تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ہر قتل کے لیے تلوار ہی سبب نہیں بنتی، بلکہ بعض اوقات حق گوئی بھی قتل کا سبب بن جاتی ہے۔ بعض مقتولوں کو نیزے نہیں چھیدتے، بلکہ سچائی کے دشمن انہیں لہولہان کر دیتے ہیں۔ اور بعض خون زمین پر نہیں گرتے، بلکہ تاریخ کے ماتھے پر ایسی سرخ تحریر بن جاتے ہیں جنہیں زمانہ کبھی مٹا نہیں سکتا۔
امام ابو عبدالرحمن احمد بن علی نسائی کا خون بھی ایسی ہی ایک روشن تحریر ہے۔
وہ نہ کوفہ کے باشندے تھے، نہ نجف کے؛ نہ خود کو شیعہ کہتے تھے اور نہ کسی سیاسی جماعت کے علمبردار تھے۔ وہ ایک امانت دار محدث، دیانت شعار محقق اور عاشقِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، جنہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ زبانِ نبوت سے نکلنے والے نورانی موتیوں کو اسی امانت و دیانت کے ساتھ محفوظ رکھیں گے، جس طرح انہیں سنا ہے۔
مگر جب اس نور کا نام علیؑ آیا تو تاریخ نے ان کے امتحان کا آغاز کر دیا۔
وہ جانتے تھے کہ زمانے بدل سکتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں، سلطنتیں مٹ سکتی ہیں، مگر حدیثِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بدل سکتی، اور نہ ہی فضائلِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو کوئی مٹا سکتا ہے۔
جب وہ دمشق پہنچے تو وہاں بنی امیہ کے پروپیگنڈے کے اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ انہوں نے ایسے ماحول کا مشاہدہ کیا جہاں منبروں سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی جاتی تھی اور لوگوں کے دلوں میں اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ایسے نازک وقت میں انہوں نے قلم اٹھایا اور "خصائصِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام" جیسی لازوال تصنیف امت کے سپرد کر دی۔
یہ صرف ایک کتاب نہ تھی، بلکہ ایک زندہ ضمیر کی گواہی تھی؛ یہ صرف احادیث کا مجموعہ نہ تھا، بلکہ عشقِ محمدؐ کی عملی تفسیر تھی۔ جو دل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے سرشار ہو، وہ مولا علیؑ کے فضائل کو کیسے چھپا سکتا ہے؟
کتاب کی تصنیف کے بعد امام نسائی نے اس میں مذکور احادیث لوگوں کے سامنے بیان کیں اور فضائلِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو عام کیا، تاکہ برسوں سے پھیلائے گئے تعصبات کا ازالہ ہو سکے۔ اسی دوران ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے کے بجائے ایسے لوگوں کے فضائل بیان کریں جن کا راہ فضیلت و عظمت میں کوئی وجود نہ تھا۔
لیکن امام نسائی نے اپنے قلم کو مصلحت کا غلام بنانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے علمی دیانت کو اپنی جان کی سلامتی پر ترجیح دی اور حق کو چھپانے کے بجائے اس پر اپنے خون کی مہر ثبت کر دی۔
پھر ان پر تشدد کیا گیا، انہیں لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا، ظلم و تعصب کے وار کئے گئے، مگر ان کے دل میں روشن چراغِ محبت کو کوئی بجھا نہ سکا۔
کتنا عجیب منظر ہے! جسم زخمی ہو سکتا ہے، مگر محبت کا اقرار زخمی نہیں ہوتا؛ ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں، مگر محبتِ علیؑ نہیں ٹوٹتی؛ خون بہہ سکتا ہے، مگر فضائلِ علیؑ کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔
یہی محبت کا راز ہے۔ محبت صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ نور ہے، اور نور کی فطرت یہ ہے کہ نہ اسے قید کیا جا سکتا ہے، نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ بجھایا جا سکتا ہے۔
آج سوال امام نسائی سے نہیں، ہم سے ہے۔
اگر ایک ایسے عظیم محدث، جو اہلِ سنت کے امام تھے اور جن کی سننِ نسائی صحاحِ ستہ میں شامل ہے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل کی حفاظت کے لئے ظلم سہہ سکتے ہیں، تو ہم، جو خود کو شیعۂ علیؑ کہتے ہیں، کیا صرف انتساب پر اکتفا کر سکتے ہیں؟
ہرگز نہیں۔
تشیع صرف محبت کا دعویٰ نہیں، بلکہ محبت کی امانت ہے۔
ولایت صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ روح کی معراج ہے۔
علیؑ سے محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ اپنے نفس کو عدلِ علیؑ، تقوائے علیؑ، عبادتِ علیؑ، حلمِ علیؑ اور شجاعتِ علیؑ کے سانچے میں ڈھال دینے کا نام ہے۔
اگر ہمارے دلوں میں علیؑ بستے ہیں تو ہمارے ہاتھ ظلم کے آلۂ کار نہیں بن سکتے۔
اگر ہماری زبان پر علیؑ کا نام ہے تو اس زبان سے جھوٹ، غیبت، بہتان، نفرت اور تفرقہ نہیں نکلنا چاہیے۔
اگر ہمارے سجدوں میں محبتِ علیؑ کی حرارت ہے تو ہماری تجارت، ہماری سیاست، ہماری عدالت، ہماری معاشرت، بلکہ ہماری پوری زندگی بھی علیؑ کے میزانِ عدل پر استوار ہونی چاہیے۔
امام نسائی نے اپنے خون سے گویا یہ پیغام رقم کر دیا کہ: "عشق کا چراغ دلیل سے روشن ہوتا ہے، مودّت سے فروزاں رہتا ہے، اور قربانی اسے ابدی حیات عطا کرتی ہے۔"
آئیے! ہم بھی اپنے دلوں کو "خصائصِ علیؑ" کا آئینہ بنا دیں؛ ایسی زندہ کتاب، جس کا ہر ورق اخلاقِ علیؑ ہو، ہر سطر عدلِ علیؑ ہو، ہر حرف تقویٰ ہو، ہر باب معرفت ہو، ہر صفحہ خدمتِ خلق سے مزین ہو، اور جس کی ہر سطر محبتِ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی خوشبو سے معطر ہو۔
تبھی ہم ولایت کا حق ادا کر سکیں گے، کیونکہ ولایت کا سب سے بڑا ثبوت زبان نہیں، کردار ہے؛ دعویٰ نہیں، وفاداری ہے؛ اور نسبت نہیں، سیرت ہے۔
جس دن ہماری زندگیاں سیرتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا آئینہ بن جائیں گی، اسی دن دنیا جان لے گی کہ امام نسائی نے جس علیؑ کے فضائل کی خاطر ظلم برداشت کیا تھا، وہ علیؑ آج بھی اپنے ماننے والوں کے عدل، عبادت، علم، حلم، خدمتِ خلق اور خدا شناسی میں زندہ ہیں۔
سلام ہو اُن ناشرانِ فضائلِ امیرالمؤمنین علیہ السلام پر، جنہوں نے اپنے قلم سے ولایت کی گواہی لکھی، اپنے خون سے اس گواہی پر مہرِ صداقت ثبت کی، اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے گئے کہ سچا محب اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے، مگر امانتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کبھی خیانت نہیں کر سکتا۔









آپ کا تبصرہ