منگل 15 ستمبر 2026 - 05:12
علمائے بحرین کا آلِ خلیفہ حکومت کو دین مخالف راستہ اختیار کرنے پر انتباہ!

علمائے بحرین کا آلِ خلیفہ حکومت کو دین مخالف راستہ اختیار کرنے پر انتباہ!

درست طرز عمل یہ ہے کہ حکومت دین کے تابع ہو، نہ کہ دین حکومت کے تابع

حوزہ / علمائے بحرین نے ایک بیانیہ جاری کرتے ہوئے آلِ خلیفہ حکومت کو دین مخالف راستہ اختیار کرنے پر خبردار کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علمائے بحرین نے اپنے بیانیہ میں آلِ خلیفہ حکومت کو دین مخالف راستہ اختیار کرنے پر خبردار کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ یہ شدید وجودی خطرہ واضح طور پر مذہب، اعتقادات اور دینی شعائر کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

«إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّـهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ذلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ»

’’حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

انسانی امور اور زندگی اس وقت تک درست طور پر منظم نہیں ہو سکتے اور کسی معاشرے کی حالت اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتی جب تک اس کا راستہ اللہ تعالیٰ کے مستحکم دین سے منحرف یا اس کے مخالف ہو، چہ جائیکہ اس کے عقائد، اصول، احکام، قوانین یا شعائر میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی دشمنی اختیار کی جائے۔

یہ اسلامی عقیدہ ایسا مسئلہ ہے جس پر دو مسلمان بھی اختلاف نہیں کرتے جبکہ قرآن کریم اور متفق علیہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حقیقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے۔

ہم اپنے عزیز وطن بحرین، جو اپنی پوری تاریخ میں اسلام کے سوا کسی دوسرے دین سے آشنا نہیں رہا، کے لیے انتہائی خیرخواہی کے جذبے کے تحت انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ خبردار کرتے ہیں کہ حکومت انتہائی بے باکانہ انداز میں دین مخالف راستہ اختیار کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک شدید اور وجودی خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہم اس خطرے کو واضح طور پر اپنے مذہب، اعتقادات، شعائر اور ہر اس چیز کے خلاف محسوس کر رہے ہیں جس کا دینی طور پر ہم سے تعلق ہے۔

یہ سلسلہ حکومت کے منظم منصوبوں اور فیصلوں کے ذریعے جاری ہے اور تیزی سے اس خطرناک مرحلے تک پہنچ چکا ہے جہاں دین اور عقیدے کو ایک بحرانی صورت حال کا سامنا ہے، جس کے نتائج ملک کے تمام معاملات کے لیے تباہ کن ہوں گے۔

اس سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ حکومت نے اوقافِ جعفریہ، حسینیہ، امام بارگاہوں، مساجد اور قبرستانوں کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی ہے اور ان سب کی تولیت (متولی ہونے) کو ایک سرکاری کونسل کے ماتحت کر دیا ہے، جس کی سربراہی حکومت کے ایک وزیر کے سپرد ہے۔ یہ اقدام اس طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کئی دہائیوں سے اوقافی امور کو غیرشرعی سرکاری پالیسیوں کے تسلط سے آزاد رکھنے پر اتفاق اور عمل ہوتا آیا ہے۔

معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ اس کونسل کے فیصلے نگرانوں اور متولیوں کے لیے لازم الاجرا قرار دیے گئے ہیں اور ان کی تقرری و برطرفی کا اختیار سرکاری پالیسی اور شریعت مقدسہ کے منافی احکامات کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یہ ان شرائطِ وقف اور واقفین کی ان دستاویزات سے تجاوز ہے جو ہمارے نزدیک لازم الاتباع شرعی نص کی حیثیت رکھتی ہیں اور جنہیں کسی واضح شرعی جواز کے بغیر منسوخ یا نظرانداز کرنے کا کسی کو حق نہیں۔

یہ شرعی ولایت کے خلاف ایک واضح اور جارحانہ اقدام ہے، جس کی مشروعیت صرف واقف اور اس کی مقرر کردہ شرط یا حاکمِ شرع سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ کسی انتظامی فیصلے یا انتظامی اختیار سے۔

یہ اقدام ایک سیاسی ادارے کو دین، دینی شعائر اور اوقافی املاک کے معاملات پر اختیار دینے کے مترادف ہے اور اس سے یہ خطرناک راستہ کھلتا ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں کو ایسے مراکز میں تبدیل کر دیا جائے جو حکومت کے تابع ہوں، اس کے مفادات اور مصلحتوں کے مطابق کام کریں اور واقفین کے مقاصد اور شریعت کے واضح احکام سے دور ہو جائیں۔

اسی سلسلے میں ان کا تازہ ظالمانہ فیصلہ دینی اور زندگی کے تمام شعبوں میں دین کی آزاد آواز، تعلیم و تعلم، تبلیغ، وعظ و نصیحت، دعوتِ دین اور اس سے متعلق تمام سرگرمیوں کو پابندیوں میں جکڑنا ہے، یہاں تک کہ ان تمام امور کو سرکاری اجازت اور لائسنس سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ جو کہ دین کی مخالفت اور اسے سرکاری تحویل میں لینے کے مترادف ہے، حالانکہ درست طرز عمل یہ ہے کہ حکومت دین کے تابع ہو، نہ کہ دین حکومت کے تابع ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا حکم دیا ہے کیونکہ خیر، صلاح اور ہدایت اسی کی پیروی اور اس کے احکام و قوانین کے مطابق زندگی کو منظم کرنے میں ہے۔

یہ فیصلہ آئین کی ان شقوں سے بھی متصادم ہے جو مذہبی آزادی، ملک کے رسوم و رواج اور ان روایات سے متعلق ہیں جن کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ نسل در نسل یہ روایت چلی آرہی ہے کہ مساجد، امام بارگاہیں اور دینی سرگرمیاں سرکاری فیصلوں، مداخلتوں اور غیرشرعی سیاسی پالیسیوں کے اثر سے آزاد رہیں بلکہ یہ فیصلہ ملک میں اسلام سے متعلق موجود اور موروثی حقیقت، اس کے تحفظ، بقا اور پاکیزگی سے وابستہ تمام روایات کو تباہ اور سلب کرنے کے مترادف ہے۔

ہم حکومت سے عقل و تدبر کا راستہ اختیار کرنے اور ان فیصلوں کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں جو دین کے گلے میں طوق اور زنجیریں ڈال رہے ہیں کیونکہ اس راستے کا انجام یقینی طور پر تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوگا۔

ملک کے حالات صرف دین سے وابستگی، اس کے احکام کی احیا اور ان اصولوں پر عمل درآمد کے ذریعے درست ہو سکتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے عدل، عوام کے ان سیاسی اور معاشی حقوق کی ادائیگی جو ان سے سلب نہیں کیے گئے، ان کی عزت و کرامت اور آزادی کی ضمانت فرض قرار دی ہے۔

عوام کی کرامت اور آزادی کو ان کی دینی عزت و کرامت اور مذہبی آزادی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کے حقوق سلب کرنا، ان کی عزت و کرامت کو پامال کرنا اور ان کی دینی آزادی کے محدود دائرے کو بھی چھین لینا ملکی مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کا راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha