تحریر: سالار حسین حامدی، جامعہ محمدیہ مہدی آباد
حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ جب حق و باطل آمنے سامنے ہوں تو ایک باشعور انسان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں۔
تمہید
کربلا تاریخ کا محض ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت کی ایک عظیم درسگاہ ہے۔ کربلا ہمیں ایمان، وفا، شجاعت، بصیرت، قربانی اور حق شناسی کا درس دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ جب حق و باطل آمنے سامنے ہوں تو ایک باشعور انسان کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں۔
آج اگر ہم کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعے کے طور پر پڑھیں گے تو اس کے پیغام کی روح کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ کربلا کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہر دور کا انسان اپنے زمانے کے حالات کو سمجھے، حق و باطل میں تمیز کرے اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہے۔
اسی لیے آج کے طالبِ علم کے لیے کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے؛ کیونکہ آج کا طالبِ علم ہی کل کے معاشرے، قوم اور مستقبل کی تشکیل کرے گا۔
رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے افکار میں نوجوان نسل کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آپ کی فکر کے مطابق ایک مضبوط اسلامی معاشرہ ایسے نوجوانوں سے تشکیل پاتا ہے جو علم، ایمان، خود اعتمادی، بصیرت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہوں۔
ایک باشعور طالبِ علم کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں اپنی زندگی میں کتنا کامیاب بنوں گا، بلکہ اسے یہ بھی سوچنا چاہیے:
- میں اپنے علم کے ذریعہ اپنے معاشرے کو کیا دوں گا؟
- میں اپنی قوم اور امت کے لیے کیا کردار ادا کروں گا؟
- میں ظلم، جہالت، جھوٹ، ناانصافی اور گمراہی کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کروں گا؟
یہی وہ سوچ ہے جو ایک عام طالبِ علم کو باشعور، ذمہ دار اور باکردار نوجوان بناتی ہے۔
باشعور طالبِ علم کون ہے؟
طالبِ علم صرف وہ شخص نہیں جو کتابیں پڑھتا، امتحانات دیتا اور ڈگری حاصل کرتا ہے۔ حقیقی طالبِ علم وہ ہے جو علم کے ساتھ شعور، بصیرت اور کردار بھی حاصل کرے۔
اگر علم انسان کے اندر عاجزی پیدا نہ کرے، وہ اپنے والدین کا احترام نہ کرے، معاشرے کے مسائل سے بے خبر رہے اور سچ و جھوٹ میں تمیز نہ کر سکے تو ایسا علم ابھی اپنے حقیقی مقصد تک نہیں پہنچا۔
باشعور طالبِ علم وہ ہے جو سوال کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے، حقیقت کی تلاش میں رہتا ہے اور جذبات کے بجائے بصیرت و دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی تعلیم صرف اس کی ذاتی کامیابی کے لیے نہیں، بلکہ معاشرے اور انسانیت کی خدمت کے لیے بھی ہے۔
کربلا: شعور اور بصیرت کی درسگاہ
کربلا ہمیں سب سے پہلے بصیرت کا درس دیتی ہے۔ واقعۂ کربلا میں بہت سے لوگ موجود تھے، مگر سب نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ لوگوں میں حق کو پہچاننے کی بصیرت یکساں نہیں تھی۔
کسی نے دنیا کو ترجیح دی، کسی نے خوف کو اور کسی نے خاموشی اختیار کی؛ لیکن جن لوگوں نے حق کو پہچانا، انہوں نے اپنی جانیں تک راہِ حق میں قربان کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے طالبِ علم کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں۔ اسے یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ حق کیا ہے؟ باطل کیا ہے؟ صحیح خبر کیا ہے؟ غلط پروپیگنڈا کیا ہے؟ اور کون سا راستہ انسان کو حقیقی عزت و سربلندی عطا کرتا ہے؟
رہبر کے افکار اور نوجوان نسل
رہبرِ انقلاب کے افکار میں نوجوان نسل کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایک مضبوط، خوددار اور ترقی یافتہ معاشرہ ایسے نوجوانوں سے تشکیل پاتا ہے جو علم، ایمان، بصیرت، خود اعتمادی اور خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔
نوجوان اگر تعلیم یافتہ ہو، مگر اپنی ذمہ داریوں سے بے خبر ہو تو اس کی صلاحیتیں محدود رہ جاتی ہیں۔ لیکن جب نوجوان کے ہاتھ میں علم، دل میں ایمان، ذہن میں بصیرت اور کردار میں اخلاص ہو تو وہ معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی لیے باشعور طالبِ علم کو اپنی تعلیم کو صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے قوم و ملت کی تعمیر و ترقی کا وسیلہ بنانا چاہیے۔
کربلا اور آج کا طالبِ علم
آج کا زمانہ پہلے کے ادوار سے مختلف ہے۔ آج جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ فکر، نظریات، معلومات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بھی انسان کے ذہن کو متاثر کیا جاتا ہے۔
ایک خبر چند سیکنڈ میں ہزاروں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر سچ کے ساتھ جھوٹ اور حقیقت کے ساتھ پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔ ایسے ماحول میں طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر بات کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرے۔ قرآنِ کریم ہمیں تحقیق اور غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿فَتَبَيَّنُوا﴾ یعنی: تحقیق کر لیا کرو۔ لہٰذا باشعور طالبِ علم افواہ نہیں پھیلاتا، بغیر تحقیق کے کسی پر الزام نہیں لگاتا اور ہر خبر کو فوراً سچ تسلیم نہیں کرتا۔ وہ سوچتا ہے، تحقیق کرتا ہے، حقائق کو پرکھتا ہے اور پھر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔
نتیجہ
کربلا گزر جانے والا ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ اور ابدی پیغام ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ حق، عزت، ایمان اور مقصد کے ساتھ جینے کا نام ہے۔
آج کے طالبِ علم کو کربلا سے یہ سبق لینا ہوگا کہ وہ:
- صرف ڈگری حاصل کرنے والا انسان نہ بنے، بلکہ باشعور، باکردار، باعمل اور ذمہ دار انسان بنے۔
- وہ علم حاصل کرے تو شعور کے لیے۔
- شعور حاصل کرے تو عمل کے لیے۔
- عمل کرے تو انسانیت کی خدمت کے لیے۔
- اور زندگی گزارے تو حق و صداقت کے اصولوں کے ساتھ۔
کربلا ہمیں آج بھی پکار رہی ہے: "اے نوجوان! اپنے وقت کو پہچان، اپنے علم کو شعور بنا، اپنے شعور کو کردار بنا اور اپنے کردار کو حق کے راستے میں استعمال کر"۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف بڑے بڑے منصوبوں سے نہیں بنتا؛ قوموں کا مستقبل باشعور اور باکردار نوجوان بناتے ہیں۔
اگر آج کا طالبِ علم کربلا کو سمجھ لے، امام حسین علیہ السلام کے کردار کو اپنا رہنما بنا لے اور علم و بصیرت کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کر لے تو یقیناً وہ اپنے خاندان، معاشرے اور پوری قوم کے لیے روشنی کا چراغ بن سکتا ہے۔ یہی رہبر کے افکار کا بنیادی پیغام ہے، یہی باشعور طالبِ علم کی پہچان ہے اور یہی کربلا کا زندہ و ابدی پیغام بھی ہے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ









آپ کا تبصرہ