از قلم: رباب فاطمہ جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
وہ گلستان جو کبھی پھولوں سے مہکتا تھا، آج خون کی سرخی میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ امن کا پیغام، استقامت کا جذبہ، مظلوموں کی آواز اور امت کی ڈھال، سب ایک ایسی عظیم شخصیت سے وابستہ تھے جس کی پوری زندگی راہِ خدا میں مجاہدت اور قربانی سے عبارت تھی۔
ایسی عظیم ہستی کے بارے میں قلم لکھنے سے عاجز محسوس ہوتا ہے، جس نے ظلم و ستم اور ہر طرح کی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر کبھی حق کے خلاف زبان نہ کھولی۔ انہوں نے ہمیشہ باطل کو للکارا اور ہر دور کے یزیدوں کی نیندیں حرام کیے رکھیں۔
اے ہمارے رہبرِ شہید! ہمیں آپ سے بے حد محبت ہے، کیونکہ آپ کے وجود سے ایک روحانی باپ کی شفقت اور سرپرستی کا احساس وابستہ تھا، جو ہمارے دلوں کو سکون بخشتا تھا۔ آج ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک عظیم رہبر اور شفیق باپ سے محروم ہو گئے ہوں۔ لیکن آپ کا پیغام "باید برخاست" (قیام لازم ہے) ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
آج بھی حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، یہ حسینیت اور یزیدیت کی کشمکش ہے۔ واقعۂ عاشورا کا سب سے پہلا سبق یہی ہے کہ دینِ خدا کی سربلندی کے لیے ہر قربانی پیش کی جائے اور حق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے۔
امام حسینؑ نے اپنے ایک خطبے میں امتِ مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تم میری تحریک کی حقیقت اور مقصد کو سمجھنا چاہتے ہو، اگر تم اسلام کے احکام اور خدا کی شریعت کو جاننا چاہتے ہو، تو میرے قیام کے مقصد کو سمجھو۔
اسی حسینی فکر نے ہر دور کے حق پرستوں کو بیدار کیا اور اسی سے شہید رہبر نے اپنی انقلابی جدوجہد کو قوت بخشی۔ آج بھی ظلم برسرِ اقتدار ہے، اور نگاہیں ایک ایسے حسینی عزم کے حامل رہبر کی تلاش میں ہیں جو حق کا پرچم بلند رکھے۔
شہید رہبر نے اپنی پوری زندگی تحریکِ حسینی کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے کبھی ظالم کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا، بلکہ اپنے عمل سے اس فرمانِ امام حسینؑ کی تفسیر بن گئے:
مثلي لا يبايع مثله
"مجھ جیسا، اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔"
یہی قیامِ حسینی تھا جس نے شہید رہبر کو سربلندی عطا کی۔ انہوں نے اپنے عزیزوں کی قربانیاں پیش کیں، خود بھی مکتبِ حسینی کے لیے ہر امتحان قبول کیا، لیکن حق کے قیام سے کبھی دست بردار نہ ہوئے۔
آج دنیا دیکھ چکی ہے کہ ظلم کے مقابل کھڑے ہونے والے کمزور نہیں ہوتے، بلکہ ہر آزمائش کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ دشمن نے لبنان، ایران، پاکستان اور دیگر مقامات پر ہر ممکن کوشش کی کہ حسینی فکر کو شکست دے، مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بلکہ شہید رہبر کے خون نے اہلِ حق کو پہلے سے زیادہ متحد کر دیا اور دشمن کے منہ پر ایک اور کاری ضرب ثبت کر دی۔
شہید رہبر نے اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنی بند مُٹھی کے ذریعے پوری دنیا کو یہی پیغام دیا:
"باید برخاست"
"قیام لازم ہے۔"
وہ شمع تھی جو اندھیروں سے لڑتی رہی،
بجھائی گئی تو ہزاروں دلوں میں جلتی رہی۔
خون کے ہر قطرے سے ایک صدا آتی ہے،
"برخاست! برخاست!" کی ندا آتی ہے۔









آپ کا تبصرہ