حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کے دوران استاد و محقق حوزہ علمیہ قم حجۃ الاسلام والمسلمین سید علی حسینی نے اہل بیت علیہم السلام کی زیارت کی فضیلت بیان کرنے میں کتاب «کامل الزیارات» کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کتاب «کامل الزیارات» زیارت کے موضوع پر شیعہ حدیث کے معتبر ترین منابع میں سے ہے، جس میں تقریباً 750 روایات شامل ہیں اور ان میں سے قریب 500 روایات حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے فضائل، آداب، ثواب اور زیارت ناموں سے متعلق ہیں۔ یہ گراں قدر کتاب اب تک فارسی اور دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور ہمیشہ علماء و محققین کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
انہوں نے اس کتاب کی ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: «کامل الزیارات» کے باب چوالیس میں ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ان افراد کے مقام و مرتبے کو بیان کیا گیا ہے جو خود کربلائے معلیٰ جانے کی سعادت حاصل نہیں کر پاتے لیکن دوسروں کی زیارت کے لیے وسائل اور مقدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس باب کا عنوان «ثواب من زار الحسین علیہالسلام بنفسه أو جهز إلیه غیره» ہے، یعنی ان افراد کا ثواب جو خود امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتے ہیں یا دوسروں کے سفر کے مقدمات فراہم کرتے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے مزید کہا: اس روایت میں راوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان افراد کے اجر کے بارے میں سوال کیا جو دوسروں کی زیارت کے لیے اخراجات یا سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: «یُعْطِیهِ اللَّهُ بِکُلِّ دِرْهَمٍ أَنْفَقَهُ مِثْلَ أُحُدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ وَ یُخْلِفُ عَلَیْهِ أَضْعَافَ مَا أَنْفَقَهُ»؛ خداوند متعال امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی راہ میں خرچ کیے جانے والے ہر درہم کے بدلے کوہ اُحد کے برابر نیکی عطا فرماتا ہے اور اس کے خرچ کیے ہوئے مال سے کئی گنا زیادہ اسے واپس عطا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ زائرین حسینی کی خدمت اور ان کی زیارت کے لیے ضروری مقدمات فراہم کرنا خداوند متعال کے نزدیک نہایت قیمتی اعمال اور بے شمار اجر و ثواب کا باعث ہے۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے امام محمد باقر علیہ السلام کی ایک اور روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام فرماتے ہیں: «لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی زِیَارَةِ قَبْرِ الْحُسَیْنِ(ع) مِنَ الْفَضْلِ لَمَاتُوا شَوْقًا وَ تَقَطَّعَتْ أَنْفُسُهُمْ عَلَیْهِ حَسَرَاتٍ»؛ اگر لوگ امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کی فضیلت سے آگاہ ہو جائیں تو شدتِ شوق سے جان دے دیں اور ان کے دل حسرت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس روایت کے تسلسل میں امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص عشق، معرفت اور شوق کے ساتھ حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لیے مشرف ہو، خداوند متعال اس کے لیے ایک ہزار مقبول حج، ایک ہزار قبول شدہ عمرے اور اصحابِ بدر کے ایک ہزار شہداء کے برابر اجر و ثواب لکھ دیتا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے «کامل الزیارات» میں امام صادق علیہ السلام کی ایک اور حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام فرماتے ہیں: «إِنَّ زَائِرَ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ(ع) زَائِرُ رَسُولِ اللَّهِ(ص)»؛ بے شک حسین بن علی علیہ السلام کا زائر، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زائر ہے۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے مزید کہا: یہ حدیث خداوند متعال اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کے بلند مقام و مرتبے کو واضح کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت خداوند متعال، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے قربت کا ذریعہ ہے۔
محقق حوزہ نے ان افراد سے جو کربلائے معلیٰ میں حاضری کی استطاعت نہیں رکھتے، خطاب کرتے ہوئے کہا: اربعین میں کربلا نہ پہنچ پانے والے افراد بھی مساجد، متبرک مقامات اور امام زادگان کے مزارات میں حاضر ہو کر زیارت عاشورا کی تلاوت، دعا، حضرت ولی عصر امام مہدی علیہ السلام سے توسل اور حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کو دور سے سلام پیش کرکے ان ایام کی معنوی فیوض و برکات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ