حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امسال 12 ربیع الاول کو اہل سنت برادران کی جانب سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلے میں نکالے جانے والے جلوس کا قصر زینب سلام اللہ علیہا کے سامنے سے محض گزرنا ہی نہیں ہوا بلکہ اہل تشیع کی جانب سے اپنے اہل سنت برادران کے استقبال کے لیے باقاعدہ استقبالیہ کیمپ قائم کیا گیا۔
اس موقع پر اہل تشیع کے علماء، دینی و ملی شخصیات اور عمائدین نے جلوس کے شرکاء اور اہل سنت علماء کا پرتپاک استقبال کیا۔ اہل سنت علماء اور شرکاء جلوس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، انہیں ہار پہنائے گئے اور گلے لگا کر محبت و اخوت کا اظہار کیا گیا۔
قصر زینب سلام اللہ علیہا کے سامنے اہل سنت برادران کے لیے لنگر مصطفوی کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ جلوس کے شرکاء نے لنگر تناول کیا جبکہ اس موقع پر مختلف علماء اور شخصیات نے خطاب بھی کیا۔

بعد ازاں اہل تشیع علماء اور دینی شخصیات نے شرکاء جلوس کو محبت و اخوت کی فضا میں گلے لگا کر رخصت کیا اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
بھکر میں بین المسالک محبت اور رواداری کا یہ مظاہرہ صرف قصر زینب سلام اللہ علیہا تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک بھر مختلف مقامات پر بھی اہل تشیع کی تنظیموں نے جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرکاء کا استقبال کیا اور ان کی خاطر تواضع کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر اہل سنت برادران سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمارے محترم برادرانِ اہل سنت! آپ ہمارے مرکز اور عبادت گاہ کے سامنے سے گزرے لیکن ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ آپ کے جلوس کو دیکھ کر ہمارے اندر کوئی اشتعال پیدا نہیں ہوا بلکہ ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں آپ کی خدمت کا موقع ملا۔
ہم نے آپ کا راستہ نہیں روکا، انتظامیہ سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ آپ کا جلوس ہماری عبادت گاہ کے سامنے سے نہ گزرے اور نہ ہی یہ کہا کہ جلوس کے شرکاء ہماری عبادت گاہ کے سامنے سے خاموشی سے گزریں۔ ہم نے آپ کو محض تماشائیوں کی طرح نہیں دیکھا بلکہ اپنے بھائیوں کی حیثیت سے آپ کا استقبال کیا اور محبت و احترام کا اظہار کیا۔
مزید کہا گیا کہ اس موقع پر کوئی گلہ یا شکوہ مقصود نہیں بلکہ اہل سنت برادران کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ آپ ہمارے بھائی ہیں بلکہ ہماری جان ہیں۔ جس طرح اس وطن عزیز پاکستان کے قیام میں تمام مکاتب فکر اور مسالک نے اپنا کردار ادا کیا اسی طرح ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی تمام مسالک کو باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں پاکستان میں بین المسالک اتحاد، محبت اور اخوت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا: اسلام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔









آپ کا تبصرہ