جمعہ 24 جولائی 2026 - 04:55
حضرت عمار یاسر (رض)؛ حق کے ابدی علمبردار

حوزہ/اسلام کی تاریخ ان عظیم نفوسِ قدسیہ کے تذکروں سے منور ہے جنہوں نے اپنے ایمان، ایثار، استقامت اور بے مثال قربانیوں سے دینِ اسلام کی آبیاری کی۔ انہی درخشاں اور جاوداں شخصیات میں حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

اسلام کی تاریخ ان عظیم نفوسِ قدسیہ کے تذکروں سے منور ہے جنہوں نے اپنے ایمان، ایثار، استقامت اور بے مثال قربانیوں سے دینِ اسلام کی آبیاری کی۔ انہی درخشاں اور جاوداں شخصیات میں حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ ان خوش نصیب اصحابِ رسولؐ میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں دعوتِ حق پر لبیک کہا، راہِ حق میں ظلم و ستم کی ہولناک آزمائشیں برداشت کیں، مگر اپنے ایمان، عزم اور وفاداری میں کبھی لغزش آنے نہ دی۔ آپ کی پوری زندگی صبر، اخلاص، شجاعت، ایثار اور ولایتِ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے غیر متزلزل وابستگی کی روشن اور درخشاں مثال ہے۔

حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ولادت بعثتِ نبوی سے تقریباً 44 برس قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ یمن سے ہجرت کر کے مکہ آئے تھے، جبکہ والدہ حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا وہ عظیم خاتون ہیں جنہیں اسلام کی پہلی شہیدہ ہونے کا لازوال اعزاز حاصل ہوا۔ اس پاکیزہ خانوادہ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے ایسی بے مثال قربانیاں پیش کیں کہ تاریخِ انسانیت ہمیشہ ان پر ناز کرتی رہے گی۔

جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوتِ اسلام کو علانیہ پیش فرمایا تو حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس دور میں اسلام قبول کرنا گویا دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنے کے مترادف تھا، کیونکہ قریش اپنی پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے تھے۔ مگر حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ہر خوف، جبر اور دنیاوی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر حق کا دامن مضبوطی سے تھام لیا اور ایمان کی وہ دولت حاصل کی جس کی قیمت دنیا کی کوئی نعمت ادا نہیں کر سکتی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے اہلِ خانہ پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے گئے جن کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ مکہ کی تپتی ہوئی ریت، دہکتے ہوئے پتھر، آگ میں تپائے گئے لوہے، کوڑوں کی بارش اور مسلسل جسمانی اذیتیں ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئیں۔ حضرت یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا نے ان تمام مظالم کے باوجود کلمۂ حق سے دستبردار ہونے کے بجائے جامِ شہادت نوش کیا۔ حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا اسلام کی پہلی شہیدہ قرار پائیں، جبکہ حضرت یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی راہِ حق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔ یہ دل سوز مناظر حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھوں کے سامنے پیش آئے، مگر ان کے ایمان کی روشنی مزید درخشاں اور ان کے عزم کی مضبوطی پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہوتی گئی۔

شدید جسمانی اذیتوں کے باعث جب مشرکین نے حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو مجبور کیا کہ وہ زبان سے اسلام سے بیزاری کا اظہار کریں، تو انہوں نے جان بچانے کے لئے بظاہر ایسا کیا، جبکہ ان کا دل ایمان کے نور سے معمور تھا۔ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، لیکن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی پاکیزگی اور اخلاص کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا: "عمار سر سے قدم تک ایمان سے لبریز ہیں اور ایمان ان کے گوشت اور خون میں رچ بس گیا ہے۔" اسی موقع پر سورۂ نحل کی آیت 106 نازل ہوئی، جس نے حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے اخلاص کی تصدیق اور تقیہ کی مشروعیت کو واضح کر دیا۔

حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر معمولی قرب حاصل تھا۔ آپ سفر و حضر میں ہمیشہ حضورؐ کے ہمراہ رہتے، مسجدِ نبوی کی تعمیر میں بے مثال محنت کرتے اور ہر غزوے میں اپنی جانثاری، شجاعت اور وفاداری کا عملی ثبوت پیش کرتے۔ غزوۂ بدر، احد، خندق، خیبر، حنین اور دیگر تمام معرکوں میں آپ کی بہادری نمایاں رہی۔ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے دوران رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: "اے عمار! تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔" یہ عظیم پیشنگوئی بعد میں جنگِ صفین میں پوری دنیا کے سامنے سچ ثابت ہوئی۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ہمیشہ حق، عدالت اور ولایتِ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا پرچم بلند رکھا۔ آپ حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، حضرت ابوذر غفاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت مقداد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ان عظیم اصحاب میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہر حال میں امام علی علیہ السلام کی نصرت اور حمایت کی۔ آپ نے سقیفہ کے بعد پیش آنے والے حالات میں بھی حق کا ساتھ دیا، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تجہیز و تدفین میں شریک ہوئے اور پوری زندگی امت کو اہلِ بیت علیہم السلام کی اطاعت اور محبت کی دعوت دیتے رہے۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ آپ کے نہایت معتمد رفیق، مدبر مشیر اور نڈر سپہ سالار تھے۔ جنگِ جمل میں آپ نے لشکر کے ایک اہم حصہ کی قیادت کی، جبکہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوفہ جا کر ہزاروں افراد کو امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے آمادہ کیا۔ آپ کا تقویٰ، دیانت، صداقت اور حق شناسی اس قدر مسلم تھی کہ لوگ آپ کو حق و باطل کے درمیان ایک معتبر معیار تصور کرتے تھے۔

جنگِ صفین حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی حیاتِ مبارکہ کا آخری اور فیصلہ کن باب ثابت ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر نوّے برس سے متجاوز تھی، مگر بڑھاپا آپ کے عزم، حوصلے اور شجاعت کو متزلزل نہ کر سکا۔ آپ جوان مجاہدوں کی طرح میدانِ کارزار میں سرگرم رہے، کیونکہ آپ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ پیشنگوئی ہمیشہ یاد تھی کہ آپ کی شہادت ایک باغی گروہ کے ہاتھوں ہوگی۔

روایات کے مطابق، 9 صفر 37 ہجری کو شہادت سے قبل حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے پانی طلب کیا، مگر انہیں دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر آپ کے چہرۂ مبارک پر مسرت کی ایک دل نشیں لہر دوڑ گئی، کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ دنیا میں آپ کا آخری رزق دودھ کا ایک پیالہ ہوگا۔ آپ نے دودھ نوش کیا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ایک مرتبہ پھر میدانِ جہاد میں اتر گئے، جہاں دشمن کے حملے میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی اور یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو شہید کرنے والا گروہ ہی "فئۂ باغیہ" تھا۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے جب حضرت عمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا جسدِ مبارک دیکھا تو نہایت رنج و ملال کے ساتھ فرمایا کہ "جو شخص عمار کی شہادت پر غمگین نہ ہو، اس کا اسلام سے کوئی حقیقی حصہ نہیں۔" اس کے بعد آپ نے خود ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے خون آلود لباس ہی میں سپردِ خاک فرمایا۔ آج بھی سرزمینِ صفین میں واقع ان کا مزارِ اقدس حق، وفاداری، استقامت اور عشقِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ایک لازوال یادگار ہے۔

حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی حیاتِ طیبہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لئے ایک دائمی پیغام ہے۔ آپ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ایمان محض زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ ہر آزمائش میں حق پر ثابت قدم رہنے، ظلم و باطل کے سامنے سر نہ جھکانے اور ولایتِ الٰہی و ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہنے کا نام ہے۔ آپ کی سیرت صبر، استقامت، بصیرت، اخلاص، ایثار اور وفاداری کا ایسا روشن نمونہ ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کو حق کی راہ پر ثابت قدم رہنے کی دعوت دیتا ہے۔

بلاشبہ حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ تاریخِ اسلام کے ان عظیم اور ابدی کرداروں میں شامل ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لئے مشعلِ راہ، حق و صداقت کی دلیل اور وفاداری و استقامت کا روشن مینار بنی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha