اتوار 30 اگست 2026 - 13:29
امتِ مسلمہ کی کامیابی کی پہلی شرط اتحادِ کلمہ ہے

حوزہ/ رہبرِ انقلاب اسلامی نے ہفتہ وحدت کے موقع پر اپنے پیغام میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو قرآنی حکمتِ عملی اور اسلامِ نابِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیادی تعلیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی کفر کے مقابلے میں مسلم امہ کا اتحاد ہی اسلام کی عزت و سربلندی اور حق کے باطل پر غلبے کی پہلی شرط ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلاب اسلامی نے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے ملتِ ایران اور امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں سیرتِ نبوی کو ہدایت، بندگی، معرفت، اخلاق، عدل، عزت، جہاد، رحمت اور اتحاد کا جامع نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ اس وقت تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور مسلمانوں کے لیے عالمی کفر کے مقابلے میں مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کرنے کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے سب سے بنیادی شرط مسلمانوں کا اتحاد اور باہمی بھائی چارہ ہے۔

مکمل بیان حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم

«مُحمّدٌ رَسولُ ‌الله وَالّذینَ مَعَهُ اَشِّداءُ عَلی الکُفّارِ رُحَماءُ بَیْنَهُم»

نیرِ اعظم، اشرفِ خلائق، سراجِ منیر، برگزیدہِ خدا، شہرِ علم، حضرت رحمۃ للعالمین، رسولِ مکرمِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے پاکیزہ سیرت و پاک طینت فرزند، حجتِ بالغہ الہیہ، حضرت امام جعفر صادق صلوات اللہ و سلامہ علیہ کے ایامِ ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے میں ملتِ شریفِ ایران اور عظیم امتِ اسلامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جس وقت سے خورشیدِ وجودِ حضرت ختمی مرتبت مکہ مکرمہ میں طلوع ہوا، انسانی سعادت کے افق—جو بارگاہِ حق جل و علا کی کامل بندگی اور اطاعت سے وابستہ ہے—میں ایک نئی درخشندگی پیدا ہوئی۔ انبیاء کی ارواح، فرشتے اور مقربینِ الٰہی سرور و شادمانی میں غرق ہو گئے، جبکہ انسانوں اور جنوں کے شیاطین غیظ و غضب، حسرت اور رنج میں انگلیاں چبانے لگے۔

اس لیے کہ تمام غیر محدود عوالمِ خلقت میں اللہ تعالیٰ کی سب سے برتر مخلوق نے اس خاکدانِ گیتی پر قدم رکھا تھا اور عنقریب وہ نبوت و خاتمیت کے شرف اور قرآنِ عظیم کو اپنے مبارک ہاتھوں میں لے کر، انسان کی ہمہ جہت ہدایت کے مشن کے ساتھ، عظیم انسانی کارواں کو بندگی اور خدا کی طرف تکامل کے سفر پر گامزن کرنے والے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے معصوم اوصیاء کی پوری زندگی ہدایت و بندگی، معرفت و محبت، عقیدہ و جہاد، بہترین انفرادی و اجتماعی اخلاق، امانت و صداقت، عزت و کرامت، علم و عمل، رحمت و عزم، قسط و عدل اور وحدت و بھائی چارے کا درس ہے۔ یہ اسباق جتنی بہتر طور پر سیکھے جائیں گے اور ان پر عمل کیا جائے گا، بنی نوع انسان کے لیے سعادت اور خوش بختی کی بلندیوں تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔

ہمارا پختہ یقین ہے کہ پیغمبرِ رحمت کی روحِ مطہر اور اسی طرح اوصیاء و ائمہ اطہار (صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم اجمعین) کی ارواحِ طیبہ ہمیشہ مسلمانوں اور اسلامی معاشرے کے احوال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ان کی راہنمائی فرماتی ہیں اور ان پر مہربان ہیں۔ جب اس مہربان اور عظیم باپ کی اولاد سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو آپ کا دل رنجیدہ ہوتا ہے، اور جب بھی مسلمان ان کے اسباق اور فرامین پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو آپ کا قلبِ مبارک مسرور ہو جاتا ہے۔ اب اسلام اور اہلِ اسلام ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک کے تمام سخت اور پرآشوب ادوار اور نشیب و فراز کو طے کرنے کے بعد ایک فیصلہ کن اور تقدیر ساز مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔

آج مسلمان انتہائی مؤثر اور تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج وہ دن ہے جب حق کے باطل پر اور اسلام کے کفر پر حتمی غلبے کا امکان ماضی کے تمام ادوار کی نسبت کہیں زیادہ حقیقت کے قریب آ چکا ہے۔ اس اہم امر کی پہلی شرط مسلمانوں کے درمیان اتحادِ کلمہ ہے۔

عالمی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کا اتحاد ایک قرآنی حکمتِ عملی اور اسلامِ نابِ محمدی (صلوات اللہ و سلامہ علیہ و آلہ) کی بنیادی تعلیم ہے، کوئی سطحی اور وقتی معاملہ نہیں۔ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں عمومی سطح پر تمام مسلمانوں کے مشترکہ نکات کو اصل اور بنیاد بنایا جائے۔ البتہ منطق و استدلال کی بنیاد پر، بھائی چارے اور یکجہتی کے تمام تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے، اور قرآنی تعلیمات کے مطابق، پرامن اور دوستانہ ماحول میں اختلافی نکات کو باہمی اشتراک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

یہ بات مسلم ہے کہ اسلامی معاشروں کے تمام مسلمانوں کو عالمی کفر کا سامنا کرتے ہوئے قرآنی اصول «اَشِدّاءُ عَلی الکُفّار، رُحَماءُ بَیْنَهُم» (کفار پر سخت اور آپس میں مہربان) کو اپنی فکر، گفتار اور کردار کا محور بنانا چاہیے؛ اور اسی طرح اسلامی وحدت و اتحاد حاصل ہو سکتا ہے۔ اس آسمانی پیغام کا کوئی بھی حصہ مسلمانوں کے عمل سے دور ہوا تو وہ اس عزت و وقار کے مقام سے بھی دور ہو جائیں گے جو انہوں نے مدینۃ الاسلام میں حق کے ساتھ حاصل کیا تھا—اور یہ ایک اٹل قانون ہے۔ یہ قاعدہ انقلابِ اسلامی کے بنیادی اصولوں اور پیغامات میں سے ایک ہے۔

پہلے ہفتہ وحدت کے انعقاد کی تاریخ اسفند 1356 ہجری شمسی (مارچ 1978ء) اور پہلوی ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کے دور سے جا ملتی ہے؛ جب عظیم المرتبت قائدِ شہید (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) نے ایرانشہر میں اپنے جلاوطنی کے دور میں یہ فکر پیش کی تھی، جس کا شیعہ اور سنی دونوں نے خیرمقدم کیا۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے فوراً بعد بانیِ انقلابِ اسلامی حضرت امام خمینی (قدس سرہ الشریف) کی تدبیر سے "ہفتہ وحدت" کو سرکاری حیثیت حاصل ہوئی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان قوم کے افراد کے درمیان وحدت کا مسئلہ ایرانی قوم کے اندر ایک کامیاب نمونہ بن چکا ہے اور دشمنوں کی سازشیں اس کو نقصان پہنچانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔ لیکن بلاشبہ بدخواہ ہمیشہ اس عظیم نعمت پر نقب لگانے کی تاک میں رہتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha