اتوار 26 اپریل 2026 - 12:34
عالمِ دین کے لیے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی نہایت ضروری ہے، حجت الاسلام سید عقیل عباس نقوی

حوزہ / جامعہ جعفریہ جنڈ میں طلبہ کے لیے درس اخلاق کا اہتمام کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ جعفریہ جنڈ میں طلبہ کو دیے گئے درسِ اخلاق میں حجت الاسلام والمسلمین سید عقیل عباس نقوی نے مختلف اہم دینی و تربیتی نکات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا: امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرماتا ہے جیسا کہ حدیث "اذا اراد الله بعبد خیرا فقهه فی الدین" میں بیان ہوا ہے۔

عالمِ دین کے لیے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی نہایت ضروری ہے، حجت الاسلام سید عقیل عباس نقوی

انہوں نے علمِ دین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: دینی علوم کا حصول محض ایک تعلیمی مرحلہ یا فقط معلومات کو ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے جس کے ذریعے انسان نہ صرف اپنی اصلاح کرتا ہے بلکہ معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔

خطیب نے عالمِ دین کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے کہا: ایک عالم پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو عملی زندگی میں نافذ کرے اور لوگوں کی صحیح دینی رہنمائی کرے کیونکہ علم کے بغیر عمل اور عمل کے بغیر علم دونوں ناقص ہیں۔

عالمِ دین کے لیے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی نہایت ضروری ہے، حجت الاسلام سید عقیل عباس نقوی

انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ہدف کی تعیین اور نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: کامیاب طالب علم وہی ہے جو اپنے مقصد کو واضح رکھے اور اپنی روزمرہ زندگی میں نظم و انضباط کو اپنائے۔

حجت الاسلام والمسلمین نقوی نے نہج البلاغہ میں أمیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان "سل تفقها ولا تسئل تعنتا" کے تناظر میں سوال کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: ایک حقیقی طالب علم علم کے حصول کے لیے سوال کرتا ہے جبکہ جاہل انسان محض اعتراض اور ضد کے لیے سوال اٹھاتا ہے لہٰذا سوال کا مقصد سمجھنا اور کچھ حاصل کرنا ہونا چاہیے نہ کہ کسی کو الجھانا۔

عالمِ دین کے لیے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی نہایت ضروری ہے، حجت الاسلام سید عقیل عباس نقوی

انہوں نے آخر میں اس بات پر تاکید کی کہ عالمِ دین کے لیے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں دین کی تبلیغ اور رہنمائی کر سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha