حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں شیعہ علماء اور مذہبی شخصیات کے خلاف جاری کارروائیوں اور مذہبی سرگرمیوں پر نئی پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ علماء اور قومی انقلاب کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ علمائے دین اور مؤمنین کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے کہا: ’’ہمارا پروردگار اللہ ہے۔‘‘
بحرین کی مرکزی جیل میں قید علماء اور قومی انقلاب کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ علمائے دین کو نمائشی مقدمات کے ذریعے قید کرنا ان کے ساتھ، ان کے خاندانوں، مذہب اور پورے وطن کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔ انہوں نے ان خودسرانہ اقدامات کو فوری طور پر روکنے اور تمام گرفتار شدگان و قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اس مشترکہ بیان پر جمعیت الوفاق الوطنی الاسلامیہ کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان، انسانی حقوق کے کارکن عبدالہادی الخواجہ، انقلابی رہنما عبدالوهاب حسین، شیخ عبدالجلیل المقداد اور شیخ محمد حبیب المقداد نے دستخط کیے ہیں۔
دوسری جانب جمعیت الوفاق الوطنی الاسلامیہ بحرین نے وزارتِ انصاف کی جانب سے وعظ، دینی رہنمائی، تقاریر اور نوحہ خوانی کے اجازت ناموں کے نئے ضوابط کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعیت نے کہا کہ ستمبر 2026 کے آغاز میں جاری کیا گیا یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ بحرین کے شیعوں کے خلاف جاری منظم کارروائیوں کا نیا مرحلہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت پہلے ہی شیعہ علما کی گرفتاری، مذہبی فرائض کو جرم قرار دینے اور مذہبی شعائر میں مداخلت جیسے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ نئے ضوابط کے ذریعے مذہبی منبر کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعیت نے خاص طور پر مقررین اور نوحہ خوانوں کے لیے ’’حسنِ کردار‘‘ کی شرط کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ان علماء، خطیبوں اور نوحہ خوانوں کو سرگرمیوں سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔
جمعیت الوفاق کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد مذہبی آوازوں کو محدود کرنا اور مذہبی مجالس و شعائر کو سیاسی نگرانی کے تحت لانا ہے، تاکہ دینی شخصیات اپنی مذہبی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر انجام نہ دے سکیں۔









آپ کا تبصرہ