جمعرات 30 جولائی 2026 - 15:01
خیموں سے اربعین کے موکبوں تک — ظلم کا تسلسل اور خونِ حسینؑ کی ابدی فتح

حوزہ/کربلا صرف ایک میدانِ جنگ کا نام نہیں، بلکہ حق و باطل کی دائمی کشمکش کا ایسا عنوان ہے جو ہر دور میں نئے انداز سے دہرایا جاتا ہے۔ ظلم کے چہرے بدلتے رہتے ہیں، حکمران بدل جاتے ہیں، ہتھیار جدید ہو جاتے ہیں، مگر مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی حقیقت نہیں بدلتی۔

تحریر: مولانا ارشد حسین آرمو کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی| کربلا صرف ایک میدانِ جنگ کا نام نہیں، بلکہ حق و باطل کی دائمی کشمکش کا ایسا عنوان ہے جو ہر دور میں نئے انداز سے دہرایا جاتا ہے۔ ظلم کے چہرے بدلتے رہتے ہیں، حکمران بدل جاتے ہیں، ہتھیار جدید ہو جاتے ہیں، مگر مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی حقیقت نہیں بدلتی۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل کو حق کی آواز سے خطرہ محسوس ہوا، اس نے سب سے پہلے معصوم جانوں، بےگناہ انسانوں، عورتوں، بچوں اور امن کے قافلوں کو نشانہ بنایا۔

کربلا کی شام کو جب اہلِ بیتِ رسولؐ کے خیموں کو آگ لگائی گئی، معصوم بچوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کیا گیا اور بےکس خواتین کو اسیری کی زنجیروں میں جکڑا گیا، تو یہ صرف ایک خاندان پر ظلم نہیں تھا بلکہ انسانیت، اخلاق اور الٰہی اقدار پر حملہ تھا۔ وہ آگ صرف خیموں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے تاریخ کے دامن پر ایسا سیاہ دھبہ چھوڑا جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔

افسوس کہ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں وہی ظلم نئے ناموں اور نئے چہروں کے ساتھ زندہ ہے۔ اربعین کے زائرین، جو محبتِ حسینؑ کا پیغام لے کر امن، وفا اور اخوت کے سفر پر نکلتے ہیں، جب ان کے خیموں، قافلوں اور اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ ظلم کی سوچ آج بھی وہی ہے جو کربلا میں تھی۔ زمانہ بدل گیا، مگر باطل کی ذہنیت نہیں بدلی۔

لیکن تاریخ کا ایک اور روشن باب بھی ہمیشہ زندہ رہا ہے، اور وہ ہے خونِ شہداء کی فتح۔ ظالم ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ قتل، دہشت اور خوف کے ذریعے حق کی آواز کو خاموش کر دے گا، مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ شہید کا خون زمین پر گر کر ضائع نہیں ہوتا۔ یہی خون قوموں کو بیدار کرتا ہے، ضمیروں کو جھنجھوڑتا ہے، حق کے چراغ روشن کرتا ہے اور باطل کے محلات کو لرزا دیتا ہے۔

امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کا خون آج بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں میں آزادی، عزت، غیرت اور استقامت کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں کے ظلم، پابندیوں، دھمکیوں اور قتل و غارت کے باوجود اربعین کا قافلہ ہر سال پہلے سے زیادہ عظمت اور شان کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ محبتِ حسینؑ کو نہ تلوار شکست دے سکتی ہے، نہ بارود، نہ ظلم اور نہ دہشت گردی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا عملی درس بنائیں۔ مظلوم کا ساتھ دینا، ظالم کی مخالفت کرنا، حق پر ثابت قدم رہنا اور ہر دور کے یزیدی کردار کو پہچاننا ہی حقیقی پیغامِ حسینؑ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت، آزادی اور خدا کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

یاد رکھئے! خیمے جلائے جا سکتے ہیں مگر فکرِ حسینؑ کو نہیں، جسموں کو شہید کیا جا سکتا ہے مگر حق کی آواز کو نہیں، اور ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ ذلت اور شکست ہی ہوتا ہے۔

خونِ حسینی کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ہر قطرۂ خون ایک نئی بیداری، ہر شہادت ایک نئی زندگی، اور ہر قربانی باطل کے زوال اور حق کی ابدی کامیابی کا اعلان بن جاتی ہے۔ یہی کربلا کا پیغام ہے، یہی اربعین کی روح ہے اور یہی انسانیت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha