حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آندھرا پردیش/ انجمن بسیج امام المہدی (عج) علی نقی پالم نے 30 جولائی 2026 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک احتجاجی مکتوب ارسال کیا، جس میں کربلا میں مقدس مقامات اور زائرین پر مبینہ فوجی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے فوری انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ انجمن بسیج امام المہدی (عج) عالمی امن، مذہبی آزادی اور مقدس ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک تنظیم ہے، اور اسی ذمہ داری کے تحت اس نے کربلا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر اپنی گہری تشویش اقوام متحدہ کے سامنے رکھی ہے۔
مکتوب کے مطابق، مبینہ فوجی حملوں کے دوران روضۂ امام حسین علیہ السلام کے اطراف کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حضرت عون بن عبداللہؑ کے حرم کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تنظیم نے ان واقعات کو نہ صرف انسانی اقدار بلکہ مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کے احترام کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔
تنظیم نے اپنے مکتوب میں کہا کہ کربلا دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ایک عظیم روحانی، تاریخی اور انسانی اہمیت کا حامل شہر ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کی یاد میں حاضری دیتے ہیں۔ ایسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا عراق کی خودمختاری، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی انسانی قوانین، بالخصوص تنازعات کے دوران ثقافتی و مذہبی ورثے کے تحفظ سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
انجمن بسیج امام المہدی (عج) نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیشن قائم کیا جائے، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، تمام ممالک سے آنے والے پرامن زائرین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مستقبل میں مقدس مزارات کو کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت سے محفوظ بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔
مکتوب کے اختتام پر تنظیم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ عالمی امن، انصاف اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر فوری توجہ دے گی، تاکہ مزید جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے اور مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ