منگل 28 جولائی 2026 - 21:15
حکمیتِ صفین: ایک سیاسی فریب، جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا

حوزہ/اسلامی تاریخ میں جنگِ صفین اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والا واقعۂ حکمیت نہایت اہم اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف خلافتِ اسلامی کی سیاسی سمت کو متاثر کیا بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری، اعتقادی اور سیاسی تاریخ پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ میں جنگِ صفین اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والا واقعۂ حکمیت نہایت اہم اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف خلافتِ اسلامی کی سیاسی سمت کو متاثر کیا بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری، اعتقادی اور سیاسی تاریخ پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ جب سیاسی مفادات، قبائلی تعصبات، عوامی جذبات اور دینی بے بصیرتی یکجا ہو جائیں تو حق کا واضح راستہ بھی بہت سے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

جنگِ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کا لشکر فتح کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، لیکن معاویہ نے عمرو بن عاص کے مشورے پر ایک ایسی سیاسی چال چلی جس نے میدانِ جنگ کا رخ بدل دیا۔ قرآنِ کریم کے نسخوں کو نیزوں پر بلند کرنا بظاہر کتابِ الٰہی کی طرف رجوع کی دعوت تھی، مگر حقیقت میں یہ یقینی شکست سے بچنے کی ایک سوچی سمجھی سیاسی تدبیر تھی۔ افسوس کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر کے ایک بڑے حصے نے اس فریب کو حقیقت سمجھ لیا اور امامؑ کو حکمیت قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔

لغوی اعتبار سے حکمیت (تحکیم) سے مراد دو فریقوں کے درمیان کسی تیسرے شخص کو فیصلہ کرنے والا مقرر کرنا ہے۔ اسلام نے اصولی طور پر ثالثی اور حکمیت کو جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ فیصلہ قرآنِ مجید اور سنتِ نبویؐ کے مطابق ہو۔ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر ثالث مقرر فرمائے، لہٰذا اصلِ حکمیت اسلام میں مشروع ہے، البتہ اس کا سیاسی مقاصد کے لئے ناجائز استعمال قابلِ مذمت ہے۔

جناب عثمان کے قتل کے بعد مسلمانوں نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی بیعت کی، لیکن شام کے گورنر معاویہ نے بیعت سے انکار کر دیا اور خونِ عثمان کے مطالبہ کو اپنی سیاسی مہم کا بنیادی نعرہ بنا لیا۔

سن 37 ہجری میں صفین کے مقام پر دونوں افواج آمنے سامنے آئیں۔ ابتدا میں جنگ دونوں جانب سے جاری رہی، لیکن بعد کے مراحل میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے نامور سپہ سالار حضرت مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مؤثر حکمتِ عملی کے باعث معاویہ کی شکست یقینی نظر آنے لگی۔ اسی نازک مرحلے پر عمرو بن عاص نے اپنی معروف سیاسی سازش اختیار کی۔

اس نے معاویہ کو مشورہ دیا کہ اب عسکری قوت کے ذریعہ کامیابی ممکن نہیں، لہٰذا لشکر عراق کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ چنانچہ قرآنِ کریم کے نسخے نیزوں پر بلند کئے گئے اور اعلان کیا گیا: "آؤ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے۔"

بظاہر یہ دعوت قرآن کی طرف رجوع کی تھی، لیکن حقیقت میں اس کے مقاصد یقینی شکست سے بچنا، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر میں اختلاف پیدا کرنا، جنگ کو روک دینا اور مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا، تھے۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فوراً فرمایا کہ یہ قرآن کی حقیقی دعوت نہیں بلکہ ایک سیاسی فریب ہے، مگر افسوس کہ لشکر کے ایک بڑے طبقے نے اس حقیقت کو نہ سمجھا۔

اس وقت امیرالمؤمنین امام علی علیہ کے لشکر میں تین نمایاں گروہ موجود تھے:

اوّل: اہلِ بصیرت اور مخلص افراد، جیسے حضرت مالک اشتر، حضرت عمار بن یاسر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضوان اللہ علیہم، جو اس سیاسی چال کو بخوبی سمجھتے تھے۔

دوم: سادہ لوح مگر کم بصیرت افراد، جو عبادت گزار تو تھے لیکن سیاسی شعور سے محروم تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ جب مخالف قرآن کی طرف دعوت دے رہا ہے تو جنگ جاری رکھنا مناسب نہیں۔

سوم: مفاد پرست اور موقع پرست عناصر، جن کی قیادت اشعث بن قیس جیسے منافق افراد کر رہے تھے۔ انہی لوگوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام پر شدید دباؤ ڈالا، یہاں تک کہ دھمکی دی کہ اگر حکمیت قبول نہ کی گئی تو وہ امامؑ ہی کے خلاف اقدام کریں گے۔

اس وقت حضرت مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ دشمن کے آخری مورچوں تک پہنچ چکے تھے اور فتح چند لمحوں میں ملنے والی تھی۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے انہیں واپس آنے کا حکم دیا۔

ابتدا میں حضرت مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کیا کہ فتح میں صرف چند لمحوں کی تاخیر رہ گئی ہے، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ امامؑ کی جان خطرے میں ہے تو انہوں نے فوراً حکمِ امام کی تعمیل کی اور میدانِ جنگ سے واپس آ گئے۔ یہ واقعہ حضرت مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی بے مثال اطاعت اور وفاداری کا روشن نمونہ ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حکمیت کیوں قبول کی؟

یہ سوال ہمیشہ سے زیرِ بحث رہا ہے کہ اگر حکمیت مناسب نہ تھی تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اسے قبول کیوں کیا؟

تاریخی شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حکمیت اپنی رضا و رغبت سے نہیں بلکہ شدید دباؤ اور مجبوری کے تحت قبول کی۔ اگر امامؑ انکار کرتے تو لشکر منتشر ہو جاتا، داخلی خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو جاتا، امامؑ کی جان خطرے میں پڑ جاتی اور مسلمانوں کے درمیان مزید خونریزی ہوتی۔ لہٰذا یہ ایک اضطراری فیصلہ تھا، نہ کہ اختیاری یا پسندیدہ اقدام۔

نمائندوں کا انتخاب

معاویہ نے اپنی طرف سے عمرو بن عاص کو نمائندہ مقرر کیا، جبکہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام حضرت عبداللہ بن عباس یا حضرت مالک اشتر کو نمائندہ بنانا چاہتے تھے۔ لیکن جن لوگوں نے حکمیت قبول کرنے پر اصرار کیا تھا، انہی لوگوں نے امامؑ کی رائے مسترد کرتے ہوئے ابوموسیٰ اشعری کو نمائندہ مقرر کرنے پر زور دیا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے واضح فرمایا کہ ابوموسیٰ اشعری اس ذمہ داری کے لئے موزوں نہیں، لیکن ان کی بات قبول نہ کی گئی۔

ابوموسیٰ اشعری کے انتخاب کی چند اہم وجوہات ان کی کوفہ میں سابقہ گورنری، عوامی مقبولیت، بعض یمنی قبائل کی حمایت اور حضرت علی علیہ السلام کی رائے سے اختلاف تھیں۔ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ فیصلہ انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔

دوسری جانب عمرو بن عاص مسلسل ابوموسیٰ اشعری کو عزت دیتا، انہیں ہر نشست میں مقدم رکھتا اور ان کا اعتماد حاصل کرتا رہا۔ اس کا مقصد مناسب موقع پر انہیں دھوکہ دینا تھا، اور بالآخر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا۔

دونوں نمائندوں کے درمیان یہ طے پایا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کے معاملے کو مسلمانوں کی مشاورت پر چھوڑ دیا جائے۔

مجمعِ عام میں پہلے ابوموسیٰ اشعری نے اپنا اعلان کیا، لیکن اس کے بعد عمرو بن عاص نے معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کو معزول کرتا ہے جبکہ معاویہ کی تائید کرتا ہے۔ اس سیاسی فریب نے پوری صورتِ حال کا رخ بدل دیا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، کیونکہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق ہوگا، جبکہ عمرو بن عاص کا اعلان نہ قرآن و سنت کے مطابق تھا، نہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق، بلکہ وہ کھلی بدعہدی اور سیاسی دھوکے پر مبنی تھا۔

اس واقعہ کا سب سے المناک نتیجہ یہ نکلا کہ جن لوگوں نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کو حکمیت قبول کرنے پر مجبور کیا تھا، وہی بعد میں "لا حُکمَ إلا لله" کا نعرہ لگا کر امامؑ کے مخالف بن گئے اور آپؑ سے توبہ کا مطالبہ کرنے لگے۔

اس پر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: "كلمةُ حقٍّ يُرادُ بها الباطل." یعنی: "یہ حق بات ہے، مگر اس سے باطل مقصد حاصل کیا جا رہا ہے۔"

حکمیت کے نتائج

واقعۂ حکمیت کے نتیجے میں معاویہ یقینی شکست سے بچ گیا، شام کی حکومت مزید مضبوط ہو گئی، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر میں تقسیم پیدا ہو گئی، خوارج جیسے گمراہ گروہ نے جنم لیا، جنگِ نہروان پیش آئی، امتِ مسلمہ مزید انتشار کا شکار ہوئی اور بالآخر بنی امیہ کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔

واقعۂ حکمیت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم درس ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر مذہبی نعرہ حق کی علامت نہیں ہوتا، قرآن کا نام لے کر بھی سیاسی مفادات حاصل کئے جا سکتے ہیں، جذبات کے بجائے دینی بصیرت اور صحیح قیادت کی پیروی ضروری ہے، داخلی اختلافات بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور حق کی پہچان اکثریت سے نہیں بلکہ قرآن، سنت اور الٰہی رہنمائی سے ہوتی ہے۔

واقعۂ حکمیت اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم، سبق آموز اور عبرت انگیز باب ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ جب سیاسی فریب، قبائلی تعصب اور دینی بے بصیرتی یکجا ہو جائیں تو یقینی فتح بھی شکست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ہر حال میں حق، عدل اور اصولوں کا دامن تھامے رکھا، لیکن اپنی ہی فوج کے ایک بڑے حصہ کے دباؤ نے انہیں ایک ایسے مرحلے سے گزارا جس کے اثرات صدیوں تک امتِ مسلمہ پر مرتب ہوتے رہے۔

آج بھی یہ واقعہ مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ دین کے نام پر بلند ہونے والے ہر نعرے کو قرآن، سنت، عقل، بصیرت اور اہلِ حق کی رہنمائی کی روشنی میں پرکھنا چاہیے، ورنہ تاریخ مختلف صورتوں میں خود کو دہراتی رہے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha