حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے دہشت گردی سے متاثرہ افراد، مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین اور غلام تجارت کے خاتمے سے متعلق عالمی ایام کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مذہب انسانی وقار کی بلندی، فلاح اور باہمی مساوات کے آفاقی پیغام کا نام ہے۔
انہوں نے کہا: انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے مگر ہر دور میں ایک نئے انداز میں انسان کو غلام بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔ اب فرد کی غلامی کی جگہ اس سے بھی سخت قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے تو دوسری طرف انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کرکے اس کے شعور پر حملہ کیا جا رہا ہے اور اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھینا جا رہا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: دینِ الٰہی انسانیت کے لیے بہترین راستہ ہے جس نے نہ صرف غلامی کی مذمت اور اس کے خاتمے کا جواز فراہم کیا بلکہ قیامت تک انسانیت کی رہنمائی بھی فرمائی ہے۔
انہوں نے مذہبی اعتقادات کی بنیاد پر تشدد کے حوالے سے کہا: مذہبی اعتقادات یا بنیادی عقائد اپنی اصل میں وہ نہیں ہوتے جس طرح ان کی تشریحات و تعبیرات کر کے عملی میدان میں اپنے انداز سے نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بنیادی عقائد کی تشریح و توجیہ مختلف انداز میں ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ شدت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ مخالف نظریہ رکھنے والا نشانہ بن جاتا ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: یہی عمل جسے آج دنیا ’’انتہا پسندی‘‘ کا نام دیتی ہے، عملی شکل اختیار کرتا ہے اور اسی سے دہشت گردی جنم لیتی ہے جس کی مہذب معاشرے میں کسی بھی صورت گنجائش نہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی مساوات اور بنیادی حقوق پر قرار دیتے ہوئے کہا: انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی مساوات اور بنیادی حقوق پر سب کے حق کے اہم ترین بیانیہ پر ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں اسی سوچ کے سبب فتوے دیے گئے اور ایک عرصے تک تکفیر کا بازار گرم رہا جس سے تشدد نے جنم لیا اور سینکڑوں خاندان اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا: ہر دور میں انسان کو ایک نئے انداز میں غلامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فرد کی غلامی کی جگہ سخت قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے جو پہلے درجے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا: اب ایک نئے ڈیجیٹل انداز میں انسانی ذہن کو مفلوج کر کے اس کے شعور پر حملے شروع ہو چکے ہیں اور اس کے سوچنے، سمجھنے اور جینے تک کا حق خاموشی سے چھینا جا رہا ہے۔ انسانی رویوں اور انسانی قدروں کو جب تک بحال نہیں کیا جائے گا، نئے چیلنجز سے آنے والی نسلوں کا تحفظ ممکن نہیں ہو گا۔









آپ کا تبصرہ