حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پنجاب کے فوکل پرسن قاسم علی قاسمی نے واضح کیا ہے کہ تحفظ عزاداری کے لیے احتجاج ہو یا حکومت سے مذاکرات، شیعہ علماء کونسل پر عزم اور تیار ہے۔ ہم عوامی قوت اور آئین پاکستان پر یقین رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پنجاب پاکستان کے تینوں صدور علامہ اشتیاق حسین کاظمی، سید ساجد حسین نقوی اور علامہ عامر عباس ہمدانی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کو خطوط لکھے اور خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر احتجاج کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔
پریس کانفرنس میں احتجاج کا اعلان کیا تو حکومت کی طرف سے مثبت رابطے پر 2 اگست اور پھر 16 اگست احتجاج کی کال واپس لی گئی۔
پنجاب حکومت سے جائز مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد ان پر جلد عملی اقدامات کی امید رکھتے ہیں۔
مطالبات کے حل سے نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان پر عمل درآمد ہوگا اور اس سے عزاداروں میں وطن سے محبت مزید بڑھے گی۔
انہوں نے کہا حکومت سے 20 اگست کو دوبارہ اجلاس میں مذاکرات کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی چند دن پہلے یومِ آزادی کا جشن منایا گیا، ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شہری کو اپنے نظریے اور عقیدے کے مطابق عبادات او رسومات ادا کرنے کا حق ہے۔ مگر افسوس آج ہم قائد اعظم کے اس فرمان کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ قائد اعظم کے ہم مسلک اہل تشیع پر پاکستان خصوصاً پنجاب میں آزادانہ مجالس وعزاداری پر پابندی ہے۔ اپنی عبادت کے بجالانے پر ایف آئی آرز، نظربندی اور فورتھ شیڈول کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عملی طور پر آئین میں موجود شہری اور مذہبی آزادی بھی ساقط کردی گئی ہے، مگر ہم عزاداری کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔









آپ کا تبصرہ