیت علیہم السلام کے بہترین انصار میں شامل ہیں اور آپ کے صبر و مقاومت کے فضل سے انبیا اور اولیائے الٰہی کی آرزوئیں پوری ہو رہی ہیں اور دنیا اپنے تاریخی موڑ اور نقطہ عطف پر کھڑی ہے اور عالمی تعلقات بدل رہے ہیں اور حق و باطل کی تاریخی جنگ اپنے انجام کے قریب پہنچ رہی ہے اور نئی اسلامی تہذیب تشکیل پا رہی ہے اور آپ ان تمام تبدیلیوں میں شریک و سہیم ہیں۔ آج اور آنے والی تاریخ آپ کی ہے اور ایران، عراق اور یمن کی تمام مبعوث قوموں کی ایثار کی مقروض ہے۔

ہفتم؛ جمہوریہ اسلامی ایران کا اقتدار۔ ایرانی قوم نے امریکہ اور صیہونیوں کی مسلط کردہ جنگ میں اپنے امام اور رہنما کی شہادت کا زخم بھی اپنے دل پر رکھا؛ لیکن دشمن جو اسلامی نظام کے انہدام کا خواہاں تھا، نے حیرت سے دیکھا کہ قانونی طریقہ کار کی بنیاد پر رہبری حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کے سپرد کر دی گئی اور پوری قوم اتحاد اور استقامت کے ساتھ ولایت کے گرد جمع ہو گئی۔

جمہوریہ اسلامی اس سخت امتحان سے زیادہ مضبوط اور زیادہ منظم ہو کر نکلی اور مقاومت کی حمایت کو کوئی عارضی چیز نہیں، بلکہ اسٹریٹجک اور اصولی پالیسی قرار دیا۔ یہ اس رشتے کی صریح اور واضح مثال ہے جسے کوئی دباؤ کمزور نہیں کر سکے گا۔

آج جمہوریہ اسلامی نظام، عالمی جنگ، محاصروں، پابندیوں، ظلموں اور جامع، مرکب، عسکری، سیاسی، اقتصادی، میڈیا اور شناختی جنگ کے مسلط ہونے کے باوجود، مکمل اقتدار میں، متحد، منظم اور غیور عوام کے ساتھ، عزم و ارادے والے ذمہ داروں، ہوشیار اور طاقتور کمانڈروں اور مسلح افواج اور دنیا کے دور دراز علاقوں میں بے شمار اتحادیوں کے ساتھ، حتمی فتح اور پیروزی کے قریب ہے اور ان شاء اللہ تمام مجاہدوں کے ساتھ تمام رکاوٹوں اور مشکلات سے عزت، طاقت اور حکمت کے ساتھ عبور کرے گا۔

ہشتم؛ محاذوں کا اتحاد، ایک اسٹریٹجک حقیقت۔ دشمن نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مقاومتی محاذوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے تاکہ ہر ایک کو تنہائی میں گھٹنوں کے بل گرا سکے۔ لیکن ان دو سال کے واقعات نے ثابت کیا کہ تہران سے بیروت تک، غزہ سے صنعاء اور بغداد تک، آبنائے ہرمز سے باب المندب تک مقاومتی محاذ ایک ہی متحد محاذ کی مختلف شکلیں ہیں۔ یہ اتحاد کوئی نیابتی تعلق نہیں ہے۔ یہ مشترکہ ایمان، مشترکہ دشمن اور مشترکہ آرمان و نظریات سے پیدا ہونے والا رشتہ ہے، جس میں ہر محاذ اپنی مرضی اور فیصلے سے، ایک ہی راستے پر، قومی اسٹریٹجک مفادات، حقیقی اور عینی علاقائی مصالح اور امت اسلامیہ کے عظیم مفادات کے تحفظ کے لیے قدم اٹھاتا ہے۔ ایرانی کمانڈروں کے شہداء کا خون جو حزب اللہ کے شہداء کے خون کے ساتھ مٹی پر بہا، اسی رشتے کی علامت ہے۔ ﴿إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِهِ صَفًّا کَأَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ﴾

نہم؛ حوزات علمیہ کا عہد۔ حوزات علمیہ، اپنے عہد پر قائم ہیں اور تیار ہیں کہ اس شہید بزرگوار کی فکری میراث کی پاسداری میں فقہ، سیاسی فکر، انتظام اور اخلاق جہاد کے میدانوں میں، اس میراث کے مختلف زبانوں میں ترجمہ اور نشر میں، لبنانی حوزات علمیہ اور علما کے ساتھ علمی رشتے کی توسیع میں، اور مقاومتی محاذ کی کسی بھی علمی، معنوی اور تبلیغی حمایت میں اپنا حصہاور کردار ادا کریں۔

آخر میں، ایک بار پھر سید الشہداء امت اور تمام شہداء مقاومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال سے جناب عالی اور حزب اللہ کے تمام مجاہد بھائیوں کے لیے توفیق، صحت، استقامت اور نصرتِ الہی کی دعا کرتے ہیں؛ اس امید پر کہ ان شہیدوں کے خون کی برکت سے قدس شریف آزاد ہو اور اللہ کا سچا وعدہ متحقق ہو۔ سلام اور درود اور بہترین عنایات و الطاف اور خداوند کی وسیع رحمت شریف حزب اللہ پر، لبنان کے عزت مند شیعوں اور مسلمانوں پر اور تمام امت اسلام پر۔

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ۔ (آل عمران، ۱۶۹)

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

علی رضا اعرافی

مدیر حوزہ علمیہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha