حوزه نیوز ایجنسی: امریکہ دنیا کو طاقت کا سبق پڑھاتا ہے۔ اپنی فوج، پابندیوں، دھمکیوں اور عالمی اثر و رسوخ کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہے۔ مگر نیویارک کا یہ منظر شاید اس طاقت کے دعوے سے زیادہ بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔
امریکہ کی اس سے بڑی ذلت کیا ہوگی کہ اسے ایرانی صدر کی سیکریٹ سرویس سے حفاظت کرنا پڑ رہی ہے جس سیکریٹ سرویس کو اس نے ایران کے صدر کو قتل کرنے پر لگا رکھا تھا۔
ایک طرف واشنگٹن ایران کو دھمکاتا ہے، دوسری طرف اسی ایران کے صدر مسعود پزشکیان نیویارک پہنچتے ہیں، اقوامِ متحدہ کے عالمی فورم پر کھڑے ہوکر امریکہ کو جواب دیتے ہیں، اور امریکی ریاستی مشینری اسی مہمانِ ایرانی صدر کی سیکیورٹی کا انتظام کرتی ہے۔
یہ تصویر صرف ایک تصویر نہیں؛ عالمی سیاست کا ایک عجیب آئینہ ہے۔
کل تک پیغام یہ تھا کہ ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکا دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے اقوامِ متحدہ میں ایران کو انتہائی سخت الفاظ میں دھمکایا اور فوجی طاقت کے استعمال کی بات کی۔
مگر اگلے ہی دن ایرانی صدر اسی امریکہ کے قلب میں کھڑے ہوئے اور دنیا کے سامنے کہا کہ ایران دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
یہاں ایران کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: میدان میں مزاحمت، سفارتی میز پر مذاکرات، اور عالمی فورم پر اپنا مقدمہ خود پیش کرنا۔
پزشکیان نے ایک طرف امریکی دباؤ کو مسترد کیا، دوسری طرف یہ بھی کہا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست صرف میزائلوں اور بموں کا نام نہیں رہتی؛ سیاست شعور، تحمل، وقت شناسی اور سفارتی تدبیر کا نام بھی بن جاتی ہے۔
سوچیے!
جس ملک کو واشنگٹن عالمی سطح پر تنہا کرنے اور دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کر رہا ہے، اسی ملک کا صدر اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عالمی پلیٹ فارم پر پہنچتا ہے، پوری دنیا کو اپنا مؤقف سناتا ہے اور پھر مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔
یہ امریکہ کے لیے ایک عجیب سفارتی منظر ضرور ہے۔
دھمکی دینے والا بھی وہی، میزبان بھی وہی؛ دباؤ ڈالنے والا بھی وہی، سیکیورٹی دینے والا بھی وہی اور جسے جھکانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہی عالمی فورم پر کھڑے ہوکر کہہ رہا ہے: ہم بات کریں گے، مگر دھمکی کے نیچے نہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ بلند آواز میں بول رہا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کے دعوے کے باوجود مذاکرات کی ضرورت کیوں باقی ہے؟
اور ایران نے شاید اسی نکتے کو اپنی سفارت کاری کا مرکزی ہتھیار بنا دیا ہے۔
یہ جنگ صرف توپ، میزائل اور طیاروں کی نہیں؛ یہ اعصاب، ارادے، سفارت کاری، بیانیے اور سیاسی حکمت کی جنگ بھی ہے۔
نیویارک کا یہ منظر اسی لیے اہم ہے کہ یہاں ایک طرف دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کا صدر دھمکی دیتا ہے اور دوسری طرف ایران کا صدر اسی طاقت کے مرکز میں کھڑے ہوکر کہتا ہے: ہم مذاکرات سے انکار نہیں کرتے، لیکن طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم بھی نہیں کرتے۔
اور شاید عالمی سیاست کا سب سے تلخ سبق یہی ہے: جس قوم کو صرف طاقت سے جھکانے کی کوشش کی جائے، وہ کبھی کبھی طاقت سے زیادہ خطرناک چیز استعمال کرتی ہے—صبر، شعور اور حکمت۔









آپ کا تبصرہ