تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کا سرچشمہ ان کا نسب نہیں، بلکہ ان کا انتخاب ہے۔ بعض نام خون کے رشتوں سے پہچانے جاتے ہیں اور بعض اپنی وفاداری سے۔ بعض کو خاندان عزت بخشتا ہے اور بعض اپنے کردار سے خاندانوں کی تعریف بدل دیتے ہیں۔ حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انہی نفوسِ قدسیہ میں سے ہیں؛ جنہوں نے ثابت کر دیا کہ انسان کی حقیقی شناخت اس کے آباء و اجداد نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ، اس کی معرفت، اس کا اخلاص اور امامِ حق کے ساتھ اس کی وابستگی ہے۔
مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی نگاہ میں تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہدایت اور ضلالت، وفا اور بے وفائی، نور اور ظلمت کے درمیان دائمی کشمکش کا نام ہے۔ اس تاریخ میں بعض لوگ نسب کی بلندی کے باوجود حق سے محروم ہو گئے، اور بعض ایسے بھی ہوئے جو نسبی اعتبار سے اہلِ بیت علیہم السلام میں شامل نہ تھے، مگر معرفت، محبت اور اطاعت نے انہیں اس درجۂ قرب تک پہنچا دیا کہ ان کی زندگیاں ولایت کی زندہ تفسیر بن گئیں۔ حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اسی حقیقت کا روشن استعارہ ہیں۔
قرآنِ مجید نے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کے واقعات کے ذریعہ یہ ابدی اصول بیان فرمایا کہ نجات کا معیار نسب نہیں، بلکہ ایمان ہے۔ اسی کے بالمقابل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ علیہ کے بارے میں فرمایا: "سلمانُ مِنّا أهلَ البیت"۔ یہ اعلان درحقیقت اس الٰہی معیار کی تفسیر تھا کہ ولایت کا رشتہ خون کے رشتوں سے کہیں بلند اور پائیدار ہے۔
حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اسی قرآنی حقیقت کا عملی مظہر ہے۔ اگرچہ وہ نسباً پہلے خلیفہ کے فرزند تھے، لیکن ان کی روح کو جس مکتب نے جلا بخشی، وہ خانۂ ولایت تھا؛ ان کے دل کو جس نور نے منور کیا، وہ نورِ علوی تھا؛ اور ان کی شخصیت کو جس تربیت نے کمال عطا کیا، وہ تربیتِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام تھی۔
بچپن ہی میں والد کا سایہ اٹھ گیا، مگر مشیتِ خداوندی نے انہیں ایسی آغوش عطا کی جو انسان سازی کا سب سے عظیم مدرسہ تھی۔ حضرت اسماء بنتِ عمیس رضوان اللہ علیہا کے عقدِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں آنے کے بعد محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی آنکھیں اس گھر میں کھولیں جہاں وحی کی خوشبو بسی ہوئی تھی؛ جہاں قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا تھا بلکہ ہر سانس میں جیا جاتا تھا؛ جہاں عدل حکومت کا عنوان، عبادت زندگی کی روح، علم شخصیت کا زیور، حلم اخلاق کا حسن اور ایثار حیات کا شعار تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی پوری شخصیت میں علوی تربیت کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے افکار میں علیؑ کی حکمت، ان کے کردار میں علیؑ کا عدل، ان کے صبر میں علیؑ کی استقامت، ان کے جہاد میں علیؑ کی غیرت اور ان کی وفاداری میں علیؑ کی محبت موجزن نظر آتی ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ میری آغوشِ تربیت میں پرورش پانے والوں میں سے تھے اور میں انہیں اپنے فرزند کی مانند سمجھتا تھا۔ یہ جملہ محض شفقت کا اظہار نہیں، بلکہ اس روحانی نسبت کی گواہی ہے جو خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔
روایات میں حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخلص اصحاب اور اہلِ بیت علیہم السلام کے وفادار شیعوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے ولایتِ علی علیہ السلام کو کسی سیاسی مصلحت کے طور پر نہیں، بلکہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی روح کے طور پر اختیار کیا۔
جنگِ جمل ان کی بصیرت کا روشن ترین امتحان تھی۔ ایک طرف نسبی تعلقات تھے، دوسری طرف امامِ برحق کی اطاعت۔ ایک طرف جذبات تھے، دوسری طرف حجتِ خدا کی نصرت۔ انہوں نے بلا تردد ولایت کا دامن تھاما اور یہ ثابت کر دیا کہ مومن کے نزدیک حق کا رشتہ ہر نسبی تعلق سے مقدم ہوتا ہے۔
بعد ازاں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے انہیں مصر کی ولایت سونپی۔ یہ منصب محض سیاسی اعتماد کا اظہار نہ تھا بلکہ ان کی دیانت، اخلاص، تقویٰ اور وفاداری کی عملی تصدیق بھی تھا۔ انہوں نے حکومت کو اقتدار نہیں بلکہ امانت سمجھا اور رعایا کی خدمت کو عبادت قرار دیا۔
جب شام کی افواج نے مصر پر حملہ کیا تو انہوں نے قلتِ وسائل اور بے وفائیوں کے باوجود راہِ حق کو ترک نہ کیا۔ آخرکار انہوں نے (14 صفر 38 ہجری کو) جامِ شہادت نوش کیا، مگر ولایت کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ ان کا جسم خاک میں مل گیا، لیکن ان کا نام وفاداری کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ثبت ہو گیا۔
حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی اہلِ ولایت کے لئے ایک دائمی پیغام ہے کہ ولایت صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین، عقل کی بصیرت، عمل کی استقامت اور جان کی قربانی کا نام ہے۔ جو شخص امامِ حق کی معرفت حاصل کر لیتا ہے، اس کے لئے دنیا کے تمام رشتے اسی معرفت کے تابع ہو جاتے ہیں۔
اگر حضرت قنبر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ خدمتِ ولایت کی علامت ہیں، حضرت میثم تمار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ استقامتِ ولایت کی تصویر ہیں، حضرت عمار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بصیرتِ ولایت کی صدا ہیں، تو حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اس حقیقت کے زندہ استعارہ ہیں کہ تربیتِ علوی انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں نسب کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں اور صرف ولایت کی نسبت باقی رہ جاتی ہے۔
آج بھی جب مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام اپنے وفاداروں کا تذکرہ کرتا ہے تو حضرت محمد بن ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام عقیدت، احترام اور محبت سے لیا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے کردار سے ثابت کر دیا کہ ولایت وہ نسبت ہے جو خون سے نہیں، دل سے قائم ہوتی ہے؛ اور یہی نسبت انسان کو تاریخ کے صفحات پر نہیں، بلکہ قلوبِ مؤمنین میں ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیتی ہے۔









آپ کا تبصرہ