بدھ 26 اگست 2026 - 11:01
شیعہ اور سنی میں تفرقہ ڈالنے والے عناصر امت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے: ایم ڈبلیو ایم پاکستان

حوزہ/ ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے ایم ڈبلیو ایم کراچی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے اپیل کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو علمی حدود میں رکھا جائے اور تکفیر و توہین، نفرت و اشتعال انگیزی سے اجتناب کیا جائے، ہمیں اختلاف کے ساتھ اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان صوبۂ سندھ کے صدر مولانا حیات عباس نجفی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی پاکستان بھر میں ہفتۂ وحدت منانے کا حکم دیا ہے۔ ہفتۂ وحدت صرف ایک مذہبی عنوان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، محبت، رواداری اور مشترکہ اسلامی شناخت کو مضبوط کرنے کا پیغام ہے، آج جب پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں، ہمیں اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مشترکات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان اعلان کرتی ہے کہ ہفتۂ وحدت کے دوران کراچی سمیت سندھ بھر میں اہلِ سنت برادران کے جلوس ہائے میلاد النبیؐ کا بھرپور استقبال کیا جائے گا، ہمارے کارکنان مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ، سبیلیں اور نیاز قائم کریں گے۔ جہاں ہمارے اہلِ سنت بھائی جشنِ میلاد النبیؐ کے جلوس لے کر گزریں گے وہاں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے، یہ استقبال محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ اس عقیدے کا عملی اظہار ہے کہ حضرت محمد مصطفیؐ ہم سب کے نبیؐ ہیں اور محبتِ رسولؐ پوری امت کو جوڑنے والی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ایم ڈبلیو ایم سندھ کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شیعہ اور سنی کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے عناصر امت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، فرقہ واریت کا سب سے بڑا نقصان عام مسلمان کو ہوتا ہے، مساجد و امام بارگاہیں، مدارس، بازار اور محلے اس نفرت کی آگ سے متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے اپیل کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو علمی حدود میں رکھا جائے اور تکفیر و توہین، نفرت و اشتعال انگیزی سے اجتناب کیا جائے، ہمیں اختلاف کے ساتھ اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں خاص کر کراچی کے بھی بنیادی مسائل حکومت کی فوری توجہ چاہتے ہیں؛ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے، لیکن اس شہر کے شہری آج بھی پانی، بجلی، ٹریفک، ٹوٹی ہوئی سڑکوں، صفائی، سیوریج، اسٹریٹ کرائم اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کراچی کے شہریوں کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی ریلیف دیں۔

علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے اور عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے واضح پالیسی اختیار کی جائے، صوبہ بھر میں خاص طور پر کراچی میں امن صرف پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ضرورت ہے، ہم سیکیورٹی اداروں کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جن کے نتیجے میں مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے دوران امن برقرار رکھا گیا، تاہم شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور مذہبی اجتماعات کی مؤثر سیکیورٹی کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں، ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امن کے نام پر کسی مکتبِ فکر کو نشانہ بنانا یا مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا قابلِ قبول نہیں۔

پریس کانفرنس میں علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، کاظم عباس، علی نیئر، علامہ ملک غلام عباس، علامہ بلال فائزی، علامہ جاوید جعفری، علی حیدر و دیگر بھی موجود تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha