تحریر: دیا غدیری، جامعۃ الزہراء، سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد جس بصیرت، شجاعت، صبر، استقامت اور فکری و ابلاغی قوت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ میں خواتین کے انقلابی کردار کی ایک روشن مثال ہے۔
مقدمہ
حمد و ثنا اس ذاتِ اقدس کے لیے ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم عطا کیا اور درود و سلام ہو اس نبیِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ پر، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ سلام و رحمت ہو آپؐ کی پاکیزہ آلؑ پر، جنہیں اللہ تعالیٰ نے عالمِ انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت اور منارۂ حق قرار دیا۔
واقعۂ کربلا تاریخِ اسلام کا وہ عظیم اور فیصلہ کن واقعہ ہے جس نے حق و باطل کے درمیان امتیاز کو ہمیشہ کے لیے واضح کردیا۔ تاہم کربلا کی عظمت صرف میدانِ جنگ میں دی جانے والی قربانیوں تک محدود نہیں؛ بلکہ اس عظیم واقعے کے پیغام کو زندہ رکھنے اور اسے نسل در نسل منتقل کرنے میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد جس بصیرت، شجاعت، صبر، استقامت اور فکری و ابلاغی قوت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ میں خواتین کے انقلابی کردار کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے اسیری کے سخت ترین حالات میں بھی حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اپنے خطبات و کردار کے ذریعے یزیدی اقتدار کے ظاہری جاہ و جلال کو بے نقاب کردیا۔
حضرت زینب کبریٰؑ؛ مختصر تعارف
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا بنی ہاشم کی عظیم اور بافضیلت خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ آپؑ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی صاحبزادی اور امام حسن مجتبیٰؑ و امام حسینؑ کی ہمشیرہ تھیں۔ آپؑ نے اپنی زندگی علم، معرفت، عبادت، صبر، شجاعت اور دین کی نصرت میں بسر کی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا وہ عظیم ہستی ہیں جو کربلا کے سفر میں اپنے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ رہیں اور قیامِ حسینی کے ہر
مرحلے میں ان کی رفیق و معاون رہیں۔ امام حسینؑ نے سفر کیا تو زینب سلام اللہ علیہا بھی سفر میں شریک رہیں؛ امامؑ نے ہجرت فرمائی تو زینب سلام اللہ علیہا نے بھی ہجرت کی؛ امامؑ نے مختلف منازل طے فرمائیں تو زینب سلام اللہ علیہا بھی ان مراحل سے گزریں۔ امام حسینؑ کا میدانِ جہاد کربلا تھا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا میدانِ جہاد، کربلا کے بعد کا وسیع میدان تھا۔
کربلا میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک طرف اپنے بھائی کی شفیق بہن، بچوں کی مہربان سرپرست اور خاندان کی محافظ نظر آتی ہیں، تو دوسری طرف امامت کی با بصیرت معاون اور ایک عظیم مجاہدہ کی حیثیت سے سامنے آتی ہیں۔ شبِ عاشور آپؑ کی شخصیت میں ایک طرف معرفت و بصیرت دکھائی دیتی ہے اور دوسری طرف بہن، ماں اور پھوپھی کی شفقت و محبت نمایاں ہوتی ہے۔
راہِ کربلا سے لے کر کوفہ اور شام تک حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہر موقع پر مناسب کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطبات، گفتگو اور عملی کردار کے ذریعے پیغامِ کربلا کو تاریخ کا لازوال حصہ بنا دیا۔
ان کے قلبِ مطمئن کو دیکھ کر کہتا ہے ظالم
صبر ہے بس آپ کی جاگیر، زینب سلام اللہ علیہا اور حسینؑ
ظلم کی شہ رگ کو کاٹا صبر کی تلوار سے
عزمِ باطل کے لیے زنجیر، زینب سلام اللہ علیہا اور حسینؑ
رہبرِ انقلاب کے افکار کی روشنی میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انقلابی کردار
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت صرف غم و اندوہ، مصیبت اور تیمارداری تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپؑ ایک مسلمان خاتون کے لیے اسلام کے پیش کردہ مکمل اور جامع نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کے بیان کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک ہمہ گیر شخصیت تھیں؛ عالم و دانا، صاحبِ معرفت اور عظیم المرتبت انسان۔ جو شخص بھی آپؑ کے سامنے آتا، آپؑ کی علمی، معنوی اور روحانی عظمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی کا یہی پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ عاشورا جیسا عظیم اور دل خراش واقعہ بھی آپؑ کو جھکا نہ سکا۔ یزید اور ابن زیاد جیسے ظالم و ستمگر حکمرانوں کی ظاہری حشمت و جاہ و جلال بھی آپؑ کے عزم و استقامت کو متزلزل نہ کرسکے۔
مدینہ ہو یا کربلا، کوفہ ہو یا شام؛ ہر مقام پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا ثابت قدم اور سربلند رہیں۔ یزید اور ابن زیاد جیسے مغرور اور ستمگر افراد بظاہر طاقتور ہونے کے باوجود آپؑ کی حق گوئی اور شجاعت کے سامنے اخلاقی و معنوی طور پر شکست خوردہ نظر آئے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت میں ایک طرف نسوانی عطوفت، شفقت اور مہربانی تھی، تو دوسری طرف ایک مومن انسان کی متانت، عظمت، سکون اور پائیداری بھی نمایاں تھی۔ آپؑ مجاہدِ راہِ خدا کی طرح صاف، دوٹوک اور بے خوف زبان رکھتی تھیں۔ آپؑ کی گفتگو خالص معرفت سے پھوٹتی تھی اور سننے والے کو متاثر کیے بغیر نہ رہتی۔
وہ ہستی جو اپنی متین شخصیت اور پائیدار روح کے ذریعے ناموافق اور کٹھن حالات کا مقابلہ کرے، بھڑکتے ہوئے حوادث کے شعلوں کو شجاعت کے ساتھ روند ڈالے، لوگوں کو بیداری اور بصیرت کا درس دے، اپنے زمانے کے امامؑ کو ایک شفیق ماں کی طرح تسلی دے اور طوفانِ حوادث میں یتیم بچوں کے لیے ایک مضبوط حصار بن جائے، یقیناً ایک ہمہ گیر اور مثالی شخصیت کی حامل ہے۔ اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت میں ایک مسلمان عورت کے لیے علم، معرفت، شجاعت، حجاب، عفت، صبر اور اجتماعی ذمہ داری کا جامع نمونہ موجود ہے۔ (اشکوں کا راز، آیت اللہ سید علی خامنہای، ص 31)۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تحریک
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ حضرت علیؑ کی بیٹی اور امام حسینؑ کی بہن تھیں، بلکہ ان کی اصل عظمت ان کی عظیم اسلامی، انسانی اور الٰہی تحریک اور ان کے تاریخی موقف کی وجہ سے ہے۔
آپؑ نے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو الٰہی تکلیف کی بنیاد پر ادا کیا۔ آپؑ کے فیصلوں، اقدامات اور طرزِ عمل نے آپؑ کو ایسی عظمت عطا کی جو کسی بھی اس خاتون کو حاصل ہوسکتی ہے جو حق و حقیقت کی نصرت اور الٰہی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اسی طرح استقامت کا مظاہرہ کرے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے آغاز ہی میں حالات کی صحیح پہچان اور موقع شناسی کا ثبوت دیا۔ امام حسینؑ کے کربلا جانے سے پہلے کے حالات کو سمجھا اور پھر ہر مرحلے میں حالات کی مناسبت سے درست اقدام کا انتخاب کیا۔ یہی بصیرت اور موقع شناسی آپؑ کی شخصیت کو مزید عظیم بناتی ہے۔
کربلا کی جانب روانگی سے قبل ابن عباس اور عبداللہ بن جعفر جیسی صدرِ اسلام کی نامور شخصیات، جو فقاہت، شجاعت، قیادت اور خانوادۂ رسالت سے قربت کے باوجود اس معاملے میں تذبذب کا شکار تھیں، یہ فیصلہ نہ کرسکیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کسی تذبذب کا شکار نہ ہوئیں۔ آپؑ نے پہچان لیا کہ اس راہ میں اپنے امام کو تنہا نہیں چھوڑنا اور امام حسینؑ کے ساتھ سفر کرنا ہی صحیح فیصلہ ہے۔
ایسا ہرگز نہیں تھا کہ آپؑ اس سفر کی سختیوں سے بے خبر تھیں؛ بلکہ آپؑ دوسروں سے کہیں زیادہ اس راہ کی مشکلات کو محسوس کررہی تھیں۔ اس کے باوجود آپؑ نے اپنے امام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد جب ہر طرف تاریکی چھا گئی، دلوں اور آفاقِ عالم پر غم کے سائے گہرے ہوگئے، تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک روشنی بن کر سامنے آئیں۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو واقعۂ کربلا کی حفاظت اور اس کے پیغام کی ترسیل اس انداز میں ممکن نہ ہوتی۔ عاشورا کے بعد اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے قیادت، صبر اور بصیرت کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو شاید امام زین العابدینؑ کی جان بھی محفوظ نہ رہتی اور امام حسینؑ کا پیغام بھی وسیع پیمانے پر دنیا تک نہ پہنچ پاتا۔
امام حسینؑ کی شہادت سے پہلے بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی کے لیے ایک مخلص غم خوار اور مضبوط سہارا تھیں۔ ان کی موجودگی میں امام حسینؑ تنہائی اور تھکن کا احساس کم کرتے تھے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کردار میں یہ حقیقت بخوبی دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے غم میں شریک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے امام اور خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی پوری قوت سے نبھاتی رہیں۔
عصرِ عاشور کا منظر اس کردار کی سب سے بڑی مثال ہے۔ میدانِ کربلا میں تمام مرد شہید ہوچکے تھے۔ خیمہ گاہ میں امام زین العابدینؑ کے سوا کوئی بالغ مرد باقی نہ تھا۔ خواتین اور بچے دشمن کے نرغے میں تھے، بھوک اور پیاس کی شدت
اپنی جگہ، جبکہ ہر طرف خوف و اضطراب کا ماحول تھا۔ ایسے انتہائی دشوار حالات میں جس شخصیت نے آگے بڑھ کر اس بحران کو سنبھالا، وہ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا تھیں۔ (250 سالہ انسان، سید علی خامنہ ای، ص 194)۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کردار سے واقعۂ عاشورا کا زندہ رہنا
اگر حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے کربلا، عصرِ عاشور، کوفہ و شام کے راستے، کوفہ و شام کے درباروں اور مدینہ واپسی کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام تک فلسفۂ عاشورا، امام حسین ابن علیؑ کے اہداف اور دشمن کے ظلم و ستم کو بیان نہ کیا ہوتا تو واقعۂ عاشورا اس آب و تاب کے ساتھ زندہ نہ رہتا جس طرح آج زندہ ہے۔
کربلا میں امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کا میدانِ جہاد ایک عسکری معرکہ تھا، جبکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا میدانِ جہاد تبلیغ، ابلاغ، ثقافت اور فکری بیداری کا میدان تھا۔ دونوں محاذوں کا مقصد ایک تھا: حق کی حفاظت اور باطل کو بے نقاب کرنا۔
اسی لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جدوجہد، سعی و کوشش اور تبلیغی کردار کو کربلا کی تکمیل کہا جاسکتا ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے خون سے جو پیغام تحریر کیا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبات، کردار اور استقامت کے ذریعے اسے تاریخ کے صفحات پر محفوظ کردیا۔
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ "جو شخص امام حسینؑ کے بارے میں شعر پڑھے اور اس کے ذریعے کسی مؤمن کو رلائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کو واجب قرار دیتا ہے"۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جدوجہد بھی اسی مقصد کے تسلسل میں تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ امام حسینؑ کا میدان فوجی معرکہ تھا، جبکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا میدانِ عمل تبلیغی، فکری اور ثقافتی تھا۔ (عاشورا کے امانت دار، سید علی خامنہای، ص 81)۔
ہنرمندانہ گفتگو اور ابلاغ
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ادبی بیان اور مؤثر ابلاغ کے ذریعے عظیم واقعات اور حوادث کی حفاظت کرنے والی ایک عظیم شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور ان کے بعد امام زین العابدینؑ اور اہلِ حرم کے دیگر افراد نے کربلا کے واقعات کو بیان نہ کیا ہوتا تو شاید تاریخ میں واقعۂ کربلا کی حقیقی تصویر اس انداز میں محفوظ نہ رہتی۔
کوفہ و شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات، حسنِ بیان، برجستگی اور اثر انگیزی اس ہنرمندانہ ابلاغ کی بہترین مثال ہیں۔ آپؑ کی گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ اس میں معرفت، بصیرت، شجاعت اور حق گوئی کی قوت موجود تھی۔ آپؑ کے خطبات نے ایسے لوگوں کو بھی متاثر کیا جو براہِ راست آپؑ کے نظریے کے مخالف تھے۔ مؤثر اور سچی گفتگو کی یہی خصوصیت ہے کہ جب وہ حق اور معرفت کے ساتھ پیش کی جائے تو اپنی تاثیر ضرور دکھاتی ہے۔ (اشکوں کا راز، سید علی خامنہای، ص 33)
اسلامی خواتین کا اجتماعی کردار
اسلامی تاریخ میں خواتین کے اجتماعی کردار کو صرف گھریلو امور تک محدود نہیں کیا گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کردار سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مسلمان خاتون حالات اور ضرورت کے مطابق علمی، ثقافتی، سیاسی، انقلابی اور اجتماعی میدانوں میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سامنے بھی ایک عظیم میدان تھا اور آپؑ نے اس میدان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ائمہؑ کی بعض بہنوں اور ازواج نے بھی علمی، ثقافتی، سیاسی، انقلابی اور دیگر میدانوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔
عورت کا عورت ہونا ان میدانوں میں اس کی مثبت فعالیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں، البتہ اسلامی حجاب، عفت اور شرعی حدود کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے۔ اس لیے مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے معاشرے کی تعمیر اور اصلاح کے مختلف میدانوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ (عورت، گوہرِ ہستی، سید علی خامنہای، ص 105)۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کی طاقت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کی قوت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ عاشورا کے صرف دو دن بعد ایک ایسے صحرا میں، جہاں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، آپؑ کے قائد و امام اور آپؑ کے بیٹوں سمیت متعدد جوانوں کو انتہائی بے رحمی سے شہید کردیا گیا تھا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ایسا عظمت و وقار دکھایا جو انسانی حوصلے کی غیر معمولی مثال ہے۔
ایسے دل لرزا دینے والے حالات میں اچانک عظمت و وقار کا ایک سورج طلوع ہوتا ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسی متانت اور اسی قوتِ بیان کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں جس انداز میں ان کے والدِ گرامی حضرت علیؑ منبرِ خلافت سے امتِ مسلمہ سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔
یہی زینبی عظمت ہے کہ مصیبت نے ان کی زبان کو خاموش نہیں کیا، بلکہ ان کے کلام کو حق کی آواز بنا دیا۔ (250 سالہ انسان، سید علی خامنہای، ص 201)۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبۂ کوفہ
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے بازار میں ایک تاریخی اور عظیم خطبہ ارشاد فرمایا۔ جب کوفہ کے لوگوں نے امام حسینؑ کا سرِ مبارک نیزے پر دیکھا، خاندانِ رسالت کو اسیری کی حالت میں پایا اور اس دل خراش واقعے کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو وہ گریہ و زاری کرنے لگے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ان کے گریے کو دیکھ کر فرمایا: "یا أَهلَ الکوفَةِ، یا أَهلَ الخَتْلِ وَالغَدْرِ، أَتَبْکُونَ؟" اے اہلِ کوفہ! اے فریب اور غدر کرنے والو! کیا تم رو رہے ہو؟ پھر فرمایا: فَلا رَقَأَتِ العَبْرَةُ وَلا هَدَأَتِ الزَّفْرَةُ۔ تمہارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمہاری آہیں کبھی نہ تھمیں۔
اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ان کے کردار کو اس عورت سے تشبیہ دی جو محنت سے دھاگا بناتی ہے اور پھر خود ہی اسے کھول کر دوبارہ بکھیر دیتی ہے۔ اس قرآنی تمثیل کے ذریعے آپؑ نے کوفیوں کی عہد شکنی اور اپنے ہی کیے ہوئے عہد کو توڑ دینے کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ صرف مرثیہ یا شکایت نہیں تھا؛ بلکہ یہ ایک سیاسی، اخلاقی اور فکری محاسبہ تھا جس نے کوفی معاشرے کو اس کے کردار کا آئینہ دکھایا۔ (عاشورا کے امانت دار، سید علی خامنہای، ص 10)۔
خون کی فتح اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار
یہ کہا جاتا ہے کہ عاشورا وہ دن ہے جب خون نے تلوار پر فتح حاصل کی۔ یہ حقیقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے کردار کے بغیر مکمل طور پر قابلِ فہم نہیں ہوسکتی۔
کربلا کے میدان میں بظاہر حق کے پیروکار شہید ہوگئے اور باطل نے فتح کا اعلان کردیا، لیکن یہ فتح ظاہری تھی۔ امام حسینؑ کا خون زمینِ کربلا میں بہہ کر ختم نہیں ہوا بلکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جدوجہد کے ذریعے ایک دائمی پیغام میں تبدیل ہوگیا۔
اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو ممکن تھا کہ کربلا کا واقعہ ایک محدود تاریخی سانحے کی صورت میں رہ جاتا؛ لیکن آپؑ نے اپنے خطبات، شجاعت اور بصیرت کے ذریعے اس واقعے کو ایک عالمی اور ابدی تحریک میں تبدیل کردیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دشمن کے اس غرور کو چیلنج کیا جو اپنے مخالفین کا قلع قمع کرکے فتح کے نقارے بجا رہا تھا۔ انہوں نے ایسا کردار ادا کیا کہ وہی فاتح اپنے دارالحکومت میں اخلاقی طور پر رسوا ہوگیا اور اس کی ظاہری فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔
یہی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا عظیم کارنامہ ہے۔ آپؑ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ عورت تاریخ کے حاشیے پر کھڑی خاموش تماشائی نہیں، بلکہ تاریخ کے اہم واقعات کے مرکزی کرداروں میں شامل ہوسکتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یہ بھی ثابت کیا کہ حجاب، عفت اور پاکیزگی کسی خاتون کو معاشرتی کردار سے محروم نہیں کرتے، بلکہ یہی اقدار اسے ایک عظیم اور مؤثر جدوجہد کا حصہ بننے کی قوت فراہم کرسکتی ہیں۔ (250 سالہ انسان، سید علی خامنہای، ص 200)۔
نتیجہ
اس تحریر کا بنیادی مقصد حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی انقلابی سیرت کے اس پہلو کو اجاگر کرنا ہے جو کربلا کے بعد نمایاں ہوا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے زمانے کے امام کا ساتھ دے کر، کربلا کی مصیبتوں کو برداشت کرکے، اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی حفاظت کرکے اور کوفہ و شام میں بے خوف خطبات کے ذریعے ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کرکے یہ ثابت کردیا کہ حق کی جدوجہد کسی ایک میدان تک محدود نہیں ہوتی۔
امام حسینؑ نے کربلا میں اپنے خون سے حق و باطل کے درمیان لکیر کھینچی، جبکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، بصیرت، شجاعت اور خطابت کے ذریعے اس لکیر کو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا حق، صبر، استقامت، شجاعت، بصیرت، عفت اور بے مثال قیادت کا روشن نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، حق و صداقت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
آج کی مسلمان عورت کے لیے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ وہ اپنی دینی شناخت، عفت اور حجاب کی حفاظت کرتے ہوئے علم، تربیت، دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور حق کی نصرت کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا پیغام یہی ہے کہ مصیبت انسان کو شکست نہیں دیتی؛ اگر معرفت، ایمان اور بصیرت ساتھ ہو تو مصیبت ہی انسان کی سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔









آپ کا تبصرہ