تحریر: اریبہ فاطمہ کاظمی
حوزہ نیوز ایجنسی|
خلاصہ:
سفرِ اربعین حسینی عصرِ حاضر کے عظیم ترین روحانی، فکری اور اجتماعی مظاہر میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ امام حسین علیہ السلام کے قیام، ان کے بلند انسانی مقاصد اور ظلم کے مقابلے میں حق کی استقامت کا زندہ اظہار ہے۔ موجودہ دور میں جب انسانیت خوف، جنگ، ناانصافی، اخلاقی بحران اور فکری انتشار جیسے مسائل سے دوچار ہے، اربعین حسینی امید، بیداری اور مقاومت کا پیغام لے کر سامنے آتا ہے۔
قرآن کریم نے انسان کی زندگی کو آزمائشوں سے تعبیر کیا ہے اور خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان کو امتحان قرار دیتے ہوئے صبر کرنے والوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے۔ واقعۂ کربلا اسی قرآنی اصول کی عملی تفسیر ہے، جہاں امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب نے شدید ترین حالات میں بھی حق، عدل اور دین کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔
یہ مضمون حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں سفرِ اربعین کی اہمیت، اس کے روحانی و اجتماعی پیغام، امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے اس کے تعلق، اور علماء و مفکرین کی نگاہ میں اربعین کی عظمت کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ اربعین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی کامیابی خوف سے فرار میں نہیں، بلکہ ایمان، صبر، بصیرت اور حق پر ثابت قدم رہنے میں ہے
تمہید:
انسانی تاریخ ہمیشہ سے حق و باطل کی کشمکش، آزمائشوں اور امتحانات کی داستان رہی ہے۔ ہر دور میں انسان کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جہاں اسے اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنے مقصدِ زندگی کا انتخاب کرنا پڑا۔ کبھی ظلم نے طاقت کے لباس میں انسانیت کو دبانے کی کوشش کی، کبھی خوف کے ذریعے حق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے خدا پر بھروسہ کیا اور حق کا دامن تھامے رکھا، وہی حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
آج کا دور بھی مختلف بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں، ظلم و ستم، بے گناہوں کا قتل، بے گھری، معاشی مشکلات اور فکری انتشار انسانیت کے لیے ایک بڑی آزمائش بن چکے ہیں۔ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی تو کر لی، لیکن امن، عدل اور انسانی اقدار کے میدان میں آج بھی بے شمار سوالات موجود ہیں۔
ایسے حالات میں سفرِ اربعین ایک عظیم روحانی اور فکری پیغام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ یہ انسانیت کو یہ یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا حسینی راستہ نہیں، بلکہ حق، عدالت اور انسانیت کے لیے کھڑا ہونا ہی حقیقی زندگی ہے۔
کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ تعداد کم ہونے سے حق کمزور نہیں ہوتا، اور ظاہری طاقت زیادہ ہونے سے باطل کامیاب نہیں ہوتا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے عظیم قیام کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ انسان اگر خدا کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس کی قربانی صدیوں تک انسانیت کو راستہ دکھاتی رہتی ہے۔
اسی لیے آج جب لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان اربعین کے موقع پر کربلا کی طرف سفر کرتے ہیں، تو یہ سفر صرف ایک مقام تک پہنچنے کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ یہ دلوں کی بیداری، ایمان کی تجدید اور امام حسین علیہ السلام کے پیغام سے دوبارہ وابستہ ہونے کا سفر ہوتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں خوف اور آزمائش کا فلسفہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کو پہلے ہی آگاہ کر دیا ہے کہ دنیا کی زندگی آزمائشوں سے خالی نہیں ہوگی۔ انسان کبھی خوف، کبھی مشکلات، کبھی نقصان اور کبھی محرومی کے ذریعے آزمایا جائے گا۔
ارشادِ الٰہی ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ. اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔(سورۂ بقرہ، آیت 155)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خوف اور مشکلات ہمیشہ شکست کی علامت نہیں ہوتیں، بلکہ کبھی کبھی یہی آزمائشیں انسان کے ایمان، صبر اور استقامت کو ظاہر کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
آج دنیا میں جو خوف، بے یقینی اور اضطراب موجود ہے، وہ بھی ایک امتحان ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مشکلات کیوں آئیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان مشکلات کے مقابلے میں اپنا کردار کیا ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم خوف کے سامنے جھک جاتے ہیں یا ایمان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں؟
کربلا ہمیں اسی سوال کا جواب دیتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں نے شدید ترین حالات میں بھی خوف کو اپنے ارادے پر غالب نہیں آنے دیا۔ بھوک، پیاس، تنہائی اور دشمن کی کثرت کے باوجود انہوں نے حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔
یہی وجہ ہے کہ اربعین کا پیغام آج بھی زندہ ہے، کیونکہ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ مؤمن کی پہچان مشکلات سے فرار نہیں، بلکہ مشکلات میں خدا پر اعتماد اور حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔
کربلا، خوف کے مقابلے میں ایمان کی فتح
کربلا تاریخ کا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا زندہ مکتب ہے جو ہر دور کے انسان کو زندگی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانیت نے دیکھا کہ کس طرح چند افراد، کامل یقین، بلند مقصد اور خدا پر توکل کے ذریعے ایک عظیم پیغام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر گئے۔
امام حسین علیہ السلام کے سامنے بظاہر تمام ظاہری اسباب ختم ہو چکے تھے۔ ایک طرف ایک بڑا لشکر تھا، دوسری طرف ایک چھوٹا سا قافلہ ایک طرف اقتدار کی طاقت تھی، دوسری طرف حق کی آواز۔ لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ فتح کا معیار صرف تعداد اور ظاہری طاقت نہیں، بلکہ حقانیت، اخلاص اور اللہ پر ایمان ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ اور پھر کربلا کی طرف سفر کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایک مؤمن ظلم، ذلت اور باطل کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتا۔
آپؑ کا مشہور فرمان ہے: إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي.:میں نہ کسی غرور، تکبر یا فساد کے لیے نکلا ہوں، بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے قیام کر رہا ہوں۔ ( محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 59؛ نیز دیگر کتبِ مقتل میں مضموناً نقل ہوا ہے۔)
یہ کلمات واضح کرتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام ذاتی مفاد کے لیے نہیں تھا، بلکہ دین، انسانیت اور عدل کے تحفظ کے لیے تھا۔
آج جب دنیا میں ظلم کی مختلف شکلیں موجود ہیں، جب طاقتور کمزور کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، جب حق کی آواز کو مختلف طریقوں سے خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو کربلا کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر انسان کے دل میں ایمان زندہ ہو تو خوف اس کے قدم نہیں روک سکتا۔
سفرِ اربعین، عشق، شعور اور مزاحمت کی علامت
اربعین حسینی دراصل کربلا کے پیغام کی تجدید کا نام ہے۔ عاشورا نے جس انقلاب کو آغاز دیا، اربعین اس پیغام کی بقا اور نشر و اشاعت کی علامت بن گیا۔
ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں انسان کربلا کی طرف سفر کرتے ہیں۔ کوئی ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، کوئی سخت موسم برداشت کرتا ہے، کوئی اپنی سہولتیں قربان کرتا ہے، لیکن دل میں صرف ایک محبت ہوتی ہے:
"لبیک یا حسینؑ"
یہ آواز صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ عہد ہے کہ ہم ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دیں گے، ہم اپنی زندگیوں کو حسینی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے اور ہم انسانیت، عدل اور اخلاق کی حفاظت کریں گے۔
اربعین کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہاں انسانیت اپنے بلند ترین مقام پر نظر آتی ہے۔ راستوں میں لگے ہوئے موکب، زائرین کی خدمت کرنے والے افراد، ایک دوسرے کے لیے ایثار اور محبت کا جذبہ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی محبت دلوں کو جوڑنے والی طاقت رکھتی ہے۔
اربعین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ جو شخص امام حسین علیہ السلام سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اس کے کردار میں بھی رحم، خدمت، صبر اور ایثار کا رنگ نمایاں ہونا چاہیے۔
اربعین اور عصرِ حاضر
آج کا انسان بظاہر بہت ترقی کر چکا ہے، لیکن اندر سے خوف، تنہائی اور بے مقصدی کا شکار ہے۔ ایسے میں اربعین اسے یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت مال، منصب یا دنیاوی وسائل نہیں، بلکہ ایمان، مقصد اور اللہ سے تعلق ہے۔
اربعین کا عظیم اجتماع دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دی جا سکتی۔ حسینؑ کا نام آج بھی زندہ ہے اور یزیدیت ہر دور میں نفرت اور مذمت کی علامت ہے۔
اسی لیے اربعین صرف ایک سفر نہیں، بلکہ ایک اعلان ہے:
یہ اعلان کہ حق زندہ ہے
یہ اعلان کہ قربانی رائیگاں نہیں جاتی
اور یہ اعلان کہ خدا کے لیے اٹھنے والے قدم کبھی ضائع نہیں ہوتے
اربعین، امامِ زمانہؑ سے تعلق اور عصرِ انتظار کی ذمہ داریاں
سفرِ اربعین صرف ماضی کے ایک عظیم واقعے کی یاد نہیں، بلکہ یہ حال اور مستقبل کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ سفر انسان کو اپنے امام، اپنے مقصدِ زندگی اور اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کا قیام دراصل دین کی حفاظت، ظلم کے خاتمے اور انسانیت کی اصلاح کے لیے تھا۔ یہی مقصد آج بھی زندہ ہے اور یہی مقصد امامِ عصر حضرت حجت بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کا بنیادی ہدف بھی ہے؛ یعنی دنیا میں عدل، انصاف اور حقیقی انسانی اقدار کا قیام۔
اسی لیے اربعین کو امامِ زمانہؑ سے تجدیدِ عہد کا موقع بھی سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک زائر کربلا کی طرف بڑھتا ہے تو وہ صرف ایک تاریخی مقام کی زیارت نہیں کرتا، بلکہ اپنے دل میں یہ عہد تازہ کرتا ہے کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے راستے، یعنی حق، عدل اور ولایت کے راستے پر قائم رہے گا۔
زیارتِ اربعین کے کلمات بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اس زیارت میں امام حسین علیہ السلام کو اللہ کے ولی، دین کے محافظ اور حق کے قیام کے لیے قربانی دینے والی عظیم ہستی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
زیارتِ اربعین میں ہم پڑھتے ہیں: وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فِيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبَادَكَ مِنَ الْجَهَالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلَالَةِ. آپؑ نے اپنی جان کا خون اللہ کی راہ میں اس لیے پیش کیا تاکہ اللہ کے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی حیرت سے نجات دے سکیں۔ (شیخ طوسی، مصباح المتهجد؛ نیز علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ج 98)
یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت کی ہدایت کا ذریعہ ہے۔
علماء و مفکرین کی نگاہ میں اربعین
اربعین حسینی کی عظمت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ بزرگ علماء اور مفکرین نے بھی اسے ایک عظیم انسانی و اسلامی تحریک قرار دیا ہے۔
امام خمینیؒ کی نگاہ میں عاشورا اور اربعین
امام خمینیؒ نے فرمایا: یہ محرم اور صفر ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔( امام خمینی، صحیفۂ امام، جلد 15، بیانات)
اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ عاشورا نے اسلام کو ظلم کے مقابلے میں قیام کا درس دیا اور محرم و صفر کی مجالس اور شعائر نے اس پیغام کو نسل در نسل زندہ رکھا۔ اربعین اسی پیغامِ عاشورا کا ایک عظیم مظہر ہے، جہاں دنیا بھر کے انسان امام حسین علیہ السلام کے مشن سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای اور اربعین
رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اربعین کو امتِ اسلامی کے اتحاد، محبت اور بیداری کا عظیم مظہر قرار دیتے ہیں۔ آپ کے بیانات میں بارہا اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اربعین حسینی ایک ایسا عظیم اجتماع ہے جو دنیا کو امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ عدل و مقاومت سے آشنا کرتا ہے۔
آپ کے مطابق اربعین صرف ایک مذہبی مراسم نہیں، بلکہ ایک ایسا انسانی اور روحانی واقعہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور ظلم کے مقابلے میں حق کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ (دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ خامنہ ای، بیاناتِ اربعین حسینی)
شہید مرتضیٰ مطہریؒ اور فلسفۂ کربلا
شہید مرتضیٰ مطہریؒ نے اپنی معروف کتاب "حماسۂ حسینی" میں واقعۂ عاشورا کو ایک زندہ مکتب قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کا قیام صرف تاریخی غم نہیں، بلکہ انسان سازی کا ایک عظیم درس ہے۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو حق کی پہچان کے بعد اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔(مرتضیٰ مطہری، حماسۂ حسینی، دفتر نشر صدرا، تہران)
زیارتِ اربعین؛ مؤمن کی پہچان
امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ: صَلَاةُ إِحْدَى وَخَمْسِينَ، وَزِيَارَةُ الْأَرْبَعِينَ... مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں: اکیاون رکعت نماز، زیارتِ اربعین، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں پیشانی کو خاک پر رکھنا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنا۔ (شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، ج 6، ص 52؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج 10)
یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ زیارتِ اربعین اہلِ ایمان کے لیے خاص روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ ولایت، محبت اور وفاداری کی علامت ہے۔
اربعین ایک عالمی بیداری کی تحریک
آج دنیا جس تیزی سے مادی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے روحانی اقدار کمزور بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اربعین انسانیت کے لیے ایک زندہ درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ عظیم اجتماع ہے جہاں رنگ، نسل، زبان، قومیت اور جغرافیہ سب ختم ہو جاتے ہیں اور صرف ایک شناخت باقی رہ جاتی ہے، "محبِ حسینؑ"۔
سفرِ اربعین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امت کی حقیقی طاقت اتحاد، ایثار اور اخوت میں ہے۔ لاکھوں افراد کا ایک دوسرے کی بے لوث خدمت کرنا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب انسان خدا اور اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت سے سرشار ہو جائے تو ذاتی مفادات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَارِفًا بِحَقِّهِ كَانَ كَمَنْ زَارَ اللَّهَ فِي عَرْشِهِ. جو شخص امام حسینؑ کی ان کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے، وہ ایسا ہے گویا اس نے عرشِ الٰہی کے پاس اللہ کی عبادت کی ہو۔
یہ روایت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زیارت صرف جسمانی سفر نہیں، بلکہ معرفت، اطاعت اور ولایت سے وابستگی کا نام ہے۔
اربعین ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں حق اور باطل کی کشمکش مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ لہٰذا ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کردار، اپنے اخلاق، اپنے علم اور اپنی خدمت کے ذریعے حسینی پیغام کو زندہ رکھے۔ اگر اربعین کے بعد بھی ہماری زندگی میں تقویٰ، اخلاص، خدمتِ خلق، صبر اور ظلم سے نفرت پیدا نہ ہو، تو ہمیں اپنے آپ کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے اربعین کے حقیقی پیغام سے کتنا استفادہ کیا۔
نتیجہ
اربعین،خوف کے مقابلے میں امید اور حق کی دائمی فتح
تاریخ کے صفحات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ظلم، جبر اور باطل وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہ سکتے۔ جس راستے کی بنیاد حق، صداقت اور خدا کی رضا پر ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔ کربلا اسی حقیقت کا روشن ترین ثبوت ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے انسانیت کو یہ درس دیا کہ عزت کے ساتھ جینا، حق کے لیے کھڑا ہونا اور ظلم کے سامنے انکار کرنا ہی مؤمن کی حقیقی پہچان ہے۔ آپؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیت اور اپنے باوفا اصحاب کی قربانی دے کر آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا کہ دین اور انسانیت کی حفاظت کے لیے قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
آج جب دنیا مختلف آزمائشوں سے گزر رہی ہے، جب خوف، جنگ، ناانصافی اور بے یقینی کے سائے انسانیت پر چھائے ہوئے ہیں، ایسے میں سفرِ اربعین ایک امید کی کرن بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوف کے مقابلے میں ایمان، ظلم کے مقابلے میں حق اور مایوسی کے مقابلے میں امید ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
اربعین کا راستہ صرف نجف سے کربلا تک کا راستہ نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی سفر ہے؛ غفلت سے بیداری تک، خود غرضی سے ایثار تک، خوف سے شجاعت تک اور دنیا کی محبت سے خدا کی محبت تک پہنچنے کا سفر ہے۔
کروڑوں انسانوں کا کربلا کی طرف سفر دنیا کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا مکتب آج بھی زندہ ہے۔ وہ مکتب جو انسان کو ظلم کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتا ہے، جو انسان کو دوسروں کے درد کو محسوس کرنا سکھاتا ہے اور جو زندگی کو خدا کی رضا کے مطابق گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
لہٰذا ہماری ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ ہم اربعین میں شرکت کریں یا امام حسین علیہ السلام کی یاد منائیں، بلکہ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حسینی اقدار کو زندہ کریں۔ اپنے اخلاق میں صداقت، اپنے معاملات میں انصاف، اپنے رویوں میں محبت، اور اپنے کردار میں اخلاص پیدا کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے حقیقی پیروکار کہلائیں، تو ہمیں اپنے زمانے کے باطل، ظلم اور ناانصافی کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہمیں مظلوموں کے درد کو سمجھنا ہوگا، انسانیت کی خدمت کرنی ہوگی اور اپنے عمل سے حسینی پیغام کو عام کرنا ہوگا۔
آخر میں بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے:
اے پروردگار! ہمیں امام حسین علیہ السلام کی حقیقی معرفت عطا فرما، ہمیں ان کے راستے پر ثابت قدم رکھ، ہمیں صبر، بصیرت اور استقامت عطا فرما، اور ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرما جو امامِ عصر حضرت حجت بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے لیے آمادہ اور ان کے حقیقی مددگار ہوں۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو حسینؑ کی محبت سے زندہ رکھ، ہماری زبانوں کو حق کے لیے گویا رکھ، ہمارے قدموں کو راہِ ولایت پر ثابت رکھ، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اہلِ بیت علیہم السلام کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات
1. قرآن کریم
سورۂ بقرہ، آیت 155 (آزمائش، خوف اور صبر کے موضوع پر
2. شیخ طوسی، محمد بن حسن
تہذیب الأحکام، دارالکتب الاسلامیہ، قم۔
3. ابن قولویہ، جعفر بن محمد
کامل الزیارات، قم۔
4. شیخ مفید، محمد بن محمد
الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج 2۔
5. سید ابن طاؤس
لہوف فی قتلی الطفوف۔
6. علامہ محمد باقر مجلسی
بحار الأنوار، ج 45، ج 98، ج 101۔
7. شیخ عباس قمی
مفاتیح الجنان، زیارتِ اربعین۔
8. حر عاملی، محمد بن حسن
وسائل الشیعہ، ابواب زیارتِ امام حسین علیہ السلام۔
9. امام خمینیؒ
صحیفۂ امام، جلد 15، بیاناتِ محرم و صفر۔
10. مرتضیٰ مطہریؒ
حماسۂ حسینی، دفتر نشر صدرا، تہران۔
11. دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای
بیانات و پیغاماتِ اربعین حسینی









آپ کا تبصرہ