حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو میں حوزہ علمیہ قم کے امورِ تحقیق کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین ترکاشوند نے حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے ساتھ مراسمِ اربعین کی خصوصیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس سلسلے میں علماء اور مفکرین کے درمیان دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک گروہ کا ماننا ہے کہ اربعین امام حسین علیہ السلام کی خصوصیات اور امتیازات میں سے ہے کیونکہ دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کے لیے اربعین منائے جانے کے حوالے سے روائی منابع میں کوئی معتبر اور مستند گزارش موجود نہیں ہے اور یہی امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اربعین قیامِ عاشورا کی نشانیوں اور امتیازات میں سے ہے اور یہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مختص ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس کے مقابلے میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ چہلم منانے کا اصل عمل امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مختص نہیں ہے اور دوسروں کے لیے بھی اربعین منایا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین ہر سال جاری رہی ہے اور شیعوں نے اس پر خصوصی اہتمام کیا ہے لیکن دیگر ائمہ علیہم السلام کے بارے میں ان کی شہادت کے بعد پہلے ہی سال چہلم منایا جاتا رہا ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے امورِ تحقیق کے سرپرست نے دونوں آراء میں تطبیق کو ممکن قرار دیتے ہوئے کہا: حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے لیے زیارتِ اربعین ایک شرعی عمل ہے جس کی سفارش کی گئی ہے اور یہ مؤکد مستحب ہے لیکن دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام یا دوسرے افراد کے لیے چہلم منانا اگرچہ شرعی اعتبار سے جائز اور مباح ہے لیکن اسے شرعی مستحبات میں، امام حسین علیہ السلام کی زیارتِ اربعین کے خصوصی مقام کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حجت الاسلام والمسلمین ترکاشوند نے حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے ساتھ زیارتِ اربعین کی خصوصیت کی اہم ترین حکمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: پہلی دلیل اس سنت کا مضبوط روائی پس منظر ہے، اس طرح کہ معصومین علیہم السلام کا قول، فعل اور تقریری تائید، تینوں اس عمل کے شرعی جواز اور استحباب پر دلالت کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’قولِ معصوم‘‘ کے حصے میں امام صادق علیہ السلام کی صفوان جمال کو زیارتِ اربعین پڑھنے کی معتبر روایت اور اسی طرح امام حسن عسکری علیہ السلام کی معروف روایت جس میں زیارتِ اربعین کو مؤمن کی پانچ نشانیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، اس مسئلے کے اہم ترین روائی شواہد میں شمار ہوتی ہیں۔
حوزہ علمیہ قم کے امورِ تحقیق کے سرپرست نے مزید کہا: ’’فعلِ معصوم‘‘ کے حوالے سے بھی اہل بیت علیہم السلام کی روزِ اربعین کربلا میں موجودگی، شہدائے عاشورا کی قبور کی زیارت اور امام سجاد علیہ السلام کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس کو ان کے مطہر جسد کے ساتھ ملحق کرنا، اہم تاریخی اور روائی شواہد میں شمار ہوتا ہے۔

استاد حوزہ علمیہ نے مزید کہا: ’’تقریرِ معصوم‘‘ کے حوالے سے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابی جابر بن عبداللہ انصاری کی عطیہ عوفی کے ہمراہ کربلا میں پہلے زائرین کی حیثیت سے آمد اور امام سجاد علیہ السلام کی جانب سے اس اقدام کی تائید، اہل بیت علیہم السلام کی جانب سے اس سنت کی تائید اور امضا کی نشاندہی کرتی ہے اور ان تمام شواہد کا مجموعہ زیارتِ اربعین کے استحباب کو ثابت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ تاریخی تحریک، ثقافتِ زیارت کی احیا، اہل بیت علیہم السلام سے محبت کے اظہار اور ظلم و ستم سے برائت کے اعلان کا نقطۂ آغاز تھی اور پوری تاریخ میں زیارتِ اربعین کا تسلسل، امت مسلمہ اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں کے درمیان مقاومت، عدل پسندی اور استکبار و ظلم کے خلاف جدوجہد کی روح کو زندہ رکھنے کا باعث ہے۔









آپ کا تبصرہ