جمعرات 28 مئی 2026 - 15:21
زیارت امام حسین علیہ السلام سے متعلق امام صادق علیہ السلام کی خصوصی تاکید

حوزہ/ اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ بالخصوص امام جعفر صادق علیہ السلام نے مختلف احادیث میں حالات، استطاعت اور فاصلے کے اعتبار سے زیارتِ سید الشہداء علیہ السلام کے مختلف مراتب بیان فرمائے ہیں۔ کہیں سال میں ایک یا دو مرتبہ زیارت کی تاکید ہے، کہیں ہر ماہ زیارت کی ترغیب دی گئی ہے، جبکہ دور رہنے والوں کے لئے دور سے سلام اور قلبی توجہ کو بھی عظیم اجر کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ بالخصوص امام جعفر صادق علیہ السلام نے مختلف احادیث میں حالات، استطاعت اور فاصلے کے اعتبار سے زیارتِ سید الشہداء علیہ السلام کے مختلف مراتب بیان فرمائے ہیں۔ کہیں سال میں ایک یا دو مرتبہ زیارت کی تاکید ہے، کہیں ہر ماہ زیارت کی ترغیب دی گئی ہے، جبکہ دور رہنے والوں کے لئے دور سے سلام اور قلبی توجہ کو بھی عظیم اجر کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

غنی اور مالدار افراد کے لئے سال میں دو بار اور فقیر کے لئے ایک بار زیارت

امام صادق(ع):

«حَقٌّ عَلَی الْغَنِیِّ أَنْ یَأْتِیَ قَبْرَ الْحُسَیْنِ ع فِی السَّنَةِ مَرَّتَیْنِ وَ حَقٌّ عَلَی الْفَقِیرِ أَنْ‏ یَأْتِیَهُ فِی السَّنَةِ مَرَّةً.»

(کامل الزیارات، ص 293)

ترجمہ:

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مالدار پر حق ہے کہ وہ سال میں دو مرتبہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے، جبکہ غریب کے لئے کم از کم سال میں ایک مرتبہ زیارت ضروری ہے۔

اگر استطاعت ہو تو ہر ماہ زیارت کرو

امام صادق(ع):

«یَا عَلِیُّ بَلَغَنِی أَنَّ قَوْماً مِنْ شِیعَتِنَا یَمُرُّ بِأَحَدِهِمُ السَّنَةُ وَ السَّنَتَانِ لَا یَزُورُونَ الْحُسَیْنَ...عَلِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ الصَّائِغِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع قَال‏: «یَا عَلِیُّ بَلَغَنِی أَنَّ قَوْماً مِنْ شِیعَتِنَا یَمُرُّ بِأَحَدِهِمُ السَّنَةُ وَ السَّنَتَانِ لَا یَزُورُونَ الْحُسَیْنَ. قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاکَ إِنِّی أَعْرِفُ أُنَاساً کَثِیرَةً بِهَذِهِ الصِّفَةِ. قَالَ أَمَا وَ اللَّهِ لِحَظِّهِمْ أَخْطَئُوا وَ عَنْ ثَوَابِ اللَّهِ زَاغُوا وَ عَنْ جِوَارِ مُحَمَّدٍ ص تَبَاعَدُوا قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاکَ فِی کَمِ الزِّیَارَةُ؟ قَالَ یَا عَلِیُّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تَزُورَهُ فِی کُلِّ شَهْرٍ فَافْعَلْ. قُلْتُ لَا أَصِلُ إِلَی ذَلِکَ لِأَنِّی أَعْمَلُ بِیَدِی وَ أُمُورُ النَّاسِ بِیَدِی وَ لَا أَقْدِرُ أَنْ أُغَیِّبَ وَجْهِی عَنْ مَکَانِی یَوْماً وَاحِداً قَالَ أَنْتَ فِی عُذْرٍ وَ مَنْ کَانَ یَعْمَلُ بِیَدِهِ وَ إِنَّمَا عَنَیْتُ مَنْ لَا یَعْمَلُ بِیَدِهِ مِمَّنْ إِنْ خَرَجَ فِی کُلِّ جُمُعَةٍ هَانَ ذَلِکَ عَلَیْهِ أَمَا إِنَّهُ مَا لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ عُذْرٍ وَ لَا عِنْدَ رَسُولِهِ مِنْ عُذْرٍ یَوْمَ الْقِیَامَةِ قُلْتُ فَإِنْ أَخْرَجَ عَنْهُ رَجُلًا فَیَجُوزُ ذَلِکَ؟ قَالَ نَعَمْ وَ خُرُوجُهُ بِنَفْسِهِ أَعْظَمُ أَجْراً وَ خَیْراً لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ یَرَاهُ رَبُّهُ سَاهِرَ اللَّیْلِ لَهُ تَعَبُ النَّهَارِ یَنْظُرُ اللَّهُ إِلَیْهِ نَظْرَةً تُوجِبُ لَهُ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَی مَعَ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِهِ. فَتَنَافَسُوا فِی ذَلِکَ وَ کُونُوا مِنْ أَهْلِهِ.»

(کامل الزیارات، ص 295)

ترجمہ:

علی بن میمون صائغ روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے علی! مجھے خبر ملی ہے کہ ہمارے بعض شیعوں پر ایک یا دو سال گزر جاتے ہیں اور وہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت نہیں کرتے۔ میں نے عرض کیا: مولا! ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ اپنے عظیم حصے سے محروم ہو گئے، ثوابِ الٰہی سے دور ہو گئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب سے محروم ہو گئے۔

میں نے عرض کیا: کس فاصلے سے زیارت کرنی چاہئے؟ فرمایا: اگر استطاعت رکھتے ہو تو ہر ماہ زیارت کرو۔

میں نے عرض کیا: میں اپنے ہاتھوں سے کام کرتا ہوں اور لوگوں کے امور بھی میرے ذمہ ہیں، اس لئے یہ ممکن نہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تم معذور ہو، اور وہ لوگ بھی معذور ہیں جو محنت مزدوری کرتے ہیں۔ میری مراد وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہر جمعہ زیارت پر جانا آسان ہے، لیکن پھر بھی نہیں جاتے۔ ایسے لوگوں کے پاس قیامت کے دن خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی عذر نہیں ہوگا۔

میں نے عرض کیا: اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کسی دوسرے کو بھیج دے تو کیا کافی ہے؟ فرمایا: ہاں، لیکن اگر خود جائے تو اس کا اجر کہیں زیادہ عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے زائر پر رحمت کی نظر فرماتا ہے، اسے فردوسِ اعلیٰ عطا کرتا ہے اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے ساتھ محشور فرماتا ہے۔ پس تم اس نیکی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اور اہلِ زیارتِ حسینؑ میں شامل ہو جاؤ۔

قریب والوں کے لئے ماہانہ اور دور والوں کے لئے ہر تین سال میں ایک بار زیارت

امام صادق(ع):

«لَا یَسَعُ أَکْثَرَ مِنْ شَهْرٍ وَ أَمَّا بَعِیدُ الدَّارِ فَفِی کُلِّ ثَلَاثِ سِنِینَ..صَفْوَانَ بْنِ مِهْرَانَ الْجَمَّالِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع فِی حَدِیثٍ طَوِیل‏: «قُلْتُ لَهُ مَنْ یَأْتِیهِ زَائِراً ثُمَّ یَنْصَرِفُ مَتَی یَعُودُ إِلَیْهِ وَ فِی کَمْ یَوْمٍ یُؤْتَی وَ کَمْ یَسَعُ النَّاسَ تَرْکُهُ قَالَ لَا یَسَعُ أَکْثَرَ مِنْ شَهْرٍ وَ أَمَّا بَعِیدُ الدَّارِ فَفِی کُلِّ ثَلَاثِ سِنِینَ فَمَا جَازَ ثَلَاثَ سِنِینَ فَلَمْ یَأْتِهِ فَقَدْ عَقَّ رَسُولَ اللَّهِ ص وَ قَطَعَ حُرْمَتَهُ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ.»

(کامل الزیارات، ص 296)

ترجمہ:

صفوان جمال روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: جو شخص زیارت کے بعد واپس آ جائے، وہ کتنے عرصے بعد دوبارہ زیارت کرے؟ اور لوگ کتنی مدت تک زیارت ترک کر سکتے ہیں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: قریب رہنے والوں کے لئے ایک ماہ سے زیادہ زیارت ترک کرنا مناسب نہیں، جبکہ دور رہنے والوں کو کم از کم ہر تین سال میں ایک بار زیارت ضرور کرنی چاہئے۔ اگر کوئی شخص تین سال سے زیادہ مدت تک بلا عذر زیارت ترک کرے تو گویا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت کو پامال کیا۔

دور سے روزانہ زیارت اور سلام کا عظیم اجر

امام صادق(ع):

«یَا سَدِیرُ تَزُورُ قَبْرَ الْحُسَیْنِ ع فِی کُلِّ یَوْمٍ..عَنْ حَنَانٍ عَنْ أَبِیهِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏: «یَا سَدِیرُ تَزُورُ قَبْرَ الْحُسَیْنِ ع فِی کُلِّ یَوْمٍ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاکَ لَا قَالَ فَمَا أَجْفَاکُمْ قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِی کُلِّ جُمْعَةٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِی کُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَتَزُورُونَهُ فِی کُلِّ سَنَةٍ قُلْتُ قَدْ یَکُونُ ذَلِکَ قَالَ یَا سَدِیرُ مَا أَجْفَاکُمْ لِلْحُسَیْنِ ع أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَلْفَیْ أَلْفِ مَلَکٍ شُعْثٌ غُبْرٌ یَبْکُونَ وَ یَزُورُونَ لَا یَفْتُرُونَ وَ مَا عَلَیْکَ یَا سَدِیرُ أَنْ تَزُورَ قَبْرَ الْحُسَیْنِ ع فِی کُلِّ جُمْعَةٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ وَ فِی کُلِّ یَوْمٍ مَرَّةً قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاکَ إِنَّ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُ فَرَاسِخَ کَثِیرَةً فَقَالَ لِی‏ اصْعَدْ فَوْقَ‏ سَطْحِکَ‏ ثُمَ‏ تَلْتَفِتُ‏ یَمْنَةً وَ یَسْرَةً ثُمَ‏ تَرْفَعُ‏ رَأْسَکَ‏ إِلَی‏ السَّمَاءِ ثُمَ‏ انْحُ‏ نَحْوَ الْقَبْرِ وَ تَقُولُ‏- السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکَاتُهُ تُکْتَبُ لَکَ زَوْرَةٌ وَ الزَّوْرَةُ حَجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ قَالَ سَدِیرٌ فَرُبَّمَا فَعَلْتُ فِی الشَّهْرِ أَکْثَرَ مِنْ عِشْرِینَ مَرَّةً.»

(مرآة العقول، ج18، ص319)

ترجمہ:

امام صادق علیہ السلام نے سدیر سے فرمایا: اے سدیر! کیا تم ہر روز امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتے ہو؟

انہوں نے عرض کیا: نہیں۔

فرمایا: تم لوگ کتنی جفا کرتے ہو! کیا ہر جمعہ زیارت کرتے ہو؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: ہر ماہ؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: ہر سال؟ عرض کیا: کبھی کبھار۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کتنی بے وفائی کرتے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کے دو ملین فرشتے گرد آلود بالوں اور غم زدہ حالت میں مسلسل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتے اور گریہ کرتے رہتے ہیں؟

پھر فرمایا: اگر تم دور ہو تو اپنے گھر کی چھت پر چڑھو، دائیں بائیں نگاہ کرو، پھر آسمان کی طرف سر اٹھاؤ اور اس کے بعد کربلا کی سمت متوجہ ہو کر کہو:

«السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکَاتُهُ»

امام علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے لئے ایک زیارت کا ثواب لکھا جائے گا، اور ہر زیارت کا ثواب ایک حج اور ایک عمرہ کے برابر ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha