جمعرات 27 اگست 2026 - 12:09
حق و باطل کی پہچان مشکل کیوں ہو جاتی ہے؟

حوزہ/ شہید رہبر انقلاب نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں حق اور باطل میں تمیز کی دشواری بیان کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں حق کو پہچاننا اس لیے مشکل رہا ہے کہ باطل ہمیشہ خود کو حق کے پردے میں پیش کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے حق و باطل کو باہم ملا دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید رہبر انقلاب نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں حق اور باطل میں تمیز کی دشواری بیان کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں حق کو پہچاننا اس لیے مشکل رہا ہے کہ باطل ہمیشہ خود کو حق کے پردے میں پیش کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے حق و باطل کو باہم ملا دیتا ہے۔

شہید رہبر انقلاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:

حق اور باطل میں تمیز کرنا تاریخِ انسانیت اور تاریخ انبیاء علیہم السلام میں انسانوں کے لیے ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہا ہے۔ ہر شخص حق کی پیروی اور باطل سے دوری اختیار کرنا چاہتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا وجود غضبِ الٰہی کی آگ میں تبدیل ہوچکا ہے اور جو شیطان کا مظہر ہیں، عقل، انصاف اور انسانی صفات رکھنے والے عام لوگ باطل سے بچنا اور حق کی طرف مائل ہونا چاہتے ہیں؛ لیکن حق اور باطل کی پہچان ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک درد مندانہ خطبے میں اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

«ولکن یوخذ من هذا ضغث و من هذا ضغث فیمزجان فهنالک یستولی الشّیطان علی اولیائه»

یعنی باطل کے پیروکار حق کا ایک حصہ اور باطل کا ایک حصہ لے کر دونوں کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔ اس طرح باطل پر حق کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے تاکہ اسے لوگوں کے سامنے قابلِ قبول بنایا جاسکے۔

شہید رہبر انقلاب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حق بالکل واضح اور خالص صورت میں سامنے آتا تو کوئی شخص شبہے میں مبتلا نہ ہوتا، اور اگر باطل بھی کھلے اور عیاں انداز میں ظاہر ہوتا تو کوئی اس کی پیروی نہ کرتا۔ لیکن جب حق و باطل کو اس طرح ملا دیا جاتا ہے کہ باطل، حق کا لباس پہن لیتا ہے تو یہی وہ مقام ہے جہاں شیطان اپنے پیروکاروں پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور حق لوگوں کے لیے مشتبہ ہوجاتا ہے۔

12 اکتوبر 1989ء — مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقات میں خطاب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha