ہفتہ 8 اگست 2026 - 14:01
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کربلا سے کوفہ و شام تک کا سیاسی و سماجی کردار

حوزہ / واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینب بنت علیؑ نے جس صبر، استقامت، حکمت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

تحریر: فرشتہ امان اللہ، مدرسہ فاطمہ زہرا (س)، کوئٹہ

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 10 محرم 61 ہجری کو امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد حضرت زینبؑ نے اہلِ بیتؑ کی قیادت سنبھالی۔ آپؑ نے بچوں، خواتین اور بیمار امام زین العابدینؑ کی حفاظت کی، انہیں حوصلہ دیا اور اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی رہنمائی کی۔

تعارف:

حضرت زینب بنت علیؑ، حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی صاحبزادی اور حضرت امام حسینؑ کی بہن تھیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد آپؑ نے جس صبر، استقامت، حکمت اور جرأت کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اگرچہ میدانِ کربلا میں جنگ کا اختتام ہو چکا تھا، لیکن حضرت زینبؑ نے حق کی آواز کو زندہ رکھا اور یزیدی ظلم کو بے نقاب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

کربلا کے بعد حضرت زینبؑ کا کردار:

10 محرم 61 ہجری کو امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد حضرت زینبؑ نے اہلِ بیتؑ کی قیادت سنبھالی۔ آپؑ نے بچوں، خواتین اور بیمار امام زین العابدینؑ کی حفاظت کی، انہیں حوصلہ دیا اور اسیرانِ اہلِ بیتؑ کی رہنمائی کی۔

شدید مصائب کے باوجود آپؑ نے صبر اور ثابت قدمی کی مثال قائم کی-

قیام اور تحریک بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے: “خون” اور “پیغام” ۔

اصطلاح میں"خون" سے مراد خونی جدوجہد اور مسلح بغاوتیں ہیں جن میں کسی مقدس مقصد کے لیے قتل،شہید ہونا اور اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

قیام کا دوسرا اہم حصہ یعنی "پیغام"جس میں قیام کے مقاصد کو صحیح معنوں میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

انقلاب کی فتح میں دوسرے حصے کی اہمیت پہلے حصے سے کم نہیں ہے، کیونکہ اگر انقلاب کے مقاصد اور نظریات کو معاشرے کی سطح پر بیان نہ کیا جائے تو انقلاب کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہو گی اور وہ اپنے مرکزی مقام میں فراموش ہو جائے گا اور انقلاب کے دشمنوں کی طرف سے تحریفات اور تبدیلیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

اگر امام حسین علیہ السلام کی مقدس بغاوت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں یہ دو حصے واضح طور پر نظر آتے ہیں، کیونکہ امام حسین( علیہ السلام) کا انقلاب عاشورا تک کے پہلے حصے کی مجسم شکل تھا، یعنی خون، شہادت اور خون کی قربانی کا حصہ تھا، اور اس کے قائد اور علمبردار امام حسین بن علی علیہ السلام خود تھے، دوسرے حصے کا آغاز امام حسین( علیہ السلام) کے شہادت سے ہوا۔ عاشورا کے واقعے کے بعد جب قیام کا دوسرا حصہ شروع ہوا تو امام زین العابدین علیہ السلام اور بی بی زینب کبری (سلام اللہ علیہ) نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا اور قیام کربلا کا اصل مقصد اپنے شعلہ آور الفاظ سے لوگوں تک پہنچایا اور اموی حکومت کے اصل اور پلید چہرے سے لوگوں کو آشنا کیا جس سے ان کے رسوائی کے دور کا آغاز ہوا-

معاویہ کے زمانے سے بنی امیہ کی حکومت نے اہل بیت (خصوصاً شام میں) کے خلاف جو بہت وسیع اور دوررس پروپیگنڈہ شروع کیا تھا، اس پر غور کرتے ہوئے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر امام حسین علیہ السلام کے زندہ بچ جانے والے بے نقاب اور بیداری میں مصروف نہ ہوتے تو اس وقت دشمنان اسلام اور وقتی قدرتوں کے مزدور، امام کے مقدس اور بزرگ قیام کے مقاصد اور مطالب کو تاریخ میں داغدار کر کے ان کے چہروں کو الٹا دکھاتے۔ طرح ان میں سے بعض نے امام حسن (ع) پر تہمت لگائی اور کہا: وہ نمونیا اور تپ دق سے فوت ہوئے، بعض نے دعویٰ کیا کہ حسین ابن علی (ع) کی موت کینسر سے ہوئی!! تاہم اسیری کے دوران سید الشہداء(ع)کے زندہ بچ جانے والوں کے وسیع پروپیگنڈے نے جب یزید کی اہلیت کے لیے نفرت نے انہیں ایسا موقع فراہم کیا تھا، دشمنان حسین (ع) کو اس طرح کی تحریف اور خیانت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

کربلا سے کوفہ تک کا سفر:

10 محرم کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کی قافلے کو قیدی بنا کر کوفہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس قافلے میں امام سجاد علیہ السلام، حضرت زینب، حضرت ام کلثوم، بچے اور شہداء کے سر مبارک شامل تھے۔

راستے میں حضرت زینب نے ہر قدم پر صبر کا پہاڑ بن کر سب کو حوصلہ دیا۔ بچوں کو تسلی دیں، زخمیوں کا خیال رکھا۔ کوفہ پہنچ کر جب دربارِ ابنِ زیاد میں پیش کیا گیا تو حضرت زینب نے وہ مشہور خطبہ دیا:

"مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا" - "میں نے جو کچھ دیکھا خوب ہی دیکھا"

اس ایک جملے نے کوفیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ ابنِ زیاد کے غرور کا جواب دے کر آپ نے ثابت کیا کہ قیدی جسم ہو سکتا ہے، کردار نہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ابن زیاد کے دربار میں:

جب اہلِ بیت کے قافلے کو کربلا سے کوفہ لایا گیا تو انہیں ابنِ زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا۔ سب سے آگے حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام تھے ابن زیاد کی نظر حضرت زینب پر پڑی تو کسی سپاہی سے پوچھا:

ابنِ زیاد: یہ کون عورت ہے؟

ایک سپاہی: یہ حسین کی بہن زینب ہے۔

ابنِ زیاد:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی فَضَحَکُمْ وَقَتَلَکُمْ وَاَکْذَبَ اُحْدُوثَتَکُمْ

"تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے تمہیں رسوا کیا، تمہیں قتل کیا اور تمہاری بات کو جھوٹا ثابت کیا"

حضرت زینب سلام اللہ علیہا:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَکْرَمَنَا بِنَبِیِّہِ وَطَهَّرَنَا مِنَ الرِّجْسِ تَطْهِیرًا

"تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے نبی کے ذریعے عزت دی اور ہمیں ہر برائی سے پاک کیا"

اِنَّمَا یَفْضَحُ الْفَاسِقُ وَیَکْذِبُ الْفَاجِرُ وَہُوَ غَیْرُنَا

"رسوا تو فاسق ہوتا ہے، جھوٹا تو فاجر ہوتا ہے، اور وہ ہم نہیں ہیں"

ابنِ زیاد غصے سے:

کیا دیکھا تم نے؟ اللہ نے تمہارے بھائی اور تمہارے اہلِ بیت سے کیسا سلوک کیا؟

حضرت زینب:

مَا رَأَیْتُ اِلَّا جَمِیلًا

"میں نے جو کچھ دیکھا خوب ہی دیکھا"

ہٰؤُلَاءِ قَوْمٌ کَتَبَ اللَّهُ عَلَیْہِمُ الْقَتْلَ فَبَرَزُوا اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ

"یہ وہ لوگ تھے جن پر اللہ نے شہادت لکھ دی تھی، پس وہ اپنی شہادت گاہوں کی طرف نکل پڑے"

کوفہ سے شام تک کا سفر:

کوفہ کے بعد قافلہ شام، دارالحکومتِ یزید کی طرف روانہ ہوا۔ یہ سفر کئی ہفتوں پر محیط تھا اور سخت گرمی، پیاس اور بے عزتی کے ساتھ طے ہوا۔ راستے کے شہروں میں لوگ تماشا دیکھنے آتے۔

شام پہنچ کر یزید کے دربار میں حضرت زینب کا وہ تاریخی خطبہ ہوا جس نے یزید کی ساری حکومت کو بے نقاب کر دیا۔ آپ نے فرمایا:

"فَکِدْ کَیدَکَ وَاسْعَ سَعْیَکَ وَناصِبْ جُہدَکَ، فَوَاللّٰہِ لَا تَمْحُو ذِکْرَنا"

"جو چال چلنی ہے چل لو، جو کوشش کرنی ہے کر لو، خدا کی قسم تم ہمارا نام نہیں مٹا سکتے"

اس خطبے نے شام کے لوگوں کو سچ دکھا دیا۔ یزید مجبور ہو کر کہنے لگا کہ "یہ عورت بہت فصیح ہے"۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا، یزید کے دربار میں:

تاریخ: صفر 61 ہجری

مقام: قصرِ یزید، دمشق

جب اہلِ بیت کے قافلے کوفہ سے شام لایا گیا تو انہیں زنجیروں میں باندھ کر یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔ سرِ مبارک نیزوں پر تھے۔ دربار میں شامی سردار اور عورتیں بیٹھی تھیں۔

یزید:

یہ کون لوگ ہیں؟

درباری:

یہ حسین بن علی کے اہلِ بیت ہیں جنہیں ابنِ زیاد نے بھیجا ہے۔

یزید نے سرِ حسین کو اپنے سامنے رکھوایا اور چھڑی سے مارنے لگا۔

یزید:

لعِبَتْ هَاشِمُ بِالْمُلْکِ فَلَا خَبَرٌ جَاءَ وَلَا وَحْیٌ نَزَلَ

"بنی ہاشم نے حکومت کے ساتھ کھیل کھیلا، نہ کوئی خبر آئی نہ کوئی وحی نازل ہوئی"

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں:

اَظَنَنْتَ یَا یَزِیدُ حِیْنَ اَخَذْتَ عَلَیْنَا اَقْطَارَ الْاَرْضِ وَآفَاقَ السَّمَاءِ فَاَصْبَحْنَا نُسَاقُ کَمَا تُسَاقُ الْاِمَاءُ اَنَّ بِنَا عَلَی اللَّهِ هَوَانًا وَبِکَ عَلَیْهِ کَرَامَةً؟

"اے یزید! کیا تم نے یہ سمجھا ہے کہ جب تم نے ہمیں زمین کے کناروں سے گھیر کر قیدی بنا لیا، اور ہمیں کنیزوں کی طرح ہانکا جا رہا ہے، تو ہم اللہ کی نظر میں ذلیل ہو گئے اور تم اللہ کی نظر میں عزت والے بن گئے؟"

فَمَهْلًا مَهْلًا لَا تَطِشْ جَهْلًا

"رک جاؤ، رک جاؤ، جہالت میں مت اچھلو"

اَمِنَ الْعَدْلِ یَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ تَخْدِیرُکَ حَرَائِرَکَ وَاِمَاءَکَ وَسَوْقُکَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ سَبَایَا

"اے آزاد کردہ غلاموں کے بیٹے! کیا یہ انصاف ہے کہ تم اپنی عورتوں اور کنیزوں کو پردے میں رکھو، اور رسول اللہ(ص) کی بیٹیوں کو قیدی بنا کر بازاروں میں پھرو؟"

یزید:

چپ ہو جاؤ۔

حضرت زینب:

اَنَا اَتَکَلَّمُ اَمْ اَنْتَ؟

"کیا میں بولوں یا تم؟"

یزید: تم بولو۔

حضرت زینب:

فَوَاللَّهِ لَا تَمْحُو ذِکْرَنَا وَلَا تُمِیتُ وَحْیَنَا وَلَا تُدْرِکُ اَمَدَنَا وَلَا تَرْحَضُ عَنْکَ عَارَہَا

"خدا کی قسم! تم ہمارا نام نہیں مٹا سکتے، نہ ہماری وحی کو مٹا سکتے ہو، نہ ہماری عظمت کو پہنچ سکتے ہو، اور نہ ہی تم اپنے دامن سے اس عار کو دھو سکو گے"

وَهَلْ رَأْیُکَ اِلَّا فَنَدٌ وَاَیَّامُکَ اِلَّا عَدَدٌ وَجَمْعُکَ اِلَّا بَدَدٌ

"تمہاری رائے بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں، تمہارے دن گنتی کے ہیں، اور تمہارا لشکر بکھر جانے والا ہے"

یَوْمَ یُنَادِی الْمُنَادِی اَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی الظَّالِمِینَ

"جس دن منادی پکارے گا: خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو"

حضرت زینب کا یہ خطبہ سن کر دربار میں موجود لوگ رونے لگے۔ یزید گھبرا گیا اور کہا: "یہ عورت بہت فصیح ہے، اس کے باپ بھی فصیح تھے"

پھر یزید نے ڈر کر کہا کہ "حسین نے خود بغاوت کی تھی"۔

"اس سفر کے اہم پہلو":

1. پیغامِ کربلا کی حفاظت: اگر یہ قافلہ نہ جاتا تو کربلا کا سچ دنیا تک نہ پہنچتا۔ حضرت زینب نے زبان اور صبر سے اسلام کی بقا کا کام کیا۔

2. صبر اور ولایت: مصیبتوں کے باوجود آپ نے شکوہ نہیں کیا۔ بھائی کی شہادت، بچوں کی شہادت کے بعد بھی فرمایا "اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا هَذَا الْقُرْبَانَ"

3. عورت کا کردار: آپ نے ثابت کیا کہ میدان جنگ کے بعد سب سے بڑا میدان خطابت کا ہوتا ہے، اور وہاں عورت قیادت کر سکتی ہے۔

نتیجہ:

کربلا سے کوفہ اور شام تک کا سفر صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں تھا۔ یہ باطل کے دربار سے حق کی آواز کو ٹکرانے کا سفر تھا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے زنجیروں میں بندھ کر بھی جو کام کیا وہ لاکھوں تلواریں نہ کر سکیں۔

آج بھی جب ہم محرم میں "زینبیہ" کا نام لیتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی کلمہ، تلوار سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔

"زینب وہ ہیں جنہوں نے قید میں رہ کر بھی یزید کو قیدی بنا دیا"

اللہ ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر اور استقامت پر چلنے کی توفیق دے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha