تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
وہ ذات جس کے ذکر سے آسمانِ وحی روشن ہوا، جس کے قدموں کی چاپ سے مدینہ کی گلیاں معطر ہوئیں، جس کی نگاہِ رحمت نے انسانیت کو زندگی کا سلیقہ عطا کیا، جس کے لبوں سے نکلنے والا ہر حرف وحی کا ترجمان بنا—اس ذاتِ اقدس کا مکمل تعارف اگر کسی ایک کتاب میں تلاش کیا جائے تو وہ قرآن ہے۔
قرآن نے محمد ص کی تصویر کسی ایک آیت میں نہیں بنائی؛ بلکہ آیتوں کے جھرمٹ میں آپ ص کی ذات کا ایسا آئینہ قائم کیا ہے کہ کہیں چہرے کا نور محسوس ہوتا ہے، کہیں آنکھوں کی عظمت، کہیں زبان کی صداقت، کہیں قدموں کی متانت، کہیں دل کی وسعت، کہیں زلفوں کی لطافت اور کہیں دعاؤں میں امت کی تڑپ۔
گویا قرآن کی ہر آیت کہہ رہی ہے:
یہ محمد ص ہیں!
ولادت سے پہلے ہی رب کی نگاہ میں
وہ ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے، مگر آسمانِ ہدایت ان کے انتظار میں تھا۔ انبیاء کی بشارتوں کا سلسلہ ان کے ظہور پر منتج ہوا:
﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾
اور جب وہ آئے تو آسمان کی بشارت زمین پر مجسم ہوگئی۔
یتیمی، مگر رب کی کفالت
جس بچے کے سر سے باپ کا سایہ پہلے ہی اٹھ چکا تھا، اس کے بارے میں قرآن نے فرمایا:
﴿أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى﴾
وہ یتیم تھا، مگر بے آسرا نہیں تھا؛
وہ تنہا تھا، مگر خدا کی آغوشِ رحمت میں تھا۔
سینۂ محمد ص
پھر جب وحی کے بوجھ نے سینۂ اقدس کو وسعت چاہی تو رب نے فرمایا:
﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾
یہ وہ سینہ تھا جس میں پوری انسانیت کی فکر سما گئی؛
جس میں امت کا غم بھی تھا اور جہانوں کے لیے رحمت بھی۔
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾
محمد ص کی چال
جب وہ چلتے تو تکبر نہیں، وقار چلتا تھا۔ قرآن نے بندگانِ رحمان کی چال کا اصول بیان کیا:
﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾
زمین پر قدم پڑتے تھے مگر زمین سے غرور نہیں اٹھتا تھا۔
لباسِ محمد ص
لباس صرف بدن کو نہیں ڈھانپتا، کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے وحی نے فرمایا:
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾
لباس پاک، بدن پاک، کردار پاک، مقصد پاک اور پوری زندگی پاکیزگی کا پیکر!
محمد ص کی آواز
وہ آواز جو دلوں کو بدلنے آئی تھی، اسے قرآن نے ادبِ گفتگو کا درس دیتے ہوئے ایک میزان عطا کیا:
﴿وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ﴾
اور امت کو حکم دیا:
﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾
کیونکہ یہ صرف ایک آواز نہ تھی؛
یہ وحی کے ترجمان کی آواز تھی۔
محمد ص کی زبان
وہ زبان جس پر جھوٹ کا سایہ تک نہ آیا:
﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾
زبان محمد ص کی، مگر کلام وحی کا!
محمد ص کی آنکھیں
معراج کی وہ رات، جب نگاہ نے عالمِ ملکوت کا مشاہدہ کیا، قرآن نے اس نگاہ کی عظمت کو دو لفظوں میں محفوظ کر دیا:
﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى﴾
نگاہ نہ بھٹکی، نہ حد سے بڑھی۔
یہ وہ آنکھیں تھیں جو عرش کے جلووں کو دیکھ سکتی تھیں، مگر امت کے غم میں بھیگ جاتی تھیں۔
محمد ص کی پلکوں کا حجاب
وہ نگاہ جو نامحرم پر نہیں اٹھتی تھی، جس میں حیا بھی تھی اور عصمتِ نظر بھی؛ قرآن نے اہلِ ایمان کو حکم دیا:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾
اور رسولِ خدا ص کی حیاتِ طیبہ اس قرآنی ادب کا عملی نمونہ تھی۔
محمد ص کا چہرۂ نور
قرآن نے اگرچہ جسمانی خدوخال کی تفصیل بیان نہیں کی، مگر اس نورانی چہرے کی معنوی تجلی یوں بیان کی:
﴿وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾
وہ چراغِ منیر تھے؛
جس نے تاریکیوں میں راستہ دکھایا۔
محمد ص کے گلابی رخساروں سے زیادہ، رحمت کا چہرہ
اگر چہرے کا حسن دیکھنا ہو تو قرآن نے جسمانی رنگ سے آگے بڑھ کر کردار کا حسن دکھایا:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
حسنِ صورت اپنی جگہ، مگر حسنِ سیرت وہ عظمت ہے جس کی گواہی خود ربِ محمد ص دے رہا ہے۔
محمد ص کے زلفِ دراز
قرآن نے رسولِ اکرم ص کے بالوں کی لمبائی کو صراحتاً موضوع نہیں بنایا، مگر قرآن کا کمال یہ ہے کہ اس نے جسمانی تفصیل کے بجائے اس جمال کو بیان کیا جس کے سامنے جسمانی حسن بھی ثانوی ہوجاتا ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
یعنی جس ذات کا اخلاق عظیم ہو، اس کے ظاہری جمال کا ہر پہلو اسی عظمت کے نور میں دیکھا جائے۔
محمد ص کے دانتِ مبارک
قرآن نے دندانِ مبارک کی صراحت نہیں کی، لیکن تبسمِ محمد ص کے پیچھے جو رحمت تھی، اسے یوں بیان کیا:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ﴾
آپ ص کی مسکراہٹ میں بھی رحمت تھی، لہجے میں بھی رحمت، خاموشی میں بھی رحمت اور ملاقات میں بھی رحمت۔
محمد ص کا ہاتھ
وہ ہاتھ جو اللہ کی راہ میں اٹھا، وہ بھی خدا کی نصرت کا مظہر بن گیا:
﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَى﴾
تیر محمد ص نے پھینکا، مگر اثر اللہ نے پیدا کیا۔
محمد ص کے قدم
وہ قدم جو مکہ کی وادیوں سے مدینہ تک پہنچے، وہ قدم جو طائف کی گلیوں سے گزرے، وہ قدم جو مسجدِ اقصیٰ تک گئے، وہ قدم جو معراج کے سفر پر روانہ ہوئے—قرآن نے ان قدموں کے سفر کو ایک عظیم مقصد سے وابستہ کیا:
﴿لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾
یہ قدم صرف چلتے نہیں تھے؛
جہالت سے معرفت کی طرف تاریخ کو چلاتے تھے۔
محمد ص کا دل
امت کا غم دلِ محمد ص میں کس قدر تھا، قرآن نے خود فرمایا:
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾
تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے؛
وہ تمہاری بھلائی کے حریص ہیں؛
مومنوں پر رؤوف و رحیم ہیں۔
محمد ص کی دعا
وہ دعا جو اپنے لیے کم اور امت کے لیے زیادہ تھی، اس کی روح قرآن کے ان الفاظ میں محسوس ہوتی ہے:
﴿وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ﴾
اور رب نے اپنے محبوب کو وہ مقام عطا کیا کہ ان کی دعا کے بارے میں فرمایا:
﴿وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ﴾
آپ ص کی دعا صرف دعا نہ تھی؛
دلوں کے لیے سکون تھی۔
محمد ص کی رحمت
آپ کی پوری بعثت کا خلاصہ ایک آیت میں:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾
نہ صرف عرب کے لیے،
نہ صرف مسلمانوں کے لیے،
بلکہ لِلْعَالَمِينَ۔
محمد ص کا اخلاق
اگر پوچھو محمد ص کی سب سے بڑی ظاہری و باطنی زینت کیا تھی؟
قرآن جواب دیتا ہے:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
یہاں حسن کا پیمانہ بدل گیا؛
چہرے سے کردار تک،
جسم سے روح تک،
صورت سے سیرت تک۔
محمد ص کا مقام
آپ صرف نبی نہیں:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾
رسول اللہ بھی،
خاتم النبیین بھی۔
محمد ص کی حفاظت
دنیا کی کوئی طاقت آپ ص کے مشن کو روک نہ سکی، کیونکہ رب نے فرمایا:
﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾
لوگوں سے آپ کی حفاظت اللہ کے ذمہ تھی۔
محمد ص کی شہادت کا غم
جب رسولِ خدا ص دنیا سے پردہ فرمانے کے قریب ہوئے تو قرآن نے پہلے ہی امت کو حقیقت سے آشنا کر دیا تھا:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾
محمد ص رسول ہیں؛
ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔
مگر محمد ص کا جسمِ اقدس دنیا سے رخصت ہوا تو آپ کا ذکر دنیا سے رخصت نہیں ہوا، کیونکہ خود رب نے فرمایا:
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾
آپ کا ذکر ہم نے بلند کیا۔
اور آج بھی اذان میں محمد ص، نماز میں محمد ص تشہد میں محمد ص، درود میں محمد ﷺ اور مؤمن کے دل میں محمد ص
اختتام
یوں قرآن کے اوراق پلٹتے جاؤ تو کہیں:
﴿أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى﴾
میں بچپن کا محمد ص ملتا ہے۔
کہیں:
﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾
میں سینۂ محمد ص کی وسعت ملتی ہے۔
کہیں:
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾
میں پاکیزگیِ محمد ص نظر آتی ہے۔
کہیں:
﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى﴾
میں نگاہِ محمد ص کا کمال دکھائی دیتا ہے۔
کہیں:
﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى﴾
میں زبانِ محمد ص کی صداقت سنائی دیتی ہے۔
کہیں:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
میں اخلاقِ محمد ص کا سمندر ملتا ہے۔
کہیں:
﴿بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾
میں قلبِ محمد ص کی دھڑکن سنائی دیتی ہے۔
اور آخر میں:
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾
تو معلوم ہوتا ہے کہ محمد ص دنیا سے رخصت ہوئے ہیں،
مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کبھی رخصت نہیں ہوگا۔
قدموں کی آہٹ خاموش ہوگئی،
مگر قرآن میں ان قدموں کے نقوش باقی ہیں۔
لب خاموش ہوگئے،
مگر وحی میں ان کے کلمات باقی ہیں۔
چشمِ اقدس دنیا سے اوجھل ہوگئی،
مگر قرآن میں اس نگاہ کا نور باقی ہے۔
جسمِ اطہر پردۂ خاک میں چلا گیا،
مگر آسمانِ قرآن پر ذاتِ محمد ص آج بھی آیتوں کے جھرمٹ میں روشن ہے۔
ولادت صادقین آپ کو بہت بہت مبارک ہو
قرآنی حوالہ جات
﴿أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى﴾ — سورۃ الضحیٰ، 93:6
﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ — سورۃ الشرح، 94:1
﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾ — سورۃ الفرقان، 25:63
﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ — سورۃ المدثر، 74:4
﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ — سورۃ الحجرات، 49:2
﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ — سورۃ النجم، 53:3-4
﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ﴾ — سورۃ النجم، 53:17
﴿وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾ — سورۃ الأحزاب، 33:46
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾ — سورۃ القلم، 68:4
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ﴾ — سورۃ آل عمران، 3:159
﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ﴾ — سورۃ الأنفال، 8:17
﴿لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ — سورۃ ابراہیم، 14:1
﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ... بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ — سورۃ التوبہ، 9:128
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ — سورۃ الأنبیاء، 21:107
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ — سورۃ الأحزاب، 33:40
﴿وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ — سورۃ المائدہ، 5:67
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ — سورۃ آل عمران، 3:144
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ — سورۃ الشرح، 94:4
﴿وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ — سورۃ الصف، 61:6









آپ کا تبصرہ