جمعہ 14 اگست 2026 - 15:01
کربلا میں خواص کا کردار

حوزہ / تاریخ اسلام کا سب سے عظیم اور دردناک واقعہ کربلا ہے، جو 10 محرم 61 ہجری کو پیش آیا۔ اس دن حق و باطل کا فیصلہ ہوا۔

سیدہ صدیقہ الموسوی، جامعۃ الزہرا، سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کربلا کے خواص وہ چراغ تھے جو خود جل کر امت کو روشنی دے گئے۔ انہوں نے ہمیں تین سبق دیے: حق پر ڈٹ جانا، وفاداری نبھانا اور قربانی دینا۔

تمہید

تاریخ اسلام کا سب سے عظیم اور دردناک واقعہ کربلا ہے، جو 10 محرم سنہ 61 ہجری کو پیش آیا۔ اس دن حق و باطل کا فیصلہ ہوا۔ ایک طرف یزید کی حکومت، طاقت اور 30 ہزار کا لشکر تھا، دوسری طرف امام حسینؑ کے صرف 72 جانثار تھے۔ انہی جانثاروں کو "خواص" کہا جاتا ہے۔ خواص کا مطلب ہے خاص، منتخب اور قریبی ساتھی۔ ان کی وفاداری اور قربانی نے اسلام کو ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔

کربلا کے خواص

کربلا میں "خواص" سے مراد امام حسینؑ کے وہ خاص ساتھی اور قریبی لوگ ہیں، جو ہر مشکل میں ان کے ساتھ رہے۔ یہ صرف لشکر نہیں تھے، بلکہ دین، وفاداری اور حق کے لیے جان دینے والے لوگ تھے۔ کربلا کے خواص وہ چراغ تھے جو اندھیری رات میں بجھے نہیں۔ انہوں نے اپنی وفاداری، بہادری اور قربانی سے یہ سبق دیا کہ حق چھوٹا ہو تو بھی حق ہی رہتا ہے۔

خواص کا کردار

1۔ ایمانی طاقت کا ثبوت

خواص نے ثابت کیا کہ کامیابی کا معیار تعداد نہیں، ایمان ہے۔ قرآن میں بھی ہے: "کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةً بِاِذْنِ اللّٰهِ"۔

کربلا میں 72 افراد نے لاکھوں کے مقابلے میں ڈٹ کر یہ پیغام دیا کہ ظلم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ امام حسینؑ نے فرمایا: "موت سے عزت کی زندگی بہتر ہے"۔ خواص نے اس فرمان پر عمل کر کے دکھایا۔

2۔ امام اور اہلِ بیت کی عملی حفاظت

خواص کا سب سے بڑا فریضہ امام اور اہلِ بیت کی حفاظت تھا۔

حضرت عباس بن علیؑ ـ علمدارِ کربلا:

آپ امام کے بھائی اور لشکر کے علمدار تھے۔ آپ کو "باب الحوائج" کہا جاتا ہے۔ 10 محرم کو آپ نے تنہا فرات پر حملہ کر کے پانی لانے کی کوشش کی۔ دشمنوں نے آپ کے دونوں بازو کاٹ دیے، لیکن آپ نے مشکیزہ نہ گرنے دیا۔ آپ کی وفا آج بھی "علمدار" کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔

حضرت علی اکبرؑ:

امام کے بڑے فرزند۔ جب میدان میں گئے تو امام نے فرمایا: "اللہ گواہ رہے، اب وہ نوجوان میدان میں جا رہا ہے جو رسولؐ سے چہرہ اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے"۔ ان کی شہادت نے نوجوان نسل کو دین کے لیے قربانی کا درس دیا۔

حضرت قاسم بن حسنؑ:

کم سنی میں میدان میں آئے۔ امام نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا: "تمہارا بھائی اور چچا تم پر فدا ہو"۔

مخلص ساتھی:

حضرت حبیب بن مظاہرؑ، مسلم بن عوسجہؑ، بریر ہمدانیؑ۔ یہ سب اصحابِ رسولؐ اور تابعین میں سے تھے۔ حضرت حبیب نے 75 سال کی عمر میں فرمایا: "واللہ میرا بدن بوڑھا ہے، لیکن میرا دل اور تلوار جوان ہے"۔ انہوں نے اپنے تقویٰ سے سب کو استقامت دی۔

3۔ توبہ اور وفاداری کی مثال: حر بن یزید ریاحی

خواص میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے آخری وقت میں حق کو پہچانا۔ حر بن یزید ریاحی یزیدی لشکر کا کمانڈر تھا، جس نے امام کو راستہ روکا تھا۔ لیکن عاشورہ کے دن اس کا ضمیر جاگا۔ وہ امام کے پاس آیا اور عرض کی: "یا اباعبداللہ! کیا میری توبہ قبول ہے؟" امام علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا"۔ پھر حر نے یزیدی لشکر کے خلاف جنگ کی اور شہید ہوئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خواص کا درجہ نیت اور عمل سے ملتا ہے، نسب سے نہیں۔

4۔ خیموں کی حفاظت اور حوصلہ افزائی

خواص کا کردار صرف میدان تک محدود نہیں تھا۔ پانی بند ہونے کے بعد انہوں نے خود پیاس برداشت کی اور خیموں میں موجود خواتین و اطفال کو تسلی دی۔ حضرت زینبؑ نے فرمایا: "خواص کی موجودگی سے ہمیں حوصلہ ملتا تھا کہ امام تنہا نہیں ہیں"۔

5۔ کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنا

اگر خواص قربانی نہ دیتے تو کربلا صرف ایک جنگ بن کر رہ جاتی۔ لیکن ان کے خون نے اسے قیامت تک کے لیے تحریک بنا دیا۔ امام سجادؑ نے شام میں فرمایا: "میرے اصحاب نے وہ کام کیا جو کسی نے نہ کیا"۔

ان کی شہادت نے 3 بنیادی اصول دیے:

1۔ ظالم کے سامنے خاموشی حرام ہے۔

2۔ دین کی بقا کے لیے قربانی لازم ہے۔

3۔ حق کی اقلیت بھی باطل کی اکثریت پر غالب آ سکتی ہے۔

نتیجہ

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کربلا کے خواص وہ چراغ تھے جو خود جل کر امت کو روشنی دے گئے۔ انہوں نے ہمیں تین سبق دیے: حق پر ڈٹ جانا، وفاداری نبھانا اور قربانی دینا۔ حضرت امام حسینؑ نے فرمایا: "میں قیام اس لیے کر رہا ہوں تاکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کروں"۔ خواص نے اس مشن کو اپنی جان سے پورا کیا۔

آج بھی جب کہیں مظلوم پر ظلم ہوتا ہے تو کربلا کے خواص کی یاد ہمیں مزاحمت کی طاقت دیتی ہے۔ بے شک وہ وفا، بہادری اور استقامت کی ابدی علامت ہیں۔

حوالہ جات:

1۔ مقتل الحسینؑ ـ ابو مخنف

2۔ مقتل الحسینؑ ـ خوارزمی

3۔ اللہوف فی قتلی الطفوف ـ سید بن طاووس

4۔ تاریخ الطبری ـ امام طبری

5۔ بحار الانوار ـ علامہ مجلسی

6۔ انساب الاشراف ـ بلاذری

7۔ القرآن الکریم ـ سورۃ البقرہ، آیت 249

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha