جمعرات 17 ستمبر 2026 - 06:24
توہینِ رسالت؛ کیا نبی کی اتنی بڑی نافرمانی گناہ اور توہینِ رسالت نہیں؟

حوزہ/واقعۂ قرطاس و قلم اس وقت پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں تھے۔ آپؐ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے فرمایا کہ میرے لیے لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں گا جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

یہ سوال کسی جذباتی بحث کا نہیں، بلکہ اہلِ سنت کی معتبر ترین حدیثی کتابوں میں محفوظ ایک اہم واقعے پر ہے۔

واقعۂ قرطاس و قلم اس وقت پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں تھے۔ آپؐ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے فرمایا کہ میرے لیے لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں گا جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ یہ الفاظ معمولی نہیں تھے؛ یہ ایک ایسے نبیؐ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے تھے جن کے بارے میں قرآن گواہی دیتا ہے:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

“اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔”

پھر یہی قرآن رسول اللہؐ کی اطاعت کا واضح حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

“جس نے رسولؐ کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔”

صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ

“آؤ! میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو۔”

اسی موقع پر حضرت عمر نے کہا:

إِنَّ النَّبِيَّ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ

“نبیؐ پر بیماری کا غلبہ ہے، اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے، ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔”

صحیح بخاری، کتاب الاعتصام، حدیث 7366

اس کے بعد وہاں موجود لوگوں کے درمیان اختلاف اور شور پیدا ہوگیا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:

قُومُوا عَنِّي

“میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔”

حضرت ابن عباس اس واقعے کو ہمیشہ یاد کرتے ہوئے فرماتے تھے:

إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ

“اصل مصیبت، بلکہ بڑی مصیبت یہ تھی کہ ان کے اختلاف اور شور نے رسول اللہؐ کو وہ تحریر لکھنے سے روک دیا۔”

اب سوال یہ ہے کہ جب رسول اللہؐ نے خود لکھنے کا سامان طلب فرمایا اور ارشاد کیا کہ ایسی تحریر لکھوں گا جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے، تو کیا آپؐ کے حکم پر فوراً قلم و کاغذ پیش نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟

کیا کسی کو یہ حق تھا کہ وہ اپنی رائے کو رسول اللہؐ کی خواہش کے مقابلے میں پیش کرے؟

قرآن کہتا ہے:مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ

“جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔”سورۂ نساء، 4:80

اور فرمایا:وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا.“رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔”سورۂ حشر، 59:7

قرآن یہاں تک کہتا ہے:لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ.“اپنی آوازیں نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو۔”سورۂ حجرات، 49:2

جب قرآن رسول اللہؐ کے سامنے آواز بلند کرنے سے بھی منع کر رہا ہے، تو پھر رسول اللہؐ کے حکم کے وقت یہ کہنا کہ “ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے”، کیا یہ رسالت کے احترام پر ایک سنگین سوال نہیں؟

قرآن تو واقعی اللہ کی کتاب ہے، لیکن قرآن ہی تو رسول اللہؐ کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے۔ رسول اللہؐ لکھنا چاہتے تھے، ایک ایسی تحریر لکھنا چاہتے تھے جس کے بارے میں خود فرمایا کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے، اور سامنے سے جواب آیا:

حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ

“ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔”

اگر رسول اللہؐ کے واضح حکم کے سامنے اپنی رائے پیش کرنا، آپؐ کے حکم کو روک دینا اور آپؐ کو لکھنے سے محروم کر دینا توہینِ رسالت نہیں، تو پھر توہینِ رسالت کی تعریف کیا ہے؟

اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔

اسی واقعے کے بارے میں صحیح مسلم میں ایک اور روایت موجود ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:

ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا

“میرے لیے شانے کی ہڈی اور دوات، یا تختی اور دوات لاؤ، میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں گا جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔”

اس کے بعد روایت میں الفاظ ہیں:

فَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ يَهْجُرُ

“انہوں نے کہا: رسول اللہؐ ہذیان فرما رہے ہیں۔”

حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ (كتاب الوصية)، باب ترک الوصیة لمن لیس لہ شیء یوصی فیہ، حدیث نمبر 1637

یہاں ذرا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے: کیا یہ باتیں رسول اللہؐ کے لیے کہنا سزاوار تھیں؟

کیا رسول اللہؐ کے سامنے آپ کے حکم کے مقابلے میں یہ کہنا کہ “ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے” اور پھر اسی موقع پر آپ کے بارے میں ایسے الفاظ کہنا، معمولی بات تھی؟

آخر رسول اللہؐ کو اس بات پر کس قدر شدید رنج اور غصہ ہوا ہوگا کہ آپؐ نے اتنا سخت جملہ فرمایا:

«قُومُوا عَنِّي»

“میرے پاس سے اٹھ جاؤ!”

اگر یہ صرف ایک معمولی اختلاف ہوتا تو رسول اللہؐ اتنی سخت بات فرما کے اپنے پاس سے بھگا نہ دیتے؟

اور اگر آپؐ کی مرضی کے مطابق قلم و کاغذ پیش کرنے سے انکار اتنی معمولی بات تھی، تو پھر آپؐ کے لہجے میں یہ شدید ناراضی کیوں ظاہر ہوئی؟

یہ سوال کسی ایک روایت کا نہیں، پورے واقعے کے ادب، اطاعت اور حرمتِ رسالت کا سوال ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ رسول اللہؐ کے بارے میں “يَهْجُرُ” جیسے الفاظ کا استعمال کس معنی میں تھا؟

کیا یہ معمولی جملہ تھا؟

کیا ایسے الفاظ نبیؐ کی شان اور مقام کے مطابق تھے؟

اور اگر رسول اللہؐ کے سامنے آپ کے حکم کو روک دینا، اختلاف و شور پیدا کرنا اور اسی واقعے میں آپؐ کے بارے میں “يَهْجُرُ” جیسے الفاظ کا نقل ہونا بھی توہینِ رسالت کے سوال سے باہر ہے، تو پھر توہینِ رسالت آخر کس چیز کا نام ہے؟

کیا رسول اللہؐ کی حرمت کا کسی معیار سے طے ہوگا، یا شخصیت دیکھ کر؟

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے آخری ایام میں، آپ کے سامنے، آپ کے حکم کے وقت بھی ادب کی یہ صورت پیدا ہوسکتی ہے، تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ توہینِ رسالت آخر کس چیز کا نام ہے، اور اس کا معیار آخر کہاں قائم ہوتا ہے؟

کیونکہ جب معاملہ رسول اللہؐ کی ذاتِ اقدس اور آپؐ کے آخری حکم کا ہو، تو سوال ختم نہیں ہوتے؛ بلکہ ہر جواب کے بعد ایک اور زیادہ تشویش ناک سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

نوٹ: سوال اٹھانا توہین نہیں، بشرطیکہ سوال علمی، سنجیدہ اور اسلامی ادب و احترام کے دائرے میں رہ کر اٹھایا جائے۔ اس مضمون کا مقصد کسی کی دل آزاری یا مقدس شخصیات کی بے حرمتی نہیں، بلکہ معتبر تاریخی و حدیثی روایات کی روشنی میں ایک اہم سوال کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha