جمعرات 30 جولائی 2026 - 03:11
اربعین حسینی حضرت زینبؑ کے وعدۂ صبر و استقامت کی عملی تعبیر ہے، مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی

حوزہ/ البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ اور امریکہ میں مقیم معروف مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے کہا ہے کہ اربعین حسینی صرف امام حسینؑ کی زیارت کا نام نہیں بلکہ حضرت زینبؑ کے اس تاریخی وعدے کی عملی تعبیر ہے کہ کربلا ہمیشہ اہلِ ایمان کا مرکزِ عقیدت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اربعین دنیا کے سامنے محبت، اخوت، خدمت اور اسلامی تعلیمات کی عملی تفسیر پیش کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ اور سرزمینِ امریکہ میں معروف مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین سید محبوب مہدی عابدی نجفی، جو ان دنوں اربعین حسینی کے موقع پر نجف اشرف میں موجود ہیں، نے حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں اور ان مقدس ہستیوں میں امام حسین علیہ السلام کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیتؑ عشقِ حسینؑ میں کربلا کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر اربعین کو صرف امام حسینؑ کی زیارت سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نظامِ تبلیغِ دین میں جس طرح مردوں کا کردار اہم رہا ہے، اسی طرح خواتین نے بھی بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اربعین دراصل حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اس وعدے کی تکمیل ہے جو انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ ایک دن دنیا بھر کے مومنین امام حسینؑ کی زیارت کے لیے یہاں آئیں گے، تو یہ حقیقت کے عین مطابق ہوگا۔ اس اعتبار سے اربعین میں امام حسینؑ کی زیارت کے ساتھ حضرت زینبؑ کی عظیم قربانیوں اور پیغام کا تذکرہ بھی ناگزیر ہے۔

مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے کہا کہ اربعین کے عظیم اجتماع میں ہر نسل، ہر رنگ اور ہر زبان کے لوگ ایک دوسرے سے ایسی محبت اور اخوت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ عراق کے عوام اپنے گھروں کے دروازے زائرین کے لیے کھول دیتے ہیں، خود باہر آرام کرتے ہیں اور مہمانوں کو اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ لوگ ایک دوسرے سے ناواقف ہوتے ہیں، لیکن امام حسینؑ سے نسبت انہیں ایک خاندان بنا دیتی ہے۔ یہی حقیقی اسلامی اخوت اور قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کا اجتماع دنیا کا سب سے بڑا سالانہ انسانی اجتماع ہے، جہاں کروڑوں افراد شریک ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود نظم و ضبط، باہمی احترام اور خدمت کا بے مثال منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے اور محبت و ایثار کی ایسی مثالیں قائم ہوتی ہیں جو دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اربعین کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب بندوں سے محبت کرے۔ جو امام حسینؑ سے محبت کرتا ہے، وہ درحقیقت خدا کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اربعین اسی عشقِ الٰہی اور مودتِ اہلِ بیتؑ کا عملی مظہر ہے، جسے صرف الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے محسوس کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجف اشرف، کاظمین، سامراء اور کربلائے معلیٰ ان دنوں زائرین سے بھرے ہوئے ہیں اور یہ منظر خداوند متعال کی ایک عظیم نشانی ہے، جو دنیا پر حجت تمام کرتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کی محبت کس قدر زندہ اور طاقتور ہے۔

مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے عالمی ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا سالانہ انسانی اجتماع ہونے کے باوجود اربعین کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ اگر کسی اور مقام پر اس اجتماع کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی منعقد ہو تو عالمی میڈیا اسے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، مگر کروڑوں افراد پر مشتمل اربعین مارچ کو نظر انداز کرنا میڈیا کی جانبداری اور ناانصافی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ان موضوعات اور مظلوم اقوام کی آواز دنیا تک پہنچا رہا ہے جنہیں عالمی میڈیا نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حوزہ نیوز آئندہ بھی حسینی پیغام، اربعین کی عظمت اور مظلوموں کی آواز کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مومنین کو امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے اور پیغامِ کربلا کو پوری دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha