تحریر: عیشل زہراء، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
حبِّ دنیا ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اپنے پروردگار سے دور کر دیتی ہے۔ جب انسان دنیا کی چمک دمک، مال و دولت اور عارضی خواہشات میں اس قدر کھو جائے کہ اس کا اصل مقصدِ حیات پسِ پشت چلا جائے، تو یہی کیفیت حبِّ دنیا کہلاتی ہے۔ ایسی محبت انسان کو خالق کی یاد سے غافل اور روحانی ترقی سے محروم کر دیتی ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ. یعنی دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ (الکافی)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جب دنیا انسان کا سب سے بڑا مقصد بن جائے تو وہ اسے گناہوں، ظلم اور نافرمانی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ تاہم اسلام دنیا کو ترک کرنے کی تعلیم بھی نہیں دیتا۔ دنیا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور انسان کے لیے امتحان گاہ بھی۔ اگر انسان دنیا کو اللہ کی رضا، خدمتِ خلق اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے تو یہی دنیا اس کی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیا گیا ہے۔ انسان جو کچھ اس دنیا میں بوتا ہے، آخرت میں اسی کا پھل پاتا ہے۔ لہٰذا دنیا سے تعلق رکھنا برا نہیں، بلکہ دنیا کو مقصدِ زندگی بنا لینا نقصان دہ ہے۔
واقعۂ کربلا حبِّ دنیا اور حبِّ خدا کے درمیان فرق کو بہترین انداز میں واضح کرتا ہے۔ بہت سے لوگ حق کو پہچانتے تھے، لیکن دنیاوی مفادات، اقتدار کی خواہش اور مال کی محبت نے انہیں امام حسینؑ کا ساتھ دینے سے روک دیا۔ دوسری طرف امام حسینؑ اور ان کے وفادار ساتھیوں نے دنیوی آسائشوں کے بجائے رضائے الٰہی اور حق کی سربلندی کو ترجیح دی۔ اسی لیے کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ درس ہے کہ حق اور باطل کے درمیان انتخاب کرتے وقت دنیاوی مفادات کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔
حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے: جو کسی چیز کی حد سے بڑھی ہوئی محبت میں مبتلا ہو جائے، وہ اس کی آنکھ کو اندھا اور دل کو بیمار کر دیتی ہے۔
یہ فرمان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر محبت اگر اعتدال سے بڑھ جائے تو انسان کی بصیرت کو متاثر کر دیتی ہے۔ حبِّ دنیا بھی ایسی ہی ایک محبت ہے جو انسان کو حقائق سے غافل کر سکتی ہے۔
فارسی شاعر نے بھی اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
عشقهایی کز پیِ رنگی بود
عشق نبود، عاقبت ننگی بود
یعنی وہ محبت جو صرف ظاہری حسن، رنگ و روپ یا دنیوی کشش کی بنیاد پر ہو، حقیقی محبت نہیں ہوتی بلکہ اس کا انجام رسوائی اور محرومی ہے۔
نتیجتاً، اسلام انسان کو دنیا سے بے تعلق ہونے کا درس نہیں دیتا بلکہ دنیا کے ساتھ متوازن تعلق رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب دنیا اللہ کی اطاعت، نیکی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائے تو وہ نعمت ہے، لیکن جب وہ انسان کا مقصدِ حیات بن جائے تو وہ حبِّ دنیا ہے۔ ایک مؤمن کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ دنیا کو اپنے ہاتھ میں رکھے، دل میں نہیں۔









آپ کا تبصرہ