تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| کریم اہل بیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام معاہدۂ صلح کے بعد کوفہ سے اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر، مدینہ منورہ، تشریف لے آئے۔ آپؑ نے تقریباً دس برس تک روضۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسجد نبویؐ کے جوار میں قیام فرمایا اور اس عرصے میں علمی، دینی، فکری اور سماجی میدانوں میں نہایت اہم خدمات انجام دیں۔
آپؑ نے پوری جدوجہد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت و سنت کو زندہ رکھا، اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت فرمائی، قرآن و سنت کی صحیح تفسیر لوگوں کے سامنے پیش کی اور امتِ مسلمہ کو بالخصوص حاکم شام اور حکومتِ بنی امیہ کی گمراہ کن پالیسیوں، دینی تحریفات اور سیاسی سازشوں سے مسلسل آگاہ کرتے رہے۔
اگرچہ معاہدۂ صلح کے بعد آپؑ نے ظاہری طور پر مسلح جدوجہد ترک کر دی تھی، لیکن حق کی تبلیغ، اصلاحِ امت اور دینِ اسلام کی حفاظت کا عظیم فریضہ پوری قوت اور حکمت کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ آپؑ کی علمی عظمت، اخلاقِ کریمانہ، حلم و بردباری، سخاوت اور بے مثال شخصیت روز بروز لوگوں کے دلوں میں مزید راسخ ہوتی چلی گئی۔
دوسری جانب حاکم شام اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شخصیت اہلِ بیتِ رسولؑ کی حقیقی نمائندہ اور امتِ مسلمہ کے لئے مرکزِ ہدایت ہے۔ اسی لئے اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ امامؑ کی دینی، سماجی اور سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جائے اور لوگوں کے دلوں سے آپؑ کی محبت، عظمت اور اثر و رسوخ کو ختم کر دیا جائے۔
اس مقصد کے لئے اس نے پروپیگنڈے، مالی دباؤ، سیاسی سازشوں، دھونس، دھمکی اور مختلف حربوں سے کام لیا، مگر اس کی ہر تدبیر ناکام ثابت ہوئی۔ جوں جوں وہ ظلم و ستم اور فریب و مکر کا سہارا لیتا گیا، توں توں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی محبوبیت میں اضافہ ہوتا گیا، اور حق کے متلاشی، اہلِ بیت علیہم السلام کے محبان اور حقیقت پسند افراد بڑی تعداد میں آپؑ کے گرد جمع ہوتے گئے۔
حاکم شام نے جب دیکھا کہ امام حسن علیہ السّلام کی موجودگی میں اپنے سیاسی عزائم، خصوصاً یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا، تو اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ امامؑ کو جسمانی طور پر راستے سے ہٹا دیا جائے، تاکہ اہلِ بیت علیہم السلام کی قیادت کمزور ہو جائے، مؤمنین کے حوصلے پست ہوں اور اس کی موروثی حکومت کے قیام کی راہ میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ ختم ہو جائے۔
متعدد تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم شام نے مختلف اوقات میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دلوانے کی کوشش کی، لیکن ہر مرتبہ وہ اپنے مقصد میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکا۔
حاکم نیشاپوری نے ایک معتبر سند کے ساتھ اُمِّ بکر بنتِ مسور سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: "امام حسن بن علی علیہما السلام کو کئی مرتبہ زہر دیا گیا، مگر ہر بار اس کا اثر مکمل طور پر ظاہر نہ ہو سکا۔ آخرکار ایک مرتبہ ایسا مہلک زہر دیا گیا کہ آپؑ کا جگر پارہ پارہ ہو گیا۔ اس کے بعد آپؑ صرف تین دن زندہ رہے اور پھر جامِ شہادت نوش فرمایا۔"
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: "جب معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو اس نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دلوانے کی سازش کی، کیونکہ وہ اپنی حکومت کو موروثی بنانے اور یزید کی ولی عہدی کی راہ میں امام حسن بن علی علیہما السلام سے بڑھ کر کسی کو رکاوٹ نہیں سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے منصوبہ بندی کی، امامؑ کو زہر دلوایا اور آپؑ کی شہادت کا سبب بنا۔"
اس سازش میں مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے اہم کردار ادا کیا۔ جب معاویہ نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا قطعی فیصلہ کر لیا تو اس نے ایک خفیہ خط کے ذریعہ مروان کو حکم دیا کہ اس منصوبہ کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے۔
معاویہ نے مروان کو ہدایت کی کہ وہ امام حسن علیہ السّلام کی زوجہ جعدہ بنتِ اشعث سے رابطہ کرے، کیونکہ اس کے خیال میں وہ اس منصوبہ میں تعاون کر سکتی تھی۔
اس مقصد کے لئے جعدہ سے وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دے کر قتل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اسے یزید کے نکاح میں دے دیا جائے گا، نیز ایک لاکھ درہم بطور انعام بھی دیے جائیں گے۔
شعبی روایت کرتے ہیں کہ جعدہ نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دے دیا۔ اس کے بعد معاویہ نے وعدے کے مطابق اسے ایک لاکھ درہم تو بھجوا دیے، لیکن یزید سے اس کی شادی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
اس نے اپنے پیغام میں لکھا: "مجھے اپنے بیٹے یزید کی زندگی عزیز ہے، اس لئے میں ہرگز اسے تمہارے نکاح میں نہیں دوں گا۔"
یوں جعدہ نے دنیا کی لالچ میں ایک ناقابلِ معافی جرم کا ارتکاب کیا، مگر جس شخص کے وعدوں پر اس نے اعتماد کیا تھا، اسی نے اسے دھوکا دے کر تنہا چھوڑ دیا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "جعدہ لعنۃ اللہ علیہا زہر لے آئی۔ ان دنوں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام روزے سے تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا۔ افطار کے وقت آپؑ نے دودھ نوش فرمانا چاہا تو اس ملعونہ نے اسی دودھ میں زہر ملا دیا۔"
امامؑ نے جونہی وہ دودھ نوش فرمایا، چند لمحوں بعد فرمایا: "اے دشمنِ خدا! تو نے مجھے قتل کر دیا۔ اللہ تجھے ہلاک کرے۔ خدا کی قسم! میرے بعد بھی تجھے اس جرم سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ انہوں نے تجھے دھوکا دیا ہے اور اپنے مقاصد کے لئے تجھے استعمال کیا ہے۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے بھی رسوا کرے گا اور معاویہ کو بھی ذلیل و خوار کرے گا۔"
امام جعفر صادق علیہ السلام نے مزید فرمایا: "جعدہ کے زہر دینے کے بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام صرف دو دن زندہ رہے، پھر آپؑ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، اور معاویہ نے اپنے کئے ہوئے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔"
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کے واقعہ کے بارے میں بعض مورخین، خصوصاً ابن خلدون اور مستشرق لامنس نے یہ کوشش کی ہے کہ معاویہ کو اس جرم سے بری الذمہ ثابت کیا جائے اور اس پر لگائے جانے والے الزام کو بے بنیاد قرار دیا جائے۔
ابن خلدون لکھتے ہیں: وَمَا "يُنْقَلُ مِنْ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَسَّ إِلَيْهِ السَّمَّ مِنْ زَوْجَةِ جَعْدَةَ بِنْتِ الْأَشْعَثِ، فَهُوَ مِنْ أَحَادِيثِ الشِّيعَةِ، وَحَاشَا لِمُعَاوِيَةَ مِنْ ذَلِكَ."
"یہ جو نقل کیا جاتا ہے کہ معاویہ نے جعدہ بنتِ اشعث کے ذریعہ امام حسن بن علی علیہما السلام کو زہر دلوایا، یہ شیعہ روایات میں سے ہے، اور معاویہ کو ایسے عمل سے منزہ سمجھا جانا چاہیے۔"
اسی طرح مستشرق لامنس لکھتا ہے: "وَكَانَ الْغَرَضُ مِنْ هٰذَا الِاتِّهَامِ وَصْمَ الْأُمَوِيِّينَ... وَلَمْ يَجْرُؤْ عَلَى هٰذَا الْقَوْلِ غَيْرُ الْمُؤَلِّفِينَ مِنَ الشِّيعَةِ."
"امام حسن علیہ السّلام کو زہر دیے جانے کا الزام معاویہ پر عائد کرنے کا مقصد بنو امیہ کی حکومت کو بدنام کرنا تھا، اور شیعہ مؤلفین کے علاوہ کسی نے اس سنگین الزام کو بیان کرنے کی جرأت نہیں کی۔"
تاہم یہ دعویٰ تاریخی حقائق سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ متعدد قدیم مؤرخین، محدثین اور سوانح نگاروں نے اس واقعہ کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔
مورخین کی گواہیاں
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کرنے کی سازش اس قدر مشہور اور متعدد تاریخی مصادر میں مذکور ہے کہ بہت سے مسلم مؤرخین اور اہلِ علم نے اسے اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ بعض جزئیات میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن اصل واقعۂ شہادت کو متعدد معتبر تاریخی مآخذ نے نقل کیا ہے۔
ان مؤرخین میں خصوصاً درج ذیل شخصیات قابلِ ذکر ہیں: ابن حجر عسقلانی، ابوالحسن علی بن حسین مسعودی، ابوالفرج اصفہانی، شیخ مفید، احمد بن یحییٰ بلاذری، ابن عبدالبر، محمد بن علی ابن شہرآشوب، ابن صباغ مالکی، سبط ابن جوزی، جلال الدین سیوطی، حاکم نیشاپوری، احمد بن اعثم کوفی، جمال الدین یوسف المِزّی
ان تمام مصادر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ اسلامی تاریخ میں معروف اور قابلِ ذکر واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
طبری کی روایت
اختصار کے پیشِ نظر امام محمد بن جریر طبری کی روایت ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں: "امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وفات کا سبب یہ تھا کہ معاویہ نے متعدد مرتبہ آپؑ کو زہر دلوانے کی کوشش کی، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ آخرکار اس نے جعدہ بنتِ محمد بن اشعث بن قیس کندی کے پاس نہایت مہلک زہر بھیجا، اس کے ساتھ بیس ہزار دینار روانہ کئے، کوفہ کے دس باغ اس کے نام کرنے کا وعدہ کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس منصوبے کو کامیاب بنا دے گی تو اس کا نکاح اپنے بیٹے یزید سے کر دے گا۔ چنانچہ جعدہ نے مناسب موقع پر وہ زہر امام حسن بن علی علیہما السلام کو پلا دیا، جس کے نتیجے میں آپؑ شہید ہو گئے۔"
علامہ باقر شریف قرشی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق
عظیم محقق اور مؤرخ علامہ باقر شریف قرشی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "جعدہ بنتِ اشعث بن قیس ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی تھی جو دنیا پرستی، موقع پرستی اور اقتدار کی خواہش کے لئے مشہور تھا۔ اس کے دل میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے خلاف کینہ موجود تھا۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے امامؑ سے اولاد نصیب نہ ہوئی تھی۔"
علامہ قرشیؒ مزید لکھتے ہیں: "جب مروان کی طرف سے زہر پہنچایا گیا، مال و دولت کی لالچ دی گئی اور بڑے بڑے وعدے کئے گئے تو جعدہ اس سنگین جرم کے ارتکاب پر آمادہ ہو گئی۔"
وہ مزید تحریر کرتے ہیں: "ایک نہایت گرم دن، جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام روزے سے تھے، جعدہ نے افطار کے وقت دودھ کے ایک پیالے میں زہر ملا کر آپؑ کی خدمت میں پیش کیا۔ زہر نے فوراً اپنا اثر دکھایا اور آپؑ کے اندرونی اعضا شدید طور پر متاثر ہوئے۔ امامؑ شدتِ تکلیف میں بار بار یہ آیت تلاوت فرماتے رہے: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے آخری ایام کے بارے میں جنادہ بن اُمیہ روایت کرتے ہیں: "میں عیادت کے لئے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپؑ کی حالت نہایت نازک تھی۔ شدتِ زہر کے باعث آپؑ کے سامنے ایک طشت رکھا ہوا تھا، جس میں وقفے وقفے سے آپؑ کے دہنِ مبارک سے خون کے لوتھڑے گرتے تھے۔ یہ دل خراش منظر دیکھ کر میں شدید غم اور اضطراب میں مبتلا ہو گیا۔"
یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ زہر انتہائی مہلک تھا اور اس نے امامؑ کے جسمِ اطہر پر نہایت شدید اثرات مرتب کئے تھے۔
مسلمان مؤرخین اور محققین کے نزدیک مشہور قول یہ ہے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو معاویہ بن ابی سفیان کی سازش کے تحت جعدہ بنتِ اشعث کے ذریعہ زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آپؑ نے 28 صفر 50 ہجری، بروز جمعرات، اڑتالیس برس کی عمر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اس قول کی تائید پانچویں صدی ہجری کے ممتاز عالم شیخ مفیدؒ (متوفیٰ 413ھ)، چھٹی صدی ہجری کے جلیل القدر مفسر شیخ طبرسیؒ (متوفیٰ 548ھ) اور آٹھویں صدی ہجری کے نامور فقیہ علامہ حلیؒ (متوفیٰ 726ھ) نے بھی اپنی تصانیف میں کی ہے۔
البتہ شیخ طبرسی رحمۃ اللہ علیہ نے طبرانی سے ایک مختلف روایت بھی نقل کی ہے، جس کے مطابق امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ربیع الاول 49 ہجری میں زہر دیے جانے کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
اسی طرح بعض مؤرخین نے ایک تیسرا قول بھی نقل کیا ہے کہ آپؑ کی شہادت 7 صفر 50 ہجری، بروز جمعرات کو ہوئی۔
علامہ محمد باقر مجلسیؒ نے اس قول کی نسبت شیخ ابراہیم کفعمیؒ، مصنف المصباح اور البلد الأمین، کی طرف دی ہے۔
واضح رہے کہ نجف اشرف اور قم مقدسہ میں زمانہ قدیم سے مراجع کرام، آیات عظام اور علمائے اعلام کی نگرانی میں 7 صفر کو امام حسن مجتبی علیہ السلام کا یوم شہادت منایا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے عزاداری کی جاتی ہے بلکہ بیوت مراجع کرام میں بھی مجالس عزا اور عزاداری منعقد ہوتی ہے۔
یزید پلید کی ولی عہدی کی راہ ہموار
ابن قتیبہ دینوری لکھتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کے لئے اہلِ شام سے بیعت لینا شروع کر دی۔ اس مقصد کے لئے اس نے اسلامی سلطنت کے مختلف علاقوں کے گورنروں اور حکام کو باقاعدہ احکامات جاری کئے کہ وہ یزید کی ولی عہدی کے حق میں عوام سے بیعت حاصل کریں۔
اس طرح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ نے اپنے دیرینہ سیاسی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی، جس کا مقصد خلافت کو موروثی بادشاہت میں تبدیل کرنا تھا۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وصیتیں
شیخ طوسیؒ نے جناب عبداللہ بن عباس سے روایت نقل کی کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی کے آخری لمحات میں امام حسین علیہ السلام اپنے برادرِ بزرگوار کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ اس وقت اہلِ بیت علیہم السلام کے چند افراد اور بعض اصحاب بھی آپؑ کے بسترِ علالت کے پاس موجود تھے۔
امام حسین علیہ السلام نے دریافت فرمایا: "جان برادر! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟"
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: "آج میری دنیاوی زندگی کا آخری دن اور آخرت کی زندگی کا پہلا دن ہے۔ اگرچہ آپ سے اور اپنے دیگر عزیزوں سے جدائی کا غم ضرور ہے، لیکن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہوں، کیونکہ اب میں اپنے محبوب نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، اپنی والدۂ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اپنے چچا جعفرِ طیار علیہ السلام اور حضرت حمزہ علیہ السلام سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں۔"
اس کے بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اسمِ اعظم اور وہ تمام امانتیں، جو انبیائے الٰہیؑ کی میراث کے طور پر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ آپؑ تک پہنچی تھیں، امام حسین علیہ السلام کے سپرد فرمائیں، پھر ارشاد فرمایا: "لکھو!"
اس کے بعد آپؑ نے اپنی وصیت ان الفاظ میں بیان فرمائی: "یہ وہ وصیت ہے جو حسن بن علی (علیہما السلام) اپنے بھائی حسین بن علی (علیہما السلام) کے لئے کرتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی عبادت کا حقیقی مستحق ہے، اس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی وہ کسی کا محتاج ہے۔ اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور ہر مخلوق کو حکمت اور تقدیر کے مطابق وجود بخشا۔ وہی سب سے زیادہ عبادت، حمد و ثنا اور اطاعت کا مستحق ہے۔ جو اس کی اطاعت کرے گا، وہ ہدایت پائے گا، جو اس کی نافرمانی کرے گا، وہ گمراہ ہو جائے گا، اور جو اس کی بارگاہ میں توبہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
اے حسینؑ! میں تمہیں اپنے اہل و عیال، اپنی اولاد اور اپنے تمام اہلِ بیت کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان میں سے جو لغزش کرے، اسے معاف کرنا، جو نیکی کرے، اس کی قدر کرنا، اور میرے بعد ان سب کے لئے ایک شفیق سرپرست اور مہربان باپ بن کر رہنا۔
مجھے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوار میں دفن کرنا، کیونکہ آپؐ کے پہلو میں دفن ہونے کا سب سے زیادہ حق میرا ہے۔ لیکن اگر وہ تمہیں اس سے روکیں تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی قرابت اور ہمارے باہمی رشتے کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری خاطر ایک قطرہ خون بھی نہ بہانا، یہاں تک کہ ہم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان لوگوں کی شکایت کریں جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔"
ایک دوسری روایت میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وصیت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے: "بھائی حسینؑ! جب میں دنیا سے کوچ کر جاؤں تو مجھے غسل دینا، حنوط کرنا، کفن پہنانا، پھر میرے جنازے کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی طرف لے جانا، تاکہ آپؐ سے تجدیدِ عہد کی جا سکے۔ اگر وہ میرے نانا کے جوار میں تدفین کی اجازت دیں تو بہتر، اور اگر وہ تمہیں روکیں تو میں تمہیں اپنے نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے والد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی سے جنگ نہ کرنا، میری خاطر ہرگز خونریزی نہ ہونے دینا، بلکہ فوراً میرے جنازے کو جنت البقیع لے جانا اور مجھے میری جدہ (دادی) حضرت فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا کے مزار کے قریب سپردِ خاک کر دینا۔"
جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے جامِ شہادت نوش فرمایا تو حضرت عباس بن علی علیہما السلام، عبدالرحمن بن جعفرؑ اور محمد بن عبداللہ بن عباس، امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مراسمِ تدفین میں آپؑ کی معاونت کی۔
امام حسین علیہ السلام نے ان حضرات کے تعاون سے اپنے برادرِ بزرگوار کے جسدِ اطہر کو غسل دیا، حنوط کیا، کفن پہنایا اور پھر جنازۂ مبارک کو مسجد نبویؐ کے قریب واقع اس مصلیٰ میں لے جایا گیا جو "بلاطہ" کے نام سے معروف تھا۔ وہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے بعد، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق، جنازۂ مبارک کو روضۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جایا گیا تاکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آخری تجدیدِ عہد اور وداع کی جا سکے۔
روضۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تدفین سے ممانعت
جب جنازۂ مبارک روضۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچا تو مدینہ کے گورنر مروان بن حکم اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھا اور نہایت سخت لہجے میں کہا: "کیا تم حسن بن علی (علیہما السلام) کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن کرنا چاہتے ہو؟"
اسی دوران عائشہ بھی ایک خچر پر سوار ہو کر وہاں پہنچیں اور کہا: "جسے میں پسند نہیں کرتی، اسے اپنے گھر میں دفن نہیں ہونے دوں گی۔"
اس پر مروان نے کہا: "کیا یہ مناسب ہے کہ عثمان مدینہ کے دور افتادہ قبرستان میں دفن ہو اور حسن بن علیؑ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوار میں دفن کئے جائیں؟ خدا کی قسم! جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے، ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔"
امام حسین علیہ السلام کا صبر و حکمت
بنی امیہ کے بعض افراد اور دیگر شرپسند عناصر اس موقع پر خونریزی اور فساد برپا کرنے کے لئے آمادہ کھڑے تھے، لیکن امام حسین علیہ السلام نے انتہائی بصیرت، صبر اور بردباری کا مظاہرہ فرمایا۔
آپؑ نے اپنے بھائی کی وصیت کو مقدم رکھا اور بنی ہاشم کو صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہوئے جنازۂ مبارک کو جنت البقیع کی طرف لے گئے، تاکہ مسلمانوں کے درمیان خونریزی نہ ہو۔
بعد ازاں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو حضرت فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا کے مزارِ اقدس کے قریب سپردِ خاک کر دیا گیا۔
امام حسین علیہ السلام کا مروان کو جواب
اس موقع پر امام حسین علیہ السلام نے مروان بن حکم سے فرمایا: "اگر میرے بھائی نے وصیت کی ہوتی کہ انہیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوار میں دفن کیا جائے، تو تم اچھی طرح جان لیتے کہ تم میں اتنی طاقت نہیں کہ ہمیں اس سے روک سکو۔ لیکن میرے بھائی نے خود خونریزی سے بچنے کی وصیت فرمائی تھی، اسی لئے ہم ان کی وصیت پر عمل کر رہے ہیں۔"
جنازۂ مبارک پر تیروں کی بارش
ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے جنازۂ مبارک کو جنت البقیع کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو بنی امیہ کے حامیوں نے جنازے پر تیروں کی بارش کر دی۔
روایت کے مطابق تدفین کے وقت امامؑ کے کفن اور جسدِ مبارک سے تقریباً ستر تیر نکالے گئے، جو اس واقعہ کی سنگینی اور اہلِ بیت علیہم السلام سے دشمنی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
جناب عبداللہ بن عباس کا تاریخی خطاب
اس موقع پر جناب عبداللہ بن عباس نے عائشہ سے فرمایا: "افسوس! ایک دن تم اونٹ پر سوار ہوئیں اور آج خچر پر سوار ہو۔ کیا تم اللہ کے نور کو بجھانا اور اولیائے الٰہی سے جنگ کرنا چاہتی ہو؟ واپس لوٹ جاؤ، تم اپنے مقصد تک پہنچ چکی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اہلِ بیت علیہم السلام کی نصرت ضرور فرمائے گا، اگرچہ کچھ وقت گزر جائے۔"
بعض روایات میں جناب عبداللہ بن عباس کا یہ جملہ بھی نقل ہوا ہے: "ایک دن تم اونٹ پر سوار ہوئیں، آج خچر پر سوار ہو، اور اگر زندہ رہیں تو ایک دن ہاتھی پر بھی سوار ہو جاؤ گی۔"
زیارتِ جامعہ میں اشارہ
زیاراتِ جامعہ کے بعض فقروں میں امام جعفر صادق علیہ السلام ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "«یا موالی... انتم بین صریع فی المحراب قد فلق السیف هامته و شهید فوق الجنازة قد شکت بالسهام اکفانه"
"آپ میں سے بعض وہ ہیں جنہیں محرابِ عبادت میں شہید کیا گیا، بعض وہ ہیں جن کے سر مبارک تلوار سے شگافتہ کئے گئے، اور بعض وہ ہیں جن کے جنازوں پر تیر برسائے گئے، یہاں تک کہ ان کے کفن تیروں سے چھلنی ہو گئے۔"
محدثین کے مطابق اس فقرے میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی شہادت، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے جنازۂ مبارک پر تیروں کی بارش، اور بعد کے ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے گئے مظالم کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
شہادتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے اثرات
امام حسن مجتبیٰؑ کی مظلومانہ شہادت نے اسلامی معاشرے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے۔ اس المناک سانحے نے نہ صرف اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے محبان کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا بلکہ معاویہ کی سیاسی پالیسیوں اور اس کے حقیقی عزائم کو بھی بہت سے لوگوں کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ اس شہادت نے امتِ مسلمہ کو یہ احساس دلایا کہ اقتدار کے حصول کی خاطر بنو امیہ کس حد تک جا سکتے تھے۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمرو بن نُجعہ نے کہا: "حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت وہ پہلی خاکِ ذلت تھی جو عرب کے سروں پر ڈالی گئی اور جس نے انہیں رسوائی و بدبختی سے دوچار کر دیا۔"
الف) عوام کا ردِّعمل
امام محمد باقر علیہ السلام اس المناک سانحے کے اثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جب امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی تو لوگ زار و قطار رونے لگے، مدینہ غم و اندوہ میں ڈوب گیا، ہر طرف عزاداری برپا ہوئی اور بازار بند ہو گئے۔"
یہ واقعہ اس بات کی واضح علامت تھا کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام امتِ مسلمہ کے دلوں میں کس قدر محبوب اور محترم مقام رکھتے تھے۔
ب) جنازۂ مبارک میں عوام کی غیر معمولی شرکت
جہم بن ابی جہم روایت کرتے ہیں: "جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو تمام بنی ہاشم جمع ہوئے اور مدینہ کے اطراف میں آباد انصار کی بستیوں اور محلّات میں جا کر نہایت رنج و غم کے ساتھ اس المناک خبر کا اعلان کیا۔"
جونہی لوگوں کو امامؑ کی شہادت کی اطلاع ملی، مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے سب جنازۂ مبارک میں شرکت کے لئے مدینہ پہنچ گئے۔
راوی بیان کرتا ہے کہ لوگوں کا ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ جنت البقیع میں اگر سوئی بھی زمین پر گرائی جاتی تو ہجوم کی کثرت کی وجہ سے زمین تک نہ پہنچ پاتی۔
ج) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عام سوگ
ابن ابی نجیح لکھتے ہیں: "مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایک ہفتہ تک عام سوگ منایا گیا۔ عورتیں، مرد اور یہاں تک کہ ننھے بچے بھی امام حسن علیہ السّلام کی جدائی میں اشک بہاتے رہے۔"
یہ عزاداری اس محبت، عقیدت اور احترام کا مظہر تھی جو اہلِ حجاز کے دلوں میں فرزندِ رسولؐ کے لئے موجود تھا۔
د) اہلِ بصرہ کا ردِّعمل
ابوالحسن مدائنی لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن سلمہ، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر لے کر زیاد بن ابیہ کے پاس بصرہ پہنچے۔ جیسے ہی یہ خبر شہر میں پھیلی، ہر طرف گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہو گئیں۔
زیاد کا بھائی ابوبکرہ بیمار تھا۔ اس نے لوگوں کے رونے کی آواز سن کر اپنی اہلیہ میسہ بنت شحام سے پوچھا: "یہ گریہ و زاری کیوں ہو رہی ہے؟"
اس نے بے پروائی سے جواب دیا: "حسن بن علی (علیہما السلام) دنیا سے گزر گئے، اب لوگ اُن سے راحت پا گئے ہیں!"
یہ سن کر ابوبکرہ سخت ناراض ہوا اور بولا: "خاموش رہو! تم پر افسوس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حسن بن علی (علیہما السلام) کو بہت سے شریروں کے شر سے نجات عطا فرمائی، لیکن لوگوں نے ان کی جدائی سے ایک عظیم خیر اور نعمت کھو دی ہے۔ اللہ تعالیٰ حسن بن علی (علیہما السلام) پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔"
ہ) معاویہ کی خوشی اور اس کی اہلیہ کا احتجاج
ابن قتیبہ لکھتے ہیں: "جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے اور اس کے بعض ساتھیوں نے سجدۂ شکر ادا کیا اور تکبیر کے نعرے بلند کئے۔"
لیکن معاویہ کی اہلیہ فاختہ اس طرزِ عمل پر سخت رنجیدہ ہوئیں۔ انہوں نے معاویہ کو اس کی اس خوشی پر ملامت کی اور بلند آواز سے پڑھا: "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر خود معاویہ کے گھر میں بھی اس کے طرزِ عمل کو پسند نہیں کیا گیا۔
و) جناب عبداللہ بن عباسؓ اور معاویہ کا مکالمہ
روایت کے مطابق اس زمانے میں عبداللہ بن عباس شام میں مقیم تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ معاویہ، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے تو وہ اس کے یہاں پہنچے۔
معاویہ نے کہا: "حسن بن علی گزر گئے اور ختم ہو گئے!"
جناب عبداللہ بن عباس نے فرمایا: "ہاں، وہ دنیا سے کوچ کر گئے۔"
پھر کئی مرتبہ "إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھا اور فرمایا: "اے معاویہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے امام حسن علیہ السّلام کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ خدا کی قسم! حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت سے نہ تمہاری قبر بھر سکتی ہے اور نہ ہی ان کی مختصر مگر بابرکت عمر تمہاری عمر میں اضافہ کر سکتی ہے۔ وہ تم سے کہیں زیادہ افضل اور باعظمت تھے۔ اگر آج ہم ان کی جدائی پر غم زدہ ہیں تو اس سے پہلے ہم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت جیسے عظیم سانحے سے بھی گزر چکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہترین جانشین عطا فرما کر اس مصیبت کی تلافی فرمائی۔"
یہ الفاظ ادا کرتے ہی حضرت عبداللہ بن عباس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ان کا گریہ اس قدر رقت انگیز تھا کہ وہاں موجود ہر شخص اشک بار ہو گیا، حتیٰ کہ معاویہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
راوی بیان کرتا ہے: "میں نے اس دن سے زیادہ رقت آمیز مجلس کبھی نہیں دیکھی، جہاں حاضرین اس قدر متاثر ہو کر رو پڑے ہوں۔"
ز) بنی ہاشم کی خواتین کی عزاداری
حاکم نیشاپوری اپنی کتاب المستدرک میں لکھتے ہیں: "جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو بنی ہاشم کی خواتین نے ایک ماہ تک آپؑ کے غم میں مسلسل عزاداری کی اور نوحہ خوانی کرتی رہیں۔"
اسی طرح عبیدہ بنت نائل، عائشہ بنت سعد سے روایت کرتی ہیں: "بنی ہاشم کی خواتین نے حضرت امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت پر پورے ایک سال تک سوگ منایا اور عزاداری جاری رکھی۔"
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور فیصلہ کن باب ہے۔ آپؑ نے صبر، حلم، بصیرت اور حکمت کے ذریعہ دینِ اسلام کی حفاظت کی، جبکہ اپنی شہادت کے ذریعہ ظلم و باطل کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کر دیا۔
آپؑ کی حیاتِ مبارکہ، صلح، صبر، استقامت، وصیت، شہادت اور مظلومانہ تدفین آنے والی نسلوں کے لئے حق و باطل کی پہچان، اخلاقی استقامت اور دینی بصیرت کا ابدی درس ہیں۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت رکھنے والے آج بھی آپؑ کی سیرتِ طیبہ سے صبر، تقویٰ، حلم اور دین کی سربلندی کے لئے ہر قربانی پیش کرنے کا سبق حاصل کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ