حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بعض معتبر شیعہ اور اہلِ سنت مصادر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کو زہر دیے جانے اور شہادت سے جوڑا گیا ہے۔ شیخ طوسی، شیخ مفید، شیخ صدوق اور علامہ مجلسی سمیت متعدد شیعہ علماء نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مسموم ہونے یا شہادت کے بارے میں روایات اور اقوال نقل کیے ہیں، جبکہ اہلِ سنت کے عالم بیہقی نے بھی عبداللہ بن مسعودؓ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہید کیے جانے کے حوالے سے ایک قول نقل کیا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی کیفیت اور آپؐ کی شہادت کا موضوع شیعہ مصادر کے ساتھ بعض اہلِ سنت مصادر میں بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد علماء نے مختلف روایات اور اقوال نقل کیے ہیں۔
شیخ طوسی
شیخ طوسی نے اپنی کتاب تہذیب الاحکام میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بارے میں لکھا ہے:
«قُبِضَ بِالْمَدِینَةِ مَسْمُوماً یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ لِلَیْلَتَیْنِ بَقِیَتَا مِنْ صَفَرٍ سَنَةَ عَشَرَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ»
یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں ہجری میں ماہِ صفر کی دو راتیں باقی رہنے پر پیر کے روز مدینہ منورہ میں مسموم حالت میں وفات پا گئے
شیخ مفید
شیخ مفید بھی المقنعہ میں لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں ہجری میں ماہِ صفر کی دو راتیں باقی رہنے پر پیر کے دن مدینہ منورہ میں مسموم حالت میں رحلت فرما گئے اور اس وقت آپؐ کی عمر ۶۳ سال تھی۔
علامہ مجلسی
علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی شہادت کے حوالے سے شیعہ علماء کے ایک قول کو نقل کرتے ہوئے امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ فرمان ذکر کیا ہے:
«وَاللّٰهِ مَا مِنَّا إِلَّا مَقْتُولٌ شَهِیدٌ»
یعنی: خدا کی قسم! ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر یہ کہ قتل ہو کر شہید ہوا ہے۔
علامہ مجلسی کے نقل کردہ قول کے مطابق بہت سے شیعہ علماء کا عقیدہ تھا کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے شہادت کے ذریعے دنیا سے رحلت فرمائی۔
شیخ صدوق
شیخ صدوق نے الاعتقادات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں لکھا ہے:
«وَاعْتِقَادُنَا فِی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُمَّ فِی غَزْوَةِ خَیْبَرَ، فَمَا زَالَتْ هَذِهِ الْأَکْلَةُ تُعَاوِدُهُ حَتَّی قَطَعَتْ أَبْهَرَهُ فَمَاتَ مِنْهَا.»
یعنی ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگِ خیبر میں زہر دیے گئے تھے۔ اس زہر کا اثر مسلسل باقی رہا، یہاں تک کہ اس نے آپؐ کی رگِ قلب کو متاثر کیا اور اسی کے نتیجے میں آپؐ کی وفات ہوئی۔
اہلِ سنت کے عالم بیہقی کا قول
اہلِ سنت کے معروف عالم بیہقی نے عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک قول نقل کیا ہے:
«لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ یُقْتَلْ، وَذَلِکَ أَنَّ اللّٰهَ اتَّخَذَهُ نَبِیًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِیدًا.»
یعنی: میرے لیے یہ بات زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں نو مرتبہ قسم کھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید کیے گئے، بہ نسبت اس کے کہ ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ آپؐ شہید نہیں ہوئے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنایا اور شہادت کا شرف بھی عطا فرمایا۔
اس طرح مذکورہ شیعہ اور بعض اہلِ سنت مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے ساتھ زہر اور شہادت کا مسئلہ اسلامی تاریخی مصادر میں زیرِ بحث رہا ہے اور مختلف علماء نے اس حوالے سے روایات اور اقوال نقل کیے ہیں۔
حوالہ جات:
۱۔ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ج ۶، ص ۱۔
۲۔ شیخ مفید، المقنعہ، ص ۴۵۶۔
۳۔ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج ۲۹، ص ۲۰۹۔
۴۔ شیخ صدوق، الاعتقادات، ج ۱، ص ۹۷۔
۵۔ شرح الزرقانی علی المواهب اللدنیہ، ج ۷، ص ۳۶۴۔









آپ کا تبصرہ