حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 19 اگست، عالمی یوم انسانیت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: عالم انسانیت جس کرب، اذیت اور جنونی عفریت کا شکار ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن کہنے والوں نے انسانیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، کم سن بچوں کو روند ڈالا، اسپتالوں، عبادت گاہوں، بازاروں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔ انسانیت کے روپ میں چھپے سامراجی و صہیونی درندوں کے باعث ہر طرف آگ اور خون کا راج ہے، مگر افسوس کہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکے۔
انہوں نے کہا: سنہ 2008ء سے یہ دن فلاحی خدمات انجام دینے والوں اور مشکلات میں گھرے انسانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جا رہا ہے، مگر افسوس کہ گزشتہ صدی سے شروع ہونے والا ظلم 21ویں صدی کے ابتدائی 26 برسوں میں اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس کے باوجود اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے اور دیگر عالمی تنظیمیں مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
قائد ملت جعفریہ نے کہا: آج خود اقوام متحدہ کو اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ انسانی اقدار کے تحفظ اور انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا گیا یا نہیں، یا پھر پہلے سے کہیں زیادہ انسان عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا: فلسطین، کشمیر، افغانستان، شام، لبنان، لیبیا، عراق، صومالیہ سمیت دیگر ممالک میں ایسے کون سے مظالم ہیں جو نہیں ڈھائے گئے؟ ایران پر کس انداز سے جارحیت مسلط کی گئی اور آج تک یہ سامراجی و صہیونی گٹھ جوڑ ظلم کی اس تاریک رات کو طاری کیے ہوئے ہے، مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: اگر ظلم کے اس ہاتھ کو نہ روکا گیا تو دنیا میں امن، انسانیت اور رواداری فقط الفاظ اور کتابی باتوں تک محدود ہو جائے گی اور امن کی خواہش کوسوں دور ہو جائے گی۔ آج کم سن بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بنیادی انسانی ڈھانچے اور تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ایک کے بعد ایک ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایک بار پھر بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کے بجائے طاقت (پاور) کا نظریہ پروان چڑھایا جا رہا ہے، جس کے نتائج انسانی وقار، تہذیب اور امن کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔









آپ کا تبصرہ