ترجمہ: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| شہید رہبرِ انقلاب آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے پیر، 27 جولائی 2009ء (5 مرداد 1388 ہجری شمسی) کو دفترِ رہبری اور سپاہِ حفاظتِ ولیِ امر کے ارکان سے ملاقات کے دوران اپنے خطاب میں مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین محمدی اشتہاردی کی کتاب "زندگی پرافتخار عمار یاسر" کا ذکر کرتے ہوئے معاشرے میں حقائق کی تبیین کے لئے صاحبانِ بصیرت اور اہلِ فکر و نظر کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔ اسی ضمن میں آپ نے جنگِ صفین کے دوران حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی بصیرت افروز جدوجہد اور معاویہ کی نفسیاتی جنگ کے مقابلہ میں ان کے فیصلہ کن کردار کو بطورِ نمونہ پیش کیا۔
جنگِ صفین کے تیسرے دن حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شجاعت اور تبیینِ حق
(بعض تاریخی روایات کے مطابق جنگِ صفین کا باقاعدہ آغاز یکم صفر 37 ہجری کو ہوا، لہٰذا اس روایت کی بنا پر جنگ کا تیسرا دن 3 صفر 37 ہجری قرار پاتا ہے۔)
جنگِ صفین کے تیسرے دن امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کا ایک دستہ حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت میں میدانِ کارزار کی جانب روانہ ہوا، جبکہ دوسری طرف معاویہ نے عمرو بن عاص کی سربراہی میں اپنے لشکر کا ایک حصہ مقابلے کے لئے بھیجا۔ دونوں لشکروں کے درمیان نہایت شدید اور خونریز معرکہ برپا ہوا۔
اسی موقع پر حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "اے مسلمانو! کیا تم اس شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جو اللہ اور اس کے رسولؐ کا دشمن ہے، جس نے ہمیشہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کی، مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا اور مشرکین کی مدد کی؟ یہی وہ شخص ہے جو اس وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے فتحِ مکہ کے ذریعہ اپنے دین کو غلبہ اور اپنے رسولؐ کو نصرت عطا فرمائی۔ اس نے صرف ظاہری طور پر اسلام قبول کیا۔ خدا کی قسم! وہ اپنی رضا و رغبت سے مسلمان نہیں ہوا، بلکہ مجبوری اور بے دلی کے ساتھ اسلام لایا۔ پھر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد بھی، خدا کی قسم! ہم نے ہمیشہ اسے مسلمانوں کا دشمن اور مجرموں کا پشت پناہ پایا۔ آگاہ رہو! وہ معاویہ ہے۔ اس سے جنگ کرو اور اس پر لعنت بھیجو، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔"
اس روز حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے وفادار ساتھیوں کے ہمراہ بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے عمرو بن عاص اور اس کے لشکر کو پسپا کرتے ہوئے ان کی لشکرگاہ تک دھکیل دیا۔ اس دن فتح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کے حصے میں آئی، جبکہ عمرو بن عاص میدانِ جنگ سے فرار ہو کر بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوا۔
جنگِ صفین میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مناجاتیں اور رجز
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے جنگِ صفین کے دوران بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے عرض کیا: "اے اللہ! اگر تو ہمیں فتح و نصرت عطا فرمائے تو یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں، بلکہ تو اس سے پہلے بھی ہمیں بارہا کامیابی عطا فرما چکا ہے اور اگر تو وقتی طور پر دشمنوں کو غلبہ عطا کرے تو تیرے بندوں میں ان کی پھیلائی ہوئی بدعتوں کے باعث ان پر اپنا دردناک عذاب نازل فرما۔"
اس کے بعد حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے رفقاء کے ہمراہ دشمن کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے۔ جب آپ کی نظر عمرو بن عاص پر پڑی تو فرمایا: "اے عمرو! تم نے مصر کی حکومت کے بدلے اپنا دین فروخت کر دیا ہے۔ اللہ تمہیں ہلاک کرے! تم مدتوں سے اسلام کے معاملے میں راہِ حق سے منحرف رہے ہو اور آج بھی اسی گمراہی پر قائم ہو۔"
اس کے بعد حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے دشمن پر حملہ کیا اور یہ رجز پڑھا: "اللہ نے سچ فرمایا، اور وہی سب سے بڑھ کر سچا ہے۔ وہی سب سے بڑا اور ہر چیز سے بلند و برتر ہے۔ اے اللہ! مجھے جلد از جلد شہادت کی سعادت عطا فرما اور اس راہ میں جان قربان کرنے کی توفیق دے جسے تو پسند کرتا ہے۔ شہداء تیرے حضور جنت میں شرابِ طہور سے سیراب کئے جائیں گے، ایسی پاکیزہ شراب سے جو مشک کی خوشبو سے معطر ہوگی، اور ایسے لبریز جاموں سے جن میں جنّتی زنجبیل کی آمیزش ہوگی۔"
ایک اور موقع پر حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا: "اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعْلَمُ مِمَّا عَلَّمْتَنِي أَنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ عَمَلٌ أَرْضَى عِنْدَكَ مِنْ جِهَادِ هَؤُلَاءِ الْفَاسِقِينَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ عَمَلًا أَرْضَى لَكَ مِنْهُ لَفَعَلْتُهُ.""اے اللہ! تو نے جو معرفت مجھے عطا فرمائی ہے، اس کی روشنی میں میں جانتا ہوں کہ آج تیرے نزدیک ان فاسقوں (معاویہ اور اس کے لشکر) کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی اور عمل ہے تو میں ضرور وہی انجام دیتا۔"
عبیداللہ بن عمر پر حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شدید تنقید
عبیداللہ بن عمر، امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے سخت ترین مخالفین میں شمار ہوتا تھا۔ جنگِ صفین میں وہ معاویہ کے لشکر کے ایک سپہ سالار کی حیثیت سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خلاف برسرِ پیکار تھا اور بالآخر اسی جنگ میں مارا گیا۔
جنگ کے ایک دن حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی اس پر نظر پڑی تو آپ نے فرمایا: "اے عمر کے بیٹے! اللہ تجھے ذلیل و خوار کرے اور ہلاک کر دے۔ تو نے اپنا دین، اللہ اور اسلام کے دشمن کی دنیا کے عوض فروخت کر دیا ہے۔"
عبیداللہ نے جواب دیا: "ہرگز نہیں!"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "نہیں، ہرگز نہیں! تمہاری نیت وہ نہیں جس کا تم دعویٰ کرتے ہو۔ میں پورے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہوں کہ تمہارا کوئی عمل اللہ کی رضا کے لئے نہیں ہے۔ اگر آج موت نے تمہیں مہلت دے دی ہے تو کل وہ ضرور تمہیں آ لے گی۔ ذرا سوچو! جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ان کی نیتوں کے مطابق معاملہ فرمائے گا تو تمہاری نیت تم کو کس انجام تک پہنچائے گی؟"
درحقیقت عبیداللہ بن عمر کی خواہش یہ تھی کہ وہ معاویہ کی خوشنودی حاصل کرے، اپنی دنیا کو سنوارے، اور "خونِ عثمان" کے نعرے کو اپنے سیاسی اور دنیاوی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنائے۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی نظر میں معاویہ کے پیروکار
جنگِ صفین کے دوران ایک شخص حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "اے ابو الیقظان! کیا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: 'لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لیں، پھر جب وہ اسلام لے آئیں تو ان کے جان و مال میری طرف سے محفوظ ہیں؟'"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "کیوں نہیں، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا تھا؛ لیکن یہ لوگ (معاویہ اور اس کے پیروکار) حقیقی مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف ظاہری طور پر اسلام قبول کیا، جبکہ اپنے باطنی کفر کو دلوں میں چھپائے رکھا۔ پھر جب انہیں طاقت، اقتدار اور مددگار میسر آ گئے تو انہوں نے اپنے پوشیدہ کفر کو آشکار کر دیا۔"
شک و شبہ کا ازالہ کرنے میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا فیصلہ کن جواب
اسماء بن حکیم روایت کرتے ہیں: ہم جنگِ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے زیرِ پرچم دشمن سے برسرِ پیکار تھے۔ دوپہر کا وقت قریب تھا اور ہم ایک سرخ شامیانے کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں لشکرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا ایک شخص آیا اور پوچھا: "تم میں عمّار یاسر کون ہیں؟"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "میں ہوں۔"
اس نے پوچھا: "کیا آپ ابو الیقظان ہیں؟"
آپ نے فرمایا: "جی ہاں۔"
اس نے عرض کیا: "مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "کہو۔"
اس نے پوچھا: "یہ بات علانیہ عرض کروں یا تنہائی میں؟"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "تمہیں اختیار ہے۔"
اس نے کہا: "میں علانیہ ہی عرض کرتا ہوں۔ جب میں اپنے گھر سے نکلا تھا تو مجھے کامل یقین تھا کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ (معاویہ اور اس کے پیروکار) باطل اور گمراہی پر ہیں۔ گزشتہ رات تک میرا یہی یقین تھا، لیکن رات کو میں نے دیکھا کہ ہمارے مؤذن بھی اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں اور ان کے مؤذن بھی یہی شہادت دیتے ہیں۔ ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی نماز ادا کرتے ہیں۔ ہماری کتاب بھی قرآن ہے، ان کی کتاب بھی قرآن ہے، ہماری دعوت بھی ایک ہے اور ہمارے رسول بھی ایک ہیں۔ اسی وجہ سے میرے دل میں شبہ پیدا ہو گیا۔ میں نے پوری رات اسی اضطراب میں گزاری، پھر صبح امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کیا۔ آپؑ نے فرمایا: 'کیا تم نے عمّار سے ملاقات کی ہے؟' میں نے عرض کیا: 'نہیں۔' آپؑ نے فرمایا: عمّار کے پاس جاؤ، وہ جو کچھ کہیں، اسی کی پیروی کرنا۔ چنانچہ میں اسی مقصد کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "کیا تم اس سیاہ پرچم والے شخص کو دیکھ رہے ہو جو میرے سامنے کھڑا ہے؟" (آپ کا اشارہ عمرو بن عاص کی طرف تھا۔)
پھر فرمایا: "میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اس شخص کے خلاف تین مرتبہ جنگ کی ہے، اور آج چوتھی مرتبہ اس کے مقابل کھڑا ہوں۔ یہ جنگ پہلی تین جنگوں سے بہتر نہیں بلکہ ان سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ بدر، اُحد اور حنین میں بھی میں اسی کے مقابل لڑا تھا۔ کیا تمہارا باپ یہاں موجود ہے تاکہ وہ تمہیں اس حقیقت کی خبر دے؟"
اس شخص نے عرض کیا: "نہیں۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہمارا اجتماع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر پرچم ہوتا تھا، جبکہ یہ لوگ مشرکین کے جھنڈوں کے نیچے جمع ہوتے تھے۔ کیا تم اس لشکر اور اس کے افراد کو دیکھ رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میری خواہش ہے کہ یہ سب ایک ہی شخص ہوتے اور میں اسی ایک شخص کو قتل کر دیتا۔ اللہ کی قسم! ان سب کا خون بہانا ایک چڑیا کا خون بہانے سے بھی زیادہ جائز ہے۔ کیا چڑیا کا خون بہانا حرام ہے؟"
اس شخص نے عرض کیا: "نہیں، وہ تو حلال ہے۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "پس ان لوگوں کا خون بہانا بھی جائز ہے۔ کیا میں نے حقیقت اچھی طرح واضح کر دی؟"
اس نے عرض کیا: "جی ہاں، آپ نے حقیقت پوری طرح واضح کر دی۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "اب جاؤ، دونوں لشکروں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو۔ عنقریب یہ لوگ (معاویہ اور اس کے پیروکار) اپنی تلواروں سے تم پر ایسے حملے کریں گے کہ باطل کے پیروکار بھی شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔"
پھر حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے کامل یقین اور غیر متزلزل استقامت کے ساتھ فرمایا: "اللہ کی قسم! یہ لوگ مچھر کی آنکھ میں پڑنے والے ایک معمولی تنکے کے برابر بھی حق پر نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ اپنی تلواروں سے ہمیں مارتے ہوئے سرزمینِ ہَجَر کے کھجورستانوں (نخلستانوں) تک بھی دھکیل دیں، تب بھی ہمیں پورا یقین رہے گا کہ ہم حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں۔"
شک و شبہ کے ازالے کے لئے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک اور فیصلہ کن جواب
ابوزینب، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب اور آپؑ کے لشکر کے ایک جانباز تھے۔ جنگِ صفین کے دوران ناواقفیت کے باعث ان کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو گیا کہ دونوں لشکروں میں سے کون حق پر ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ان سے فرمایا: "اگر تم خالص نیت کے ساتھ اس گروہ کے خلاف جنگ کرو اور اسی راہ میں شہید ہو جاؤ تو تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی راہ میں شہید ہوگے اور حق پر ہوگے۔"
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی ان سے فرمایا: "ثابت قدم رہو اور ان گروہوں (معاویہ اور اس کے پیروکاروں) کے بارے میں کسی قسم کا شک نہ کرو، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں۔"
اس کے بعد حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ دشمن کی صفوں پر حملہ آور ہوئے اور یہ رجز پڑھا: "آگے بڑھو ان گروہوں کی طرف جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ہیں۔ آگے بڑھو، کیونکہ بہترین انسانوں کے پیروکار، علی علیہ السلام کے پیروکار ہیں۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ تلواریں نیام سے نکلیں، گھوڑے میدانِ کارزار میں دوڑیں اور بلند نیزے دشمن کے سینوں کا رخ کریں۔"
یہ واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کامل بصیرت، راسخ ایمان اور غیر متزلزل یقین کے ساتھ، تولّی و تبرّی کے اصول پر ثابت قدم رہتے ہوئے میدانِ جہاد میں حق اور ولایتِ علویؑ کا دفاع کر رہے تھے۔
جنگِ صفین میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی متنوع خدمات
جنگِ صفین ایک طویل اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس دوران حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بارہا محاذِ جنگ کی اگلی صفوں میں جا کر دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ آپ نے اس جنگ میں مختلف مواقع پر گوناگوں ذمہ داریاں انجام دیں۔
کبھی آپ سوار فوج کے سپہ سالار ہوتے، کبھی کوفہ کے پیادہ مجاہدین کی قیادت فرماتے، کبھی "قُرّاء" کی حیثیت سے دشمن کو حق کی دعوت دیتے اور اپنے لشکر کے مجاہدین میں جذبۂ جہاد بیدار کرتے، اور کبھی کمین گاہ (گھات لگانے والے دستے) کے سربراہ کی ذمہ داری نبھاتے۔
روایات میں مذکور ہے کہ ایک موقع پر معاویہ نے ستر (70) پرچموں پر مشتمل ایک بڑا لشکر میدانِ جنگ میں اتارا، جبکہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت میں چند پرچموں پر مشتمل ایک دستہ مقابلے کے لئے روانہ فرمایا۔ دونوں لشکروں کے درمیان نہایت شدید جنگ ہوئی، جس میں معاویہ کے لشکر کے تقریباً 700 افراد مارے گئے، جبکہ لشکرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے 200 جانبازوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
میدانِ جنگ میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نعرے اور ولولہ انگیز خطابات
عمرو بن شمر روایت کرتے ہیں: میں نے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کی صفِ اوّل میں سفید زرہ پہنے، گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپ بلند آواز سے فرما رہے تھے: "اَیُّهَا النَّاسُ! الرَّوَاحُ إِلَى الْجَنَّةِ۔""اے لوگو! جنت کی طرف کوچ کرو۔"
ایک اور روایت کے مطابق، اپنی شہادت سے ایک یا دو روز قبل حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ میدانِ جنگ میں یہ صدا بلند کر رہے تھے: "اَیْنَ مَنْ یَبْغِی رِضْوَانَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا یَؤُوبُ إِلَى مَالٍ وَلَا وَلَدٍ؟"
"کہاں ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طلب گار ہیں اور جن کے دل مال و دولت اور اولاد کی محبت سے وابستہ نہیں ہیں؟
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی اس پرجوش دعوت پر مجاہدین کی ایک جماعت نے لبیک کہا اور آپ کے گرد جمع ہو گئی تاکہ محاذِ جنگ کی طرف روانہ ہو۔
آپ نے ان سے فرمایا: "اے لوگو! ہمارے ساتھ اس گروہ کی طرف چلو جو عثمان کے خون کا مطالبہ کر رہا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مظلوم قتل کئے گئے تھے۔ اللہ کی قسم! اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔"
ہاشم مرقال، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کے ممتاز اور دلیر جانبازوں میں شمار ہوتے تھے۔ جنگ کے ایک دن انہوں نے لشکر کا پرچم سنبھالا، جبکہ حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ولولہ انگیز کلمات سے ان کے جذبۂ جہاد کو مزید تقویت دے رہے تھے۔
ہاشم مرقال پرچم بلند کئے آگے بڑھ رہے تھے اور حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے مؤثر نعروں اور حوصلہ افزا کلمات سے مسلسل انہیں پیش قدمی کی ترغیب دے رہے تھے۔
اس روز ان کی پیش قدمی اس قدر ہیبت ناک تھی کہ دشمن کے سپہ سالار عمرو بن عاص بے اختیار کہہ اٹھا: "میں ایک ایسے علم بردار کو دیکھ رہا ہوں جو اس شان سے آگے بڑھ رہا ہے کہ اگر اس کی پیش قدمی جاری رہی تو آج تمام عرب کو تہس نہس کر دے گا۔"
اس روز نہایت سخت اور خونریز جنگ چھڑ گئی۔ حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل یہ نعرہ بلند کرتے رہے: "صَبْرًا! وَاللهِ إِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ الْبِيضِ۔""ثابت قدم رہو! اللہ کی قسم! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔"
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ برابر ہاشم مرقال کو پیش قدمی کی ترغیب دیتے رہے۔ اس دن جنگ اس قدر شدید اور ہولناک تھی کہ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے، اور دونوں جانب سے بے شمار افراد مارے گئے۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت؛ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معیار
محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت روایت کرتے ہیں: میرے دادا حضرت خزیمہ بن ثابت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جنگِ جمل میں اپنے ہاتھ کو تلوار چلانے سے روکے ہوئے تھے اور لشکرِ جمل کے خلاف قتال سے اجتناب کرتے رہے، کیونکہ ان کے دل میں کچھ تردد پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اسی کیفیت میں رہے، یہاں تک کہ جنگِ صفین میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت واقع ہوئی۔
جب حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کی خبر انہیں ملی تو ان کا شک و شبہ بالکل دور ہو گیا اور حق و باطل ان پر پوری طرح آشکار ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے دشمن کے خلاف تلوار اٹھائی، ثابت قدمی سے جنگ کی اور بالآخر راہِ حق میں جامِ شہادت نوش کیا۔
حضرت خزیمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے: "میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: "عمّار کو ایک باغی اور ظالم گروہ قتل کرے گا۔"
اسی حدیثِ نبویؐ کی بنا پر انہیں یقین ہو گیا کہ جس لشکر نے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو شہید کیا، وہی باغی اور ظالم گروہ تھا۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ملکوتی للکار
عبدالرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ جنگِ صفین کے ایک عینی شاہد نے بیان کیا: "اللہ کی قسم! لشکر کے افراد اپنے اپنے مورچوں میں آرام کر رہے تھے اور سورج بلند ہو چکا تھا کہ اچانک حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی گرجدار آواز بلند ہوئی۔"
آپ فرما رہے تھے: "اے لوگو! کون ہے جو پیاسے کی طرح جنت کا مشتاق ہو؟ جان لو! جنت نیزوں کی انیوں کے سائے تلے ہے۔ آج میری ملاقات اپنے محبوب رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے وفادار ساتھیوں سے ہوگی۔"
پھر آپ نے مجاہدین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے مسلمانو! دشمن کے بارے میں اللہ کے وعدے کو سچا جانو۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ فتحِ مکہ اور جنگِ حنین کے موقع پر مسلمانوں کی تلواروں کے خوف سے مجبور ہو کر اسلام میں داخل ہوئے تھے، مگر ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ پھر جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے اسلام کے خلاف سازشیں شروع کر دیں تاکہ دینِ خدا کو مٹا سکیں۔"
راوی بیان کرتا ہے کہ اس وقت حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر تقریباً نوّے برس تھی۔ بڑھاپے اور جسمانی ضعف کے باوجود جب آپ گھوڑے پر سوار ہوتے تو جسم اس قدر نحیف ہو چکا تھا کہ بظاہر صرف زین اور لگام ہی نمایاں دکھائی دیتی تھی۔
اس کے باوجود حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی ایمان افروز، پُرسوز اور ملکوتی آواز مجاہدین کے دلوں میں عزم، شجاعت، استقامت اور عشقِ ولایت کی نئی روح پھونک دیتی تھی اور انہیں راہِ حق میں ثابت قدم رہنے کا ولولہ عطا کرتی تھی۔
اقتباس از بیان رہبرِ شہید آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہای









آپ کا تبصرہ