حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ وحدت مسلمین ضلع شرقی شعبۂ تربیت، دعا کمیٹی پاکستان اور اہلیانِ سولجر بازار کراچی کی جانب سے شہادت امام حسن عسکریؑ اور اہل حرم ؑ کی مدینہ واپسی کے سلسلے میں تین روزہ سالانہ مرکزی الوداعی مجالسِ عزاء کا سلسلہ خراسان روڈ سولجر بازار پر جاری ہے۔
سلسلہء مجالس کے دوسرے روز "کربلائے عصر اور ہماری ذمہ داریاں" کے عنوان پر مولانا مختار احمد امامی نے شرکائے مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اہل ایمان کا تذکرہ اور ان کی توصیف بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید اور اہلیبیتؑ دین اسلام کے خدمت گزاروں کے قدر دان ہیں۔ قرآن و سنت پر عمل کا تقاضا ہے کہ منبر سے شہید رہبر آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی عظمت بھی بیان ہو اور ہر اس شخص کا ذکر ہو جو راہ حسینیؑ کا سچا پیروکار ہے۔ رہبرِ شہید اور شہدائے راہ حق نے امام زمانہؑ کی راہ ہموار کی ہے۔
شہداء کی اہم خوبی اخلاص ہے اور اخلاص ہی خدا کی بارگاہ میں عمل کی قبولیت کا باعث بنتا ہے۔
مولانا مختار احمد امامی کا کہنا تھا کہ رسول گرامیؐ کی حدیث کے مطابق اگر لوگ امام علیؑ کی ولایت کو قبول کرلیتے تو خدا جہنم کو ہی خلق نہ کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں گمراہی کی وجہ ولایت امام علیؑ سے روگرانی ہے۔ ولایت امام علیؑ کو نہ ماننے کے نتیجے میں امت اسلامیہ پر 50 سالوں میں ہی یزید مسلط ہوگیا۔
مولانا مختار احمد امامی نے کہا کہ اس وقت مردہ معاشرے میں صرف امام حسینؑ تھے جنہوں نے یزید کے خلاف آواز اٹھائی۔ خوف کے ماحول میں امام حسینؑ نے بولنے کا درس دیا۔
ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ یزیدیت کے خلاف بولنے والوں کو عزت اور خاموش رہنے والوں کو ذلت ملتی ہے۔ وہ لوگ جو خاموش رہے انھیں بعد میں ذلت کا سامنا رہا اور واقعہ کربلا کے بعد واقعہ حرہ میں ان کا ایمان اور عزت محفوظ نہ رہی۔









آپ کا تبصرہ