ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:27
رہبرِ عشق؛ ایک شخصیت سے ایک فکر تک کا سفر

حوزہ/میں نے آپ کو کبھی سامنے نہیں دیکھا، نہ کبھی ملاقات ہوئی، نہ بات کرنے کا موقع ملا۔ مگر اس کے باوجود آپ کی باتیں، آپ کا اندازِ فکر اور آپ کی سوچ اس دل میں ایک خاص جگہ بنا چکی ہے۔ کچھ شخصیات زندگی میں آ کر بھی نظر نہیں آتیں، مگر دل کے اندر رہنے لگتی ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی موجودگی اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔

یادداشت: سیدہ دعا زہراء رضوی، جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی| رہبر شہید سید علی الحسینی خامنہ ای کا ذکر آتے ہی دل میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آتی ہے۔ نہ کوئی شور رہتا ہے، نہ کوئی واضح بات… بس ایک گہرا سا احساس ہوتا ہے جو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں ہو پاتا۔ کبھی دل بھاری ہو جاتا ہے، کبھی اندر ایک عجیب سا سکون اتر آتا ہے۔ یہ کیفیت سمجھ بھی آتی ہے اور نہیں بھی آتی، بس محسوس ہوتی ہے۔

میں نے آپ کو کبھی سامنے سے نہیں دیکھا، نہ کبھی ملاقات ہوئی، نہ بات کرنے کا موقع ملا۔ مگر اس کے باوجود آپ کی باتیں، آپ کا اندازِ فکر اور آپ کی سوچ اس دل میں ایک خاص جگہ بنا چکی ہے۔ کچھ شخصیات زندگی میں آ کر بھی نظر نہیں آتیں، مگر دل کے اندر رہنے لگتی ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی موجودگی اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ آنکھوں سے نہیں سجائی دیتے، دل کے اندر محسوس کیے جاتے ہیں اور آپ بھی انہی میں سے ہیں۔

آپ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، مگر آپ کا اثر آج بھی باقی ہے۔ یہ اثر صرف یادوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک سوچ، ایک فکری سمت اور ایک طرزِ فکر میں بدل چکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس کم ہونے کے بجائے اور زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کچھ شخصیات جسمانی طور پر نہیں، بلکہ فکری طور پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

آپ کی باتیں جب بھی یاد آتی ہیں تو دل میں ایک عجیب سا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی اندر ایک سکون سا اتر آتا ہے، کبھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور کبھی ایک غیر محسوس سا حوصلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ سب احساسات ایک ساتھ کیسے جیتے ہیں، یہ میں خود بھی نہیں سمجھ پاتی، مگر دل ان سب کو ایک ساتھ محسوس ضرور کرتا ہے۔

آپ کا وہ جملہ: "مومن نہ ظلم کرتا ہے، نہ ظلم قبول کرتا ہے۔"

میرے لیے اب صرف ایک جملہ نہیں رہا، بلکہ ایک معیار بن چکا ہے۔ ایک ایسا اصول، جس پر میں اپنے رویے، اپنے فیصلوں اور اپنے ردِعمل کو پرکھنے لگی ہوں۔ کبھی کبھی خود سے سوال کرتی ہوں کہ میں اس سوچ کے کتنے قریب ہوں اور کتنے دور!؟

سچ یہ ہے کہ آپ کے بعد دل میں ایک خلا ضرور ہے، پر وہ خالی نہیں رہتا… وہ ہر وقت محسوس ہوتا ہے۔ یہ خلا شور والا نہیں ہے، نہ ایسا ہے جو وقت کے ساتھ بھر جائے۔ یہ ایک خاموش، گہرا اور مسلسل موجود رہنے والا خلا ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر یاد دلاتا رہتا ہے کہ کچھ لوگ اب سامنے نہیں، مگر دل کے اندر موجود ہیں۔

کبھی کبھی دل بہت شدت سے چاہتا ہے کہ کاش یہ سب پہلے جیسا ہوتا، کاش وہ باتیں دوبارہ اسی طرح سننے کو ملتیں، کاش وہ لمحے کچھ اور دیر ٹھہر جاتے۔ مگر پھر دل خود ہی ایک اور حقیقت بھی سمجھا دیتا ہے کہ کچھ لوگ زندگی میں رہنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر رہنے کے لیے ہوتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں احساس بدل جاتا ہے۔ پہلے جو باتیں صرف سننے کے لیے ہوتی تھیں، اب وہ سوچنے کے لیے بن جاتی ہیں۔ اور جو سوچنے کے لیے بن جائیں، وہ دل کے اندر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ آپ کی شخصیت بھی اب اسی اثر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خاموشی، مگر بہت گہری۔

آپ کی شہادت کے بعد یہ احساس اور زیادہ واضح ہو گیا ہے کہ کچھ ہستیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔ پہلے وہ ایک شخصیت ہوتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ ایک فکر بن جاتی ہیں۔ اور جو فکر بن جائے، وہ وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی، بلکہ مزید پھیلتی، مزید واضح ہوتی اور مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے۔

کبھی کبھی لگتا ہے جیسے آپ کی غیر موجودگی نے آپ کو اور زیادہ موجود کر دیا ہے۔ پہلے آپ ایک شخصیت تھے، اب آپ ایک احساس ہیں۔ اور احساس کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ انسان کے اندر رہتے ہیں۔

یہ تحریر کسی اختتام پر نہیں پہنچتی، کیونکہ ایسے احساسات ختم نہیں ہوتے۔ یہ بس شکل بدلتے رہتے ہیں؛ کبھی یاد بن کر، کبھی خیال بن کر، کبھی اصول بن کر، اور کبھی خاموش دعا بن کر۔

آخر میں بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے خاص مقام میں جگہ عطا فرمائے، آپ کو سید الشہداءؑ کے ساتھ محشور فرمائے، اور ہمیں بھی سچائی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ جینے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha